سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ
عہداسلام
سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لائے‘ جس شخص نے سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ نماز پڑھی وہ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ تھے میمون بن مہران سے کسی نے پوچھا کہ آپ کے نزدیک علی رضی اللہ عنہ افضل ہیں یا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ‘ انہوں نے یہ سن کر سخت غصہ کیا اور فرمانے لگے‘ مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ میں ان دونوں میں موازنہ کئے جانے کے وقت تک زندہ رہوں گا‘ ارے یہ دونوں اسلام کے لیے بمنزلۂ سر کے تھے‘ مردوں میں سب سے پہلے سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ‘ لڑکوں میں سب سے پہلے سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایمان لائے‘ عورتوں میں سب سے پہلے سیدنا خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنھا ایمان لائی تھیں۔
علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی اجازت کے بغیر سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے کبھی رسول اللہ تعالیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کا ساتھ نہیں چھوڑا‘ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے اہل و عیال کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت میں ہجرت کی‘ غار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ساتھ دیا‘ لڑائیوں میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ رہے‘ جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی کرم اللہ وجہہ سے فرمایا کہ تم میں سے ایک کے ساتھ جبرائیل ہیں اور دوسرے کے ساتھ میکائیل علیہ السلام ۔
جنگ بدر میں عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ مشرکین کے لشکر میں شامل تھے‘ جب وہ مسلمان ہو گئے تو انہوں نے اپنے والد ماجد یعنی سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ بدر کے روز آپ رضی اللہ عنہ کئی مرتبہ میرے تیر کی زد میں آئے‘ مگر میں نے اپنا ہاتھ روک روک لیا‘ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر مجھے ایسا موقعہ ملتا تو میں تجھے بغیر نشانہ بنائے نہ رہتا۔