سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ

سخاوت

آپ رضی اللہ عنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں سے سب سے زیادہ سختی تھے {وَسَیُجَنَّبُہَا الْاَتْقٰی ٭ الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَہٗ یَتَزَکّٰی} (اللیل : ۹۲/۱۷۔۱۸) کے شان نزول آپ رضی اللہ عنہ ہی ہیں‘ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جتنا مجھے ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے مال سے نفع پہنچا ہے۔ ۲؎ کسی کے مال سے نہیں پہنچا‘ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ رو کر فرمانے لگے کہ میں اور میرا مال کیا چیز ہے جو کچھ ہے سب آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا ہی ہے‘ ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے مال میں ویسا ہی تصرف فرماتے تھے جیسا اپنے مال میں‘ جس روز سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ایمان لائے ہیں اس روز ان کے پاس چالیس ہزار درہم تھے‘ آپ رضی اللہ عنہ نے وہ سب کے سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر خرچ کر دئیے۔ ایک روز سیدنا عمرفاروق جیش عسرت یا جنگ تبوک کے چندہ کا تذکرہ فرما کر کہنے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب ہمیں مال صدقہ کرنے کا حکم دیا تو میں نے سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر مال صدقہ کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا اور اپنا نصف مال تصدق کر دیا‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ سے دریافت کیا کہ اپنے اہل و عیال کے واسطے کچھ چھوڑا‘ میں نے عرض کیا کہ باقی نصف‘ اتنے میں ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ اپنا سارا مال لیے ہوئے آ گئے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے بھی وہی سوال کیا‘ انہوں نے جواب دیا کہ اہل و عیال کے لیے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ تعالیٰ کافی ہیں‘ میں نے یہ دیکھ کر کہا کہ میں کبھی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کسی بات میں نہ بڑھ سکوں گا۔۱؎ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں سب کا احسان اتار چکا ہوں‘ البتہ ابوبکرصدیق کا احسان باقی ہے‘ اس کابدلہ قیامت کے دن خدائے تعالیٰ دے گا‘ کسی شخص کے مال سے مجھے اتنا فائدہ نہیں ہوا جتنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے مال سے۔