مقدمہ
تاریخ کی حقیقی ابتداء
اب قرآن کریم نازل ہوتا ہے‘ عرب تمام دنیا پر چھا جاتا ہے‘ سارے تمدن عربی تمدن کے آگے ھباء منثورا ثابت ہوتے ہیں‘ اور حقیقی معنی میں تاریخ کی ابتداء ہوتی ہے‘ احادیث کی روایت کے اہتمام اور فن اسماء الرجال وغیرہ کے مرتب و مدون ہونے کے عظیم الشان کام اور اہم ترین انتظام سے قطع نظر کی جائے تب بھی مسلمانوں میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں مؤرخ ایسے ملیں گے جن میں سے ہر ایک نے فن تاریخ کی تدوین میں وہ وہ کارہائے نمایاں کئے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے‘ تمدن کی کوئی شاخ اور معاشرت کا کوئی پہلو ایسا نہ ملے گا جس پر مسلمانوں نے تاریخیں مرتب نہ کی ہوں‘ تاریخ کی جان اور روح رواں روایت کی صحت ہے اور اس کو مسلمانوں نے اس درجہ ملحوظ رکھا ہے کہ آج بھی مسلمانوں کے سوا کسی دوسری قوم کو بطور مثال پیش نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری اقوام اور دوسرے ممالک کی تاریخیں مرتب کرنے میں بھی مسلمانوں کی طرف سے نہایت زبردست صلاحیتیں صرف کی گئی ہیں۔ فن تاریخ کو علم کے درجہ تک پہنچانے کا کام مسلمانوں ہی کی نظر التفات کا رہین منت ہے اور اصول تاریخ کے بانی ابن خلدون کا نام دنیا میں ہمیشہ مؤرخین سے خراج تکریم وصول کرتا رہے گا۔ جب سے مسلمانوں پر تنزل و ادبار کی گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں اور مسلمان مورخین کی کوششوں میں وہ پہلی سی مستعدی اور تیز رفتاری کم ہو گئی ہے‘ ان کے شاگرد یعنی یورپی مؤرخین اس کمی کو ایک حد تک پورا کرنے میں مصروف ہیں۔