سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ
بیعت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کا حال سن کر ایک طرف مسجد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم میں لوگ جمع ہو گئے تھے‘ ان میں قریباً سب مہاجرین تھے‘ کیونکہ مہاجرین کے مکانات اسی محلہ میں زیادہ تھے‘ یہاں انصار بہت کم تھے‘ دوسری طرف بازار کے متصل سقیفہ بنی ساعدہ میں مسلمانوں کا اجتماع تھا‘ اس مجمع میں تقریباً سب انصار ہی تھے‘ کوئی ایک دو مہاجر بھی اتفاقاً وہاں موجود تھے‘ اسلام کی ابتداء اور اس کی نشوونما مخالفین کی کوششیں‘ جنگ و پیکار کے ہنگامے‘ شرک کا مغلوب و معدوم ہونا‘ اور اسلامی قانون و اسلامی آئین کے سامنے سب کا گردنیں جھکا دینا سب کچھ ان لوگوں کے پیش نظر تھا اور وہ جانتے تھے کہ یہ نظام اب وفات نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد دنیا میں اسی وقت بحسن و خوبی قائم رہ سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا جانشیں منتخب کر لیا جائے۔
مسجد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عاشقانہ جذبہ نے لوگوں کو کچھ سوچنے اور مسئلہ خلافت پر غور کرنے کا موقع ہی نہ دیا‘ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ وفات نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کی خبر سن کر اگر جلد یہاں نہ پہنچ جاتے تو اللہ تعالیٰ جانے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم میں عشاق نبوی رضی اللہ عنہ کی یہ حیرت و اضطراب کی حالت کب تک قائم رہتی‘ لیکن دوسرے مجمع کی جو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی نشست گاہ میں تھا یہ حالت نہ تھی‘ وہاں انتخاب خلیفہ کے متعلق گفتگو ہوئی‘ چونکہ وہ مجمع انصار ہی کا تھا اور ایک سردار قبیلہ کی نشست گاہ میں تھا جو قبیلہ خزرج کے سردار تھے اور قبیلہ خزرج تعداد نفوس اور مال و دولت میں انصار کے دوسرے قبیلہ اوس سے فائق و برتر تھا‘ لہذا اس مجمع کی گفتگو اور اظہار خیالات کا نتیجہ یہ تھا کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ یعنی جانشین رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تسلیم کیا جائے۔
مہاجرین کی تعداد اگرچہ مدینہ میں انصار سے کم تھی لیکن ان کی اہمیت اور ان کی بزرگی و عظمت کا انصار کے قلوب پر ایسا اثر تھا کہ جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے خلافت کو انصار ہی کا حق ثابت کرنا چاہا تو انصار کے ایک شخص نے اعتراض کیا کہ مہاجرین انصار کی خلافت کو کیسے تسلیم کریں گے‘ اس پر ایک دوسرے انصاری نے کہا کہ اگر انہوں نے تسلیم نہ کیا تو ہم ان سے کہہ دیں گے کہ ایک خلیفہ تم اپنا مہاجرین میں سے بنا لو اور ایک خلیفہ ہم نے انصار میں سے بنا لیا ہے‘ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں یہ ایک کمزوری کی بات ہے‘ ایک اور انصاری نے کہا کہ اگر مہاجرین نے ہمارے خلیفہ کو تسلیم نہ کیا تو ہم ان کو بذریعہ شمشیر مدینہ سے نکال دیں گے‘ اس مجمع میں جو چند مہاجرین تھے انہوں نے انصار کی مخالفت میں آواز بلند کی اس طرح اس مجمع میں بحث و تکرار شروع ہو گئی‘ ممکن تھا کہ یہ ناگوار صورت ترقی کر کے جنگ و پیکار تک نوبت پہنچ جاتی۔
یہ خطرناک رنگ دیکھ کر سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ بن شعبہ وہاں سے چلے اور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم میں آ کر سقیفہ بنی ساعدہ کی روداد سنائی‘ یہاں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم میں سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ اپنی تقریر ختم کر کے تجہیز و تکفین کے سامان کی تیاری میں مصروف ہو چکے تھے‘ اس وحشت انگیز خبر کو سن کر سیدنا ابوبکر صدیق اپنے ہمراہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو لے کر سقیفہ بنی ساعدہ کی طرف روانہ ہوئے اور سیدنا علی کرم اللہ وجہہ اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنھم کو تجہیز و تکفین کے کام کی تکمیل میں مصروف چھوڑ گئے‘ اگر اس وقت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ذرا بھی تامل فرماتے تو اللہ تعالیٰ جانے کیسے کیسے خطرات رونما ہو جاتے۔
یہ تینوں بزرگ اس مجمع میں پہنچے تو وہاں عجیب افراتفری اور تو تو میں میں کا عالم برپا تھا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے وہاں اس مجمع کو مخاطب کر کے کچھ بولنا چاہا‘ لیکن سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے روک دیا اور خود کھڑے ہو کر نہایت وقار و سنجیدگی کے ساتھ تقریر فرمائی۔
سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ابھی تھوڑی دیر ہوئی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ازخودرفتگی دیکھ چکے تھے کہ وہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم میں شمشیر بدست پھر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ جو کوئی یہ کہے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فوت ہو گئے ہیں اس کا سر اڑا دوں گا‘ لہذا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو اندیشہ ہوا کہ یہاں بھی کہیں فرط جوش اور وفور غم میں کوئی اسی قسم کی بات نہ کہہ گذریں‘ لہذا انہوں نے خود مجمع کو مخاطب فرما کر تقریر شروع کی اور اسی کی ضرورت تھی‘ چنانچہ انہوں نے فرمایا … اول مہاجرین امراء ہوں گے اور انصار وزراء‘ …آپ رضی اللہ عنہ کی تقریر سن کر سیدنا حباب بن المنذر بن الجموح رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک تم میں سے …سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے حباب انصاری رضی اللہ عنہ کو جواب دیا کہ تم کو خوب یاد ہو گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مہاجرین کو وصیت کی ہے کہ انصار کے ساتھ نیک سلوک کرنا‘ انصار کو وصیت نہیں کی کہ مہاجرین کے ساتھ رعایت کا برتائو کرنا‘ یہ دلیل اس بات کی ہے کہ حکومت و خلافت مہاجرین میں رہے گی‘ سیدنا حباب بن المنذر رضی اللہ عنہ نے فوراً سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے کلام کو قطع کیا اور خود کچھ فرمانے لگے‘ نتیجہ یہ ہوا کہ سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ اور سیدنا حباب رضی اللہ عنہ دونوں زور زور سے باتیں کرنے لگے …سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے دونوں کو روکنے اور خاموش کرنے کی کوشش کی …اتنے میں سیدنا بشیر بن النعمان بن کعب بن الخزاج انصاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بیشک قبیلہ قریش سے تھے لہذا ان کی قوم یعنی قریش کے لوگ ہی خلافت کے زیادہ مستحق ہیں۔۔۔ ہم لوگوں نے بیشک دین اسلام کی نصرت کی اور ہم سابق بالایمان ہیں‘ لیکن ہمارا اسلام لانا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی امداد کے لیے مستعد ہو جانا محض اس لیے تھا کہ خدائے تعالیٰ ہم سے راضی ہو جائے‘ اس کا معاوضہ ہم دنیا میں نہیں چاہتے اور نہ ہم خلافت و امارت کے معاملہ میں مہاجرین سے کوئی جھگڑا کرنا پسند کرتے ہیں …حباب رضی اللہ عنہ بن المنذر نے کہا کہ بشیر رضی اللہ عنہ تو نے اس وقت بڑی بزدلی کی بات کہی‘ اور بنے بنائے کام کو بگاڑنا چاہا ہے‘ سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے بزدلی کا اظہار نہیں کیا بلکہ میں نے اس بات کو ناپسند کیا ہے کہ ایسی قوم سے خلافت و امارت کے متعلق جھگڑا کرو جو خلافت و امارت کی مستحق ہے‘ کیا اے حباب رضی اللہ عنہ ! تو نے سنا نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ الائمۃ من قریش(امام قریش میں سے ہوں گے) سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ کے اس کلام کی بعض دوسرے انصار نے بھی تائید و تصدیق کی اور اس باخداقوم نے اپنی دینوی اور مادی خدمات کو اپنے دینی و روحانی جذبات پر غالب نہ ہونے دیا‘ سیدنا حباب بن المنذر رضی اللہ عنہ بھی یہ باتیں سن کر خاموش ہو گئے اور انہوں نے فوراً اپنی رائے تبدیل کر لی۔
ان کے خاموش ہوتے ہی یک لخت تمام مجمع پر سکون و خاموشی طاری ہو گئی اور خلافت کے متعلق مہاجرین اور انصار کا نزاع یکایک دور ہو گیا‘ اب سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ عمر رضی اللہ عنہ اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ موجود ہیں‘ تم ان دونوں میں سے ایک کو پسند کر لو‘ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں‘ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ مہاجرین میں سب سے افضل ہیں یہ غار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے رفیق تھے‘ نماز کی امامت کرانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو اپنا قائم مقام بنایا‘ حالانکہ نماز امور دین میں سب سے افضل شے ہے‘ پس سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے ہوتے ہوئے کوئی دوسرا خلافت و امارت کا مستحق نہیں ہو سکتا‘ یہ فرمانے کے بعد سب سے پہلے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی اور ان کے بعد سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ بن سعد انصاری نے بیعت کی اوران کے بعد چاروں طرف سے لوگ بیعت کے لیے ٹوٹ پڑے‘ یہ خبر باہر پہنچی اور لوگ سنتے ہی دوڑ پڑے‘ غرض تمام مہاجرین و انصار نے سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بلا اختلاف متفقہ طور پر بیعت کر لی ۔۔۔۔ انصار میں سے صرف سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اور مہاجرین میں سے ان لوگوں نے جو تجہیز و تکفین کے کام میں مصروف تھے اس وقت سقیفہ بنو ساعدہ میں بیعت نہیں کی‘ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے تھوڑی دیر بعد اسی روز سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ و طلحہ رضی اللہ عنہ نے مہاجرین میں سے چالیس روز تک محض اس شکایت کی بنا پر بیعت نہیں کی کہ سقیفہ بنو ساعدہ کی بیعت میں ہم کو کیوں شریک مشورہ نہیں کیا گیا۔۔۔۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک دن سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ میں آپ رضی اللہ عنہ کی فضیلت و استحقاق خلافت کا منکر نہیں ہوں لیکن شکایت یہ ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے قریبی رشتہ دار ہیں‘ آپ رضی اللہ عنہ نے سقیفہ بنو ساعدہ میں ہم سے مشورہ کئے بغیر کیوں لوگوں سے بیعت لی‘ آپ رضی اللہ عنہ اگر ہم کو وہاں بلوا لیتے تو ہم بھی سب سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرتے۔۱؎ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے رشتہ داروں کے ساتھ سلوک کرنا مجھ کو اپنے رشتہ داروں کے ساتھ سلوک کرنے سے زیادہ عزیز و محبوب ہے‘ میں سقیفہ میں بیعت لینے کی غرض سے نہیں گیا تھا بلکہ مہاجرین و انصار کے نزاع کا رفع کرنا نہایت ضروری تھا دونوں فریق لڑنے اور مارنے مرنے پر تیار تھے‘ میں نے خود اپنی بیعت کی درخواست نہیں کی بلکہ حاضرین نے خود بالاتفاق میرے ہاتھ پر کی‘ اگر اس وقت میں بیعت لینے کو ملتوی رکھتا تو اس اندیشہ اور خطرہ کے دوبارہ زیادہ طاقت سے نمودار ہونے کا قوی احتمال تھا‘ تم جب کہ تجہیز و تکفین کے کام میں مصروف تھے تو میں اس عجلت میں تم کو کیسے وہاں سے بلوا سکتا تھا۔
سیدنا علی کرم اللہ وجہہ نے یہ باتیں سن کر فوراً شکایت واپس لی اور اگلے روز مسجد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم میں مجمع عام کے رو برو سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔۱؎