ہجرت کا گیارہواں سال

کمال خوش خلق

سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ میں نے کسی شخص کو جناب رسول اللہ تعالیٰ صلی اللہ علیہ و سلم سے زیادہ خوش خلق نہیں دیکھا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا قول ہے کہ ’’پہلوان وہ نہیں ہے جو لوگوں کو پچھاڑ دے‘ بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے اوپر قابو رکھے۔۲؎ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اشجع الناس تھے۔۳؎ ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ اہل مدینہ یکایک گھبرا اٹھے‘ جیسے کوئی دشمن چڑھ آئے اس قسم کا شور اٹھا‘ لوگ اس آواز کی جانب چلے‘ مگر ان کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم اس طرف سے واپس آتے ہوئے ملے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم سب سے پہلے گھوڑے کی ننگی پشت پر سوار ہو کر ادھر تشریف لے گئے تھے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے لوگوں سے کہا گھبرائو مت کوئی خوف و اندیشہ کی بات نہیں ہے۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جنگ حنین کے دن لوگ بھاگ کھڑے ہوئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یہ رجز پڑھ رہے تھے: انا النبی لا کذب‘ انا ابن عبدالمطلب‘ ۴؎اس روز آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے زیادہ بہادر اور شجاع کوئی نہیں دیکھا گیا‘ جب لڑائی بہت تند اور تیز ہوئی تو ہم آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی پناہ ڈھونڈتے‘ ہم میں سب سے زیادہ بہادر اور دلیر وہ سمجھا جاتا جو میدان جنگ میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے برابر کھڑا رہ سکتا تھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہم رکاب تھا آپ صلی اللہ علیہ و سلم اس وقت ایک موٹے کنارے کی چادر اوڑھے ہوئے تھے‘ ایک بدوی نے چادر کا کنارہ پکڑ کر اس زور سے جھٹکا دیا کہ چادر کے کنارے کی رگڑ سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے شانے اور گردن پر نشان پڑ گیا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اس کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے اس مال میں سے جو تیرے پاس ہے میرے دونوں اونٹوں پر بھی کچھ لاد دے‘ کیونکہ اس میں سے جو کچھ تو مجھے دے گا وہ کچھ تیرا یا تیرے باپ کا مال نہیں ہے‘ یہ تلخ اور سخت کلام سن کر اول تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم فرط حلم و کرم سے خاموش رہے‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ بے شک مال تو اللہ تعالی کا ہے اور میں اس کا بندہ ہوں مگر تو یہ تو بتا کہ تیرے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے جو تو نے میرے ساتھ کیا ہے‘ اس نے کہا نہیں‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا کیوں نہیں؟ اس نے کہا کیونکہ تو برائی کے عوض برائی نہیں کرتا‘ یہ سن کے آپ صلی اللہ علیہ و سلم مسکرائے‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ اس کے ایک اونٹ پر جو اور ایک اونٹ پر کھجوریں لاد کر دے دو۔۱؎ ایک مرتبہ ایک یہودی زید بن سعنہ اسلام لانے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس اپنے کچھ قرض کا تقاضہ کرنے آیا‘ اور بہت ہی درشتی سے بولا کہ تم اولاد عبدالمطلب بڑے ہی نادہندہ اور وعدہ خلاف ہو‘ اس کی اس بد زبانی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تو مسکراتے ہی رہے‘ مگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے جھڑک کر ایسی بیہودہ گوئی سے روکنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ سے فرمایا‘ کہا اے عمر رضی اللہ عنہ ! تو نے ہم دونوں سے وہ طرز عمل اختیار نہیں کیا جو ہونا چاہیے تھا‘ مناسب یہ تھا کہ تم اسے نہ جھڑکتے بلکہ حسن طلب اور نرمی کے ساتھ تقاضا کرنے کی نصیحت کرتے اورمجھ سے ایفائے وعدہ اور ادائے قرض کے لیے کہتے‘ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ اس کا قرض ادا کر دو اور جھڑکنے کے معاوضہ میں بیس صاع یعنی ڈیڑھ من جو اور دے دو‘ حالانکہ میعاد قرض میں ابھی تین دن باقی تھے اور وہ یہودی قبل از انقضائے میعاد ہی تقاضا کرنے آ گیا تھا‘ اس حلم‘ نیک طینتی اور خوش خوئی کا یہ اثر ہوا کہ وہ یہودی مسلمان ہو گیا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہمراہ ابوسیف لوہار کے یہاں گئے‘ جس کی بیوی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے صاحبزادے ابراہیم رضی اللہ عنہ کو دودھ پلاتی تھیں‘ اس وقت ابراہیم بالکل جاں بلب تھے‘ ان کی حالت دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی آنکھوں میں آنسو ڈبڈبا آئے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو آب دیدہ دیکھ کر سیدنا عبدالرحمن بن عوف نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ! آپ صلی اللہ علیہ و سلم بھی بے صبری کا اظہار فرماتے ہیں‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا‘ اے ابن عوف رضی اللہ عنہ ! یہ آنسو رحم و شفقت کی وجہ سے ہیں‘ بے صبری و ناشکری کی وجہ سے نہیں ہیں‘ اور بے شک دل رنج کرتا ہے اور آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں لیکن ہم کوئی ایسی بات نہیں کہتے جو رضائے الٰہی کے خلاف ہو۔۱؎ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ انصار میں کچھ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے کچھ مانگا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو دے دیا‘ انہوں نے اور مانگا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو اور دیا‘ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس جو کچھ تھا سب دے ڈالا‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میرے پاس جو کچھ آتا ہے اسے تم لوگوں سے بچا کر جمع نہیں رکھتا‘ اور بلاشبہ جو شخص اللہ سے یہ مانگتا ہے وہ اسے سوال کی ذلت سے بچائے تو اللہ اسے ذلت سے بچا لیتا ہے‘ اور جو استغنا چاہتا ہے اسے غنی کر دیتا ہے‘ جو شخص صبر اختیار کرتا ہے اللہ اسے صابر بنا دیتا ہے‘ اور کسی شخص کو عطایائے الٰہی میں سے کوئی عطیہ صبر سے زیادہ اچھا نہیں دیا گیا۔۲؎ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بار بار فرمایا کہ اگر میرے پاس کوہ احد کے برابر سونا ہو تب بھی مجھے خوشی اس وقت ہو کہ میں تین دن گذرنے سے پہلے ہی وہ سب تقسیم کر دوں اور میرے پاس سوائے اس کے جومیں ادائے قرض کے لیے اٹھا رکھوں اور باقی نہ رہے۔ بعض اوقات جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس کچھ نہیں ہوتا تھا اور کوئی حاجت مند آ جاتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو قرض تک لے کر اس کی حاجت روائی میں تامل نہ ہوتا تھا اور بالعموم آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر اسی قسم کے قرض تھے‘ ورنہ اپنی ذاتی ضرورتوں کو قرض لے کر پورا کرنے سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم بالکل بے نیاز تھے۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک غزوہ میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھا میرا اونٹ تھک کر پیچھے رہ گیا‘ اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم آ گئے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا کیوں جابر کیا حال ہے‘ میں نے عرض کیا کہ میرا اونٹ تھک گیا ہے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے میرے اونٹ کے ایک تسمہ مارا تو وہ خوب تیز چلنے لگا‘ پھر ہم دونوں باتیں کرتے ہوئے چلے‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ سے پوچھا کہ تم یہ اونٹ فروخت کرتے ہو‘ میں نے کہا ہاں‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے وہ مجھ سے خرید لیا‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم آگے تشریف لے گئے اور میں ذرا دن چڑھے پہنچا‘ میں نے اونٹ مسجد کے دروازے پر باندھ دیا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا کہ اونٹ کو چھوڑ دو اور مسجد میں آ کر دو رکعت نماز پڑھو‘ جب میں نماز سے فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اونٹ کی قیمت ادا کر دو‘ میں قیمت لے کر چلا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے پھر بلایا میں ڈرا کہ میرا اونٹ واپس کر دیا جائے گا‘ مگر میں آیا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اونٹ بھی لے جائو اور اس کی قیمت تمہاری ہو چکی‘ اسے بھی اپنے ہی پاس رہنے دو۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کسی جنگل میں تشریف لیے جاتے تھے ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہمراہ تھا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے زمین کھود کر دو مسواکیں نکالیں‘ ایک سیدھی‘ تھی ایک ٹیڑھی‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ٹیڑھی خودلی اور سیدھی اپنے ہمراہی کودی۔ انہوں نے عرض کیا کہ سیدھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم لیں مگر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے نہیں لی اور فرمایا کہ جو شخص کسی کی صحبت میں رہتا ہے خواہ گھڑی بھر ہی کیوں نہ ہو قیامت کے دن پوچھا جائے گا کہ حق صحبت بجا لایا یا نہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی اور ایک بشر نامی منافق مسلمان کے درمیان کچھ جھگڑا تھا‘ وہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس فیصلے کے لیے آئے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے دونوں کے حالات تحقیق کر کے یہودی کو حق بجانب پایا اور یہودی کے حق میں فیصلہ صادر کیا‘ جب دونوں باہر نکلے تو بشر نے کہا کہ یہ فیصلہ ٹھیک نہیں ہوا‘ چلو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس چلیں‘ چنانچہ دونوں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے‘ یہودی نے آتے ہی بیان کر دیا ہم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس گئے تھے‘ انہوں نے میرے حق میں فیصلہ صادر فرمایا‘ مگر اس نے نہیں مانا‘ اور آپ رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا ہے کہ آپ جو فیصلہ کریں گے مانا جائے گا‘سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بشر سے یہودی کے اس بیان کی تصدیق کی‘ اس نے کہا ہاں یہ سچ کہتا ہے‘ ہم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس گئے تھے مگر میں ان کے فیصلہ پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے فیصلے کو ترجیح دیتا ہوں‘ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم دونوں ذرا ٹھہرو میں ابھی فیصلہ کئے دیتا ہوں‘ یہ کہہ کر وہ اندر گئے اور تلوار لا کر منافق بشر کی گردن اڑا دی اور کہا کہ جو شخص مسلمان ہو کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے فیصلے کو نہ مانے میں اس کا فیصلہ اس طرح کرتا ہوں‘ اس پر اس کے ہمراہی منافقوں نے بہت غل مچایا‘ مگر خدائے تعالی نے بذریعہ وحی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے فعل کی تائید فرمائی‘ اور کہا جاتا ہے کہ اسی دن سے ان کا لقب فاروق رضی اللہ عنہ ہو گیا۔۱؎