ہجرت کا گیارہواں سال

میانہ روی

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو کوئی ناپسندیدہ بات معلوم ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کسی کا نام لے کر تخصیص کے ساتھ کچھ نہ فرماتے‘ بلکہ یوں فرماتے کہ وہ کیسے آدمی ہیں جو ایسی باتیں کرتے ہیں‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم پیشتر اوقات خاموش رہتے تھے اور بلا ضرورت بات نہیں کرتے تھے۔۳؎ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا کلام صاف اور واضح ہوتا تھا‘ نہ اتنا طویل کہ اس میں کوئی فضول اور غیر ضروری بات ہو‘ نہ اتنا مختصر کہ کوئی کام کی بات رہ جائے یا سمجھ میں نہ آئے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی چال بھی نہایت معتدل تھی‘ نہ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم سست چلتے تھے کہ ساتھ والوں پر گراں ہو‘ نہ اس قدر تیز چلتے تھے کہ اس سے تکان اور سستی مترشح ہو‘ غرض اعتدال اور میانہ روی آپ کی ہر ایک بات سے ہویدا تھی۔