ہجرت کا گیارہواں سال

علالت میں اضافہ

بیماری روز بروز زیادہ ہوتی گئی‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کے کمرہ میں قیام کرنے کی اجازت طلب کی‘ سب نے بخوشی اجازت دے دی۔۲؎ آپ صلی اللہ علیہ و سلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کے مکان میں گئے‘ پھر باہر نکل کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مسلمانوں کے مجمع میں ایک تقریر فرمائی اور کہا میں تم کو اللہ سے ڈرنے کی ہدایت کرتا ہوں‘ اللہ تعالی تم کو ہدایت دے اور میں اس کو تم پر چھوڑتا ہوں اور تم کو اس کے سپرد کرتا ہوں‘ میں تم کو دوزخ سے ڈرانے والا ہوں اور جنت کی بشارت دینے والا ہوں‘ اللہ کے بندو! غرور اور تکبر اختیار نہ کرو‘ جنت ان لوگوں کے لیے ہے جو تکبر اور فساد نہیں کرتے‘ آخرت کی بھلائی متقیوں کے لیے اور غرور کرنے والوں کا ٹھکانہ جہنم ہے‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا‘ مجھ کو میرے قریبی رشتہ دار غسل دیں‘ پھر فرمایا میرا جنازہ میری قبر کے کنارے رکھ کر ایک ساعت کے لیے الگ ہو جانا تاکہ ملائکہ مجھ پر نماز پڑھ لیں‘ بعد ازاں گروہ کے گروہ مجھ پر نماز پڑھنا‘ پہلے میرے خاندان کے مرد نماز پڑھیں‘ بعد ازاں ان کی عورتیں ‘ بیماری کی آخری حالت میں تین روز تک آپ صلی اللہ علیہ و سلم صاحب فراش رہے۔