ہجرت کا نواں سال

لشکر اسلام کی روانگی

غرض ماہ رجب ۹ ھ میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم تیس ہزار کا لشکر لے کر مدینہ سے روانہ ہوئے‘ مدینہ سے ایک گھنٹہ کی مسافت کے فاصلے پر ایک بستی ذی اوان میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم پہنچے تھے کہ منافقین نے آ کر عرض کیا کہ ہم نے ایک مسجد بنائی ہے‘ ہماری خواہش ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم چل کر نماز ادا کریں‘ تاکہ وہ مسجد بھی قابل تعظیم سمجھی جانے لگے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں اس وقت سفر کی تیاری میں مصروف ہوں واپسی کے وقت دیکھا جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ سے نکل کرثنیتہ الوداع نامی پہاڑی پر معسکر قائم کیا اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ انصاری کو مدینہ کا عامل مقرر فرمایا‘ منافقوں کا سردار اعظم عبداللہ بن ابی بھی معہ اپنی جماعت کے شہر سے نکل کر ثنیتہ الوداع پہاڑی کے نشیبی دامن میں خیمہ زن ہوا‘ جس سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ بھی ہمراہ چلنے پر آمادہ ہے‘ لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ اس کا منشاء لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہمراہ جانے سے روکنا تھا‘ جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم معہ لشکر آگے کو روانہ ہوئے تو منافقین عبداللہ بن ابی کے ہمراہ مدینہ کو واپس لوٹ آئے‘ بعض منافق اس غرض سے کہ منجری کر کے عیسائیوں کو مدد پہنچائیں اسلامی لشکر میں شریک رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنے اہل و عیال کی حفاظت کے لیے مدینہ چھوڑ دیا تھا‘ مدینہ میں منافقوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نسبت یہ کہنا شروع کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی کچھ پرواہ نہیں ہے‘ وہ ان کو بار خاطر سمجھتے تھے‘ اسی لیے ان کو چھوڑ دیا ہے الجرف میں مدینہ سے کوس بھر کے فاصلہ پر سیدنا علی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے حضور میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ منافقین میری نسبت ایسی ایسی باتیں کہتے تھے اس لیے حاضر خدمت ہو گیا ہوں‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا وہ جھوٹے ہیں‘ میں نے اپنے گھر بار کی حفاظت کے لیے تم کو مدینے میں چھوڑا تھا‘ تم واپس جائو‘ اور ان کی دل دہی کے لیے فرمایا کہ تم میرے ساتھ وہی نسبت رکھتے ہو جو سیدنا ہارون علیہ السلام کو سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے تھی‘ مگر فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ وہاں سے پھر مدینے کو واپس تشریف لے گئے۔۱؎ بعض صحابی رضی اللہ عنہ جو کسی سستی یا غفلت کے سبب آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ روانہ نہ ہو سکے تھے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی روانگی کے بعد مدینے سے روانہ ہو کے اور راستہ کے منزلوں پر شریک لشکر ہوتے گئے‘ بعض منافقین جو مسلمانوں کو بددل کرنے کے لیے شریک لشکر تھے وہ راستہ کی مختلف منزلوں سے جدا ہو ہو کر واپس ہوتے رہے‘ مگر ان کی اس حرکت نا معقول کا مسلمانوں پر کوئی اثر نہ ہوا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی کے حال سے کوئی تعرض نہ فرمایا‘ اور جو راستہ میں رہ گیا اس کے متعلق پرواہ نہ کی۔ راستہ میں قوم ثمود کی تباہ شدہ بستیاں آئیں‘ اس علاقہ کا نام حجر تھا‘ جب لشکر اسلام اس قطعہ اراضی میں داخل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہاں سے استغفار پڑھتے ہوئے جلدی گذر جائو اور یہاں کے کنویں کا پانی بھی نہ پیو۔ اسی علاقہ حجر کے حدود میں ایک شب قیام کرنا پڑا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ کوئی شخص تنہا لشکر گاہ سے باہر نہ نکلے‘ جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم تباہ شدہ بستیوں کے کھنڈر کے قریب سے گذرے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے چادر سے اپنا منہ چھپا لیا اور سواری کو مہمیز لگا کر تیز کر دیا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب ظالموں اور گناہگاروں کی بستی میں جائو تو ڈرتے ہوئے اور استغفار پڑھتے ہوئے جائو کہ مبادا ہمیں بھی ایسی ہی مصیبت پیش نہ آئے۔۱؎