ہجرت کا دسواں سال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی دل دہی
سیدنا علی رضی اللہ عنہ جو یمن کی طرف سے آ کر شریک حج ہوئے تھے‘ ان کے ہمراہیوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے جو کچھ شکایات بیان کیں جو اہل یمن کی بعض غلط فہمیوں کے سبب پیدا ہوئی تھیں‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ شکایت سن کر غدیر خم کے مقام پر تقریر فرمائی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تعریف بیان فرمائی اور فرمایا کہ جو میرا دوست ہے وہ علی رضی اللہ عنہ کا دوست ہے‘ اور جو علی رضی اللہ عنہ کا دشمن ہے وہ میرا دشمن ہے‘ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی اس تقریر کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مبارکباد دی‘ اور فرمایا کہ آج سے آپ رضی اللہ عنہ میرے خصوصی دوست ہوئے‘ ۴؎مدینہ منورہ میں واپس تشریف لے آنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے صاحبزادہ ابراہیم نے انتقال فرمایا۔