مقدمہ
تاریخ التاریخ
بابل و نینوا کے کھنڈرات‘ ریگستان نجد میں عاد ارم کے ستون‘ مصر کے اہرام‘ بت بامیان وغیرہ کو دیکھ کر ان کے بنانے والوں کا حال معلوم کرنے کی خواہش انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے‘ لوگوں کے بابلیوں کے حالات لکھنے کی کوشش کی ہے اور اپنی ناتمام درایت کی بنا پر بہت سی روایتیں جمع کر لی ہیں‘ عجیب درعجیب قسم کے حروف اور مصری علامات سے عبارتیں اور بانیاں اہرام کے حالات مرتب کئے جا سکتے ہیں۔
ژندوا وستا‘ دساتیرہ سفرتگ ‘ موجودہ صحائف و بائیبل المیکی راماین‘ مہابھارت ایسی کتابیں ہیں جن سے کچھ غلط صحیح حالات معلوم ہو سکتے ہیں‘ ہر ایک زبان کے محاورات و ضرب الامثال‘ پتھر کے ہتھیار‘ لوہے کے اوزار‘ چاندی‘ سونے‘ تانبے وغیرہ کے زیورات‘ پتھر کی مورتیں‘ مصر کی محفوظ لاشیں‘ اشوک کی لاٹھیں‘ ایلورا کے مغارات‘ اصنام سار ناتھ‘ وسانچی‘ خرابہ اسطخر‘ تخت رستم‘ دیوار چین وغیرہ یہ سب کچھ مل ملا کر دلچسپی کا سامان ہے اور اس سامان سے اگرچہ ربع مسکون پر پوری اور حسب ضرورت روشنی نہیں پڑتی تاہم کہیں کہیں ہلکی اور مدہم تاریخی شعاعیں نظر آ جاتی ہیں‘ ہندیوں کی جھوٹی سچی کہانیاں‘ مصریوں کے پرانے کتبے‘ چینیوں کی روایات قدیمہ‘ ایرانیوں کے کھنڈر‘ یونانیوںکی تحریریں بالخصوص ہیروڈوٹس کی تصنیف۔ اسرائیلی روایات‘ عربی اخلاق‘ یہ تمام مجموعہ تاریخ کا ایک ضروری اور ابتدائی حصہ ہے۔