خلافت راشدہ

مسئلہ خلافت میں اختلاف

مسلمانوں میں بعض لوگ ایسے بھی پیدا ہوئے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے خلفاء رضی اللہ عنھم یعنی جانشینوں کے متعلق عجیب عجیب قسم کے اعتراضات کا ایک طومار باندھ دیا ہے اور کسی کو مجرم اور ظالم‘ اور کسی کو بے گناہ و مظلوم ٹھہرایا ہے‘ حالانکہ کسی انسان کو خلافت کے متعلق دم مارنے‘ یا اعتراض کرنے کا کوئی حق حاصل ہی نہیں ہے‘ خدائے تعالیٰ نے زمین کی بادشاہت اور خلافت کا کسی کو عطا کرنا یا کسی سے چھین لینا صرف اپنی ہی طرف منسوب رکھا ہے‘ بحسب ظاہر یا استعارہ کے طور پر بھی خلافت عطا کرنے یا خلافت چھین لینے کے کام کو کسی انسان کی طرف منسوب نہیں فرمایا‘ یہی وجہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی خلیفہ کے انتخاب‘ خلیفہ کے تعین و تقرر کی نسبت خود کوئی حکم نہیں دیا۔ قرآن کریم نے یہ بتایا کہ خلیفہ کو کیا کام کرنے چاہیں‘ کن باتوں سے بچنا اور ڈرنا چاہیے یہ بھی بتا دیا کہ کون کون سے اعمال صالح ہیں جو مستحق خلافت بنا دیتے ہیں‘ لیکن یہ نہیں بتایا کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا خلیفہ یعنی ان کے بعد مسلمانوں پر حکمران کون شخص ہوگا‘ روزہ‘ نماز‘ حج‘ زکو ۃ اور حقوق العباد و حقوق اللہ کی ذرا ذرا سی تفصیل بھی شریعت اسلام نے واضح اور مبرہن طریق پر بیان فرما دی‘ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے جانشین کا تعین نہ فرمایا‘ اس میں یہی حکمت تھی کہ خدائے تعالیٰ جس کو چاہتا ہے خلافت عطا فرماتا ہے‘ اور وہی خود ایسے سامان مہیا فرما دیتا ہے کہ مستحق خلافت کو خلافت مل جائے‘ خلافت کے حاصل کرنے کا کام چونکہ انسانی کوششوں اور انسانی تدبیروں سے بالاتر ہے‘ لہذا خدائے تعالیٰ نے خود اپنے فعل سے بتا دیا کہ ان سب سے پہلے مسلمانوں میں کون مستحق خلافت تھا اور کون اس کے بعد لہذا اس مسئلہ میں لڑنا‘ جھگڑنا اور اعتراض کرنا بالکل فضول اور گویا خدائے تعالیٰ پر معترض ہونا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد کس شخص کو خلیفہ بننا چاہے تھا؟ اس کا جواب صاف ہے کہ اس کو جو خلیفہ بن سکا‘ اور یہ کہنا کہ جو خلیفہ بن گیا وہ خلیفہ بننے کا مستحق نہ تھا دوسرے لفظوں میں یہ کہنا ہے کہ خلیفہ خود خدائے تعالیٰ نہیں بناتا‘ یا یہ کہ اللہ تعالیٰ جس کو خلیفہ بنانا چاہتا تھا اس کو نہیں بنا سکا اور انسانی تدبیروں سے نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ تعالیٰ شکست کھا گیا۔ پس ان لوگوں کی حالت جو سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت پر معترض ہیں اس شخص سے بہت مشابہ ہے جو کسی جج کی عدالت سے اپنے منشا کے خلاف فیصلہ سن کر کچہری سے نکلتا اور باہر آ کر جج کو برا بھلا کہتا ہے‘ لیکن جج پھر بھی جج ہے اور یہ مجرم‘ مجرم ہے‘ جج کا حکم اس ناراض ہونے والے شخص کو بڑ بڑانے سے رک نہیں سکتا‘ اسی طرح خدائے تعالیٰ نے اپنا فیصلہ خلافت کے متعلق صادر فرما دیا اور جس کو خلیفہ بنانا چاہا اس کو خلیفہ بنا دیا‘ اب خدائی فیصلے کے خلاف اگر کوئی ناراض ہوتا ہے تو ہوا کرے۔ {وَ اللّٰہُ یُؤْتِیْ مُلْکَہٗ مَنْ یَّشَآئُ} (البقرۃ : ۲/۲۴۷)