خلافت راشدہ

استحقاق خلافت

قرآن کریم کے مطالعہ سے یہ بات بھی اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ زمین پر حکومت و سلطنت یعنی خلافت کا عطا کرنا یا حکومت و سلطنت کا کسی سے چھین لینا خدائے تعالیٰ ہی کا خاص کام ہے‘ اگرچہ ہر ایک کام کا فاعل حقیقی خدائے تعالیٰ ہی ہے‘ لیکن اس نے خلافت و سلطنت کے عطا کرنے کا فاعل ہر جگہ اپنے آپ ہی کو ظاہر فرمایا ہے اور اس فعل کو استعارۃ بھی کسی دوسرے کی طرف نسبت نہیں کیا‘ایک جگہ صاف طور پر فرمایا: {قُلِ الّٰلھُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآئُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآء} (آل عمران : ۳/۲۶) اب دیکھنے اور غور کرنے کے قابل بات یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کن لوگوں کو خلافت یا حکومت عطا فرماتا ہے‘ یعنی جو لوگ خلافت حاصل کرتے ہیں ان کے امتیازی نشانات کیا ہیں آدم علیہ السلام یا بنی آدم کو جو زمینی مخلوقات پر حکمرانی حاصل ہے اس کا سبب قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ علم ہے {وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآئَ کُلَّھَا} (البقرۃ : ۲/۳۱) فرشتوں نے سفک دم اور فساد کو خلافت الٰہیہ کے منافی سمجھا اور خدائے تعالیٰ کی تحمید و تقدیس بیان کرنے کو خلافت کا استحقاق اور علامت قرار دیا۔ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ نوع انسان کو محض وسعت علم ہی کے سبب تمام دوسری مخلوقات پر حکمرانی و فرمانروائی حاصل ہے اگر انسان کو دوسری مخلوقات پر فضیلت علم حاصل نہ ہو تو ہوا کا ایک جھونکا‘ پانی کی ایک لہر‘ درخت کا ایک پتہ اور جمادات کا ایک ذرہ انسان کو عاجز کر سکتا اور اس کو فنا کے گھاٹ اتار سکتا ہے‘ مگر علم کی بدولت شیر‘ ہاتھی‘ دریا‘ پہاڑ‘ ہوا‘ آگ ‘ بجلی وغیرہ سب انسان کی خدمت گذاری و فرمانبرداری اور راحت رسانی پر مستعد اور غلاموں کی طرح فرماں بردار نظر آتے ہیں قرآن کریم پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب طالوت کی بادشاہت پر لوگوں نے اعتراض کیا تو خدائے تعالے نے اپنی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی معرفت معترضین کو جواب دیا کہ {اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰہُ عَلَیْکُمْ وَ زَادَہٗ بَسْطَۃً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ وَ اللّٰہُ یُؤْتِیْ مُلْکَہٗ مَنْ یَّشَآئُ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ} (البقرۃ : ۲/۲۴۷) یعنی طالوت کو خدائے تعالیٰ نے بادشاہت کے لیے منتخب فرما لیا اور علم اور جسم میں وسعت عطا کی اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے سلطنت عطا فرماتا ہے اور حکومت عطا فرماتا ہے اور اللہ ہی صاحب وسعت اور صاحب علم ہے۔ سیدنا دائود علیہ السلام کو حکومت و خلافت عطا فرما کر خدائے تعالیٰ نے حکم دیا کہ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْھَوٰی پھر ایک جگہ فرمایا : {وَ لَقَدْ اَھْلَکْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَجَآئَ تْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ مَا کَانُوْا لِیُؤْمِنُوْاکَذٰلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ ٭ ثُمَّ جَعَلْنٰکُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْ بَعْدِھِمْ لِنَنْظُرَ کَیْفَ تَعْمَلُوْن} (یونس : ۱۰/۱۳۔۱۴) قرآن کریم سے اسی قسم کی شاید سینکڑوں آیات تلاش کی جا سکتی ہیں‘ کہ خلیفہ سے مراد حکمران اور خلافت سے مراد سلطنت ہے اور سلطنت و حکمرانی کے لیے علم‘ عدل‘ اصلاح‘ قوت اور رفاہ خلائق کی شرطیں لازمی ہیں جن کی ہمیشہ بادشاہوں اور خلیفوں کو ضرورت رہی ہے اور بغیر ان شرائط و صفات کے کوئی بادشاہ یا کوئی سلطان اپنی بادشاہت اور سلطنت کو قائم نہیں رکھ سکتا‘ یہ تمام صفات حسنہ پیغمبروں اور رسولوں کی تعلیمات سے ہی حاصل ہو سکتی ہیں‘ لیکن یہ لازمی نہیں ہے کہ ہر ایک رسول صلی اللہ علیہ و سلم اور ہر ایک پیغمبر علیہ السلام بادشاہ بھی ضرور ہو‘ خلافت کے لیے اگر محض عبادت اور خدائے تعالیٰ کی تحمید و تقدیس کا بجالانا ہی ضروری ہوتا تو صرف پیغمبر علیہ السلام یا فرشتے ہی دنیا میں حکمراں نظر آتے اور ان کے سوا کسی کو سلطنت و حکمرانی میسر نہ آتی مگر مشاہدہ اس کی تردید کر رہا ہے‘ پس نتیجہ اس تمام تحقیق کا یہ نکلا کہ خلافت درحقیقت حکمرانی و سلطنت ہے‘ نہ کچھ اور‘ خلیفہ یا بادشاہ خدائے تعالیٰ خود جس کو چاہتا ہے بناتا ہے اور جب کوئی حکمراں قوم من حیث القوم ظلم و فساد پر اتر آتی ہے تو اس سے خدائے تعالیٰ حکومت یا خلافت چھین لیتا ہے اور جس دوسری قوم کو چاہتا ہے عطا فرما دیتا ہے۔