سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ

لشکر اسامہ رضی اللہ عنہ کی روانگی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات سے چند ماہ پیشتر یمن و نجد کے علاقوں میں اسود و مسیلمہ کے فتنے نمودار ہو چکے تھے‘ ان ملکوں کے باشندے نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے‘ ابھی وہ پورے طور پر اسلام اور حقیقت اسلام سے واقف بھی نہ ہونے پائے تھے کہ جھوٹے مدعیان نبوت کے شیطانی فتنے نمودار ہوئے اور یہ نو مسلم لوگ ان کے فریب میں آ گئے‘ نجد کی طرف تو وہی کیفیت برپا تھی‘ لیکن وفات نبوی صلی اللہ علیہ و سلم سے پیشتر اسود عسنی کا کام ہو چکا تھا‘ مگر یمن کی طرف ابھی زہریلے اثر اور سامان فتن کا کلی استیصال نہیں ہوا تھا۔ وفات نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کی خبر تمام براعظم عرب میں نہایت سرعت اور برق رفتاری کے ساتھ پھیل گئی اور پھیلنی چاہیے تھی‘ اس خبر نے ایک طرف جدید الاسلام اور محتاج تعلیم قبیلوں کے خیالات میں تبدیلی پیدا کر دی‘ دوسری طرف جھوٹے مدعیان نبوت کے حوصلوں اور ہمتوں میں اضافہ کر کے ان کے کاروبار میں ترقی پیدا کر دی‘ ہر ملک اور ہر قوم میں واقعہ پسند اور فتنہ پرداز لوگ بھی ہر زمانہ میں ہوا ہی کرتے ہیں اس قسم کے لوگوں کو بھی از سر نو اپنی شرارتوں کے لیے مناسب مواقع میسر آئے‘ شہرت طلب افراد اور حکومت پسند قبائل بھی اپنی مطلق العنانی اور تن آسانیوں کے لیے تدابیر سوچنے لگے‘ نتیجہ یہ ہوا کہ ہر طرف سے ارتداد کی خبریں آنی شروع ہوئیں‘ یہ خبریں اس تسلسل اور اس کثرت سے مدینہ میں آئیں کہ ان کو سن سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی آنکھوں کے سامنے مصائب و آلام اور ہموم و غموم کے پہاڑ تھے اور ان کے دل و دماغ پر اتنا بوجھ پڑ گیا تھا کہ انہوں نے اگر درس گاہ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم اور آغوش رسالت میں صبرواستقامت کی تعلیم نہ پائی ہوتی تو ان کی اور اسلام کی بربادی بہ ظاہر یقینی تھی‘ سوائے مدینہ‘ مکہ اور طائف تین مقاموں کے باقی تمام براعظم عرب میں فتنہ ارتداد کے شعلے پوری قوت اور اشتداد کے ساتھ بھڑک اٹھے تھے‘ ساتھ یہ خبریں بھی پہنچیں کہ مدینہ منورہ پر ہر طرف سے حملوں کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو اپنے مرض الموت میں شام کی جانب رومیوں کے مقابلہ کو لشکر اسلام کے ساتھ روانہ فرمایا تھا‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی علالت کے روبہ ترقی ہونے کے سبب یہ لشکر رکا ہوا تھا‘ اب بعد وفات نبوی صلی اللہ علیہ و سلم سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے اس لشکر کو روانہ کرنا چاہا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ ایسی حالت میں جب کہ ہر طرف سے ارتداد کی خبریں آ رہی ہیں اور مدینے پر حملے ہونے والے ہیں اس لشکر کی روانگی کو ملتوی کر دیا جائے‘ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی قوت ایمانی‘ قوت قلب‘ ہمت و شجاعت اور حوصلہ و استقامت کا اندازہ کرو کہ انہوں نے سب کو جواب دیا کہ اگر مجھ کو اس بات کا بھی یقین دلایا جائے کہ اس لشکر کے روانہ کرنے کے بعد مجھ کو مدینہ میں کوئی درندہ تنہا پا کر پھاڑ ڈالے گا تب بھی میں‘ اس لشکر کی روانگی کو ہرگز ملتوی نہ کروں گا جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے روانہ فرمایا تھا‘ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ تمام وہ لوگ جو لشکر اسامہ میں شامل تھے روانگی کی تیاری کریں اور مدینہ کے باہر لشکر گاہ میں جلد فراہم ہو جائیں۔ اس حکم کی تعمیل میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو گئے‘ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کے باپ سیدنا زید بنا حارثہ رضی اللہ عنہ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے غلام تھے اس لیے بعض لوگوں کے دلوں میں ان کی سرداری سے انقباض تھا‘ نیز سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی عمر اس وقت صرف سترہ سال کی تھی اس لیے بعض لوگوں کی خواہش تھی کہ کوئی معمر قریشی سردار مقرر فرمایا جائے‘ جب تمام لشکر باہر جمع ہو گیا تو سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ کو (کہ وہ بھی اس لشکر کے ایک سپاہی تھے) سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں یہ پیغام دے کر روانہ کیا کہ بڑے بڑے آدمی سب میرے ساتھ ہیں آپ رضی اللہ عنہ ان کو واپس بلا لیں اور اپنے پاس رکھیں کیونکہ مجھ کو اندیشہ ہے کہ مشرکین حملہ کر کے آپ رضی اللہ عنہ کو اور مسلمانوں کو اذیت پہنچائیں‘ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لشکرگاہ سے سالار لشکر کا پیغام لے کر جب روانہ ہونے لگے تو انصار نے بھی ایک پیغام سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ذریعہ خلیفہ کی خدمت میں روانہ کیا کہ آپ رضی اللہ عنہ اس لشکر کا سردار کوئی ایسا شخص مقرر فرمائیں جو اسامہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ عمر کا ہو اور شریف النسل ہو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آ کر اول سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کا پیغام عرض کیا تو سیدنا صدیق اکبر نے فرمایا کہ اس لشکر کے روانہ کرنے سے اگر تمام بستی خالی ہو جائے اور میں تن تنہا رہ جائوں اور درندے مجھ کو اٹھا کر لے جائیں تب بھی اس لشکر کی روانگی ملتوی نہیں ہو سکتی‘ پھرانصار کا پیغام سن کر فرمایا کہ ان کے دلوں میں ابھی تک فخر و تکبر کا اثر باقی ہے‘ یہ کہہ کر آپ رضی اللہ عنہ خود اٹھے اور اس لشکر رخصت کرنے کے لیے پیدل مدینے سے باہر لشکر گاہ تک تشریف لائے‘ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو معہ لشکر رخصت کیا اور خود سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی رکاب میں باتیں کرتے چلے‘ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا تو آپ رضی اللہ عنہ سوار ہو جائیے یا میں سواری سے اتر کر پیدل چلتا ہوں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں سوار نہ ہوں گا اور تم کو سواری سے اترنے کی ضرورت نہیں اور میرا کیا نقصان ہو گا اگر میں تھوڑی دور اللہ تعالیٰ کی راہ میں بطریق مشایعت تمہاری رکاب میں پیدل چلوں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا یہ طریق عمل انصار کے اس مذکورہ پیغام کو کافی جواب تھا‘ آپ رضی اللہ عنہ کو اسامہ رضی اللہ عنہ کی رکاب میں اس طرح پیدل چلتے ہوئے دیکھ کر تمام لشکر حیران رہ گیا اور سب کے دلوں سے وہ انقباض دور ہو کر اس کی جگہ فرمانبرداری اور خلوص کے جذبات پیدا ہو گئے۔