سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ

فتنہ ارتداد

عام طور پر لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد مدینہ‘ مکہ‘ طائف کے سوا تمام ملک عرب ایسا مرتد ہو گیا کہ لوگ توحید کو چھوڑ کر شرک میں مبتلا ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کی جگہ بتوں کی پوجا کرنے لگے تھے‘ حالانکہ یہ سمجھنا سراسر غلط اور خلاف واقعہ ہے‘ بات یہ تھی کہ کذابین یعنی جھوٹے مدعیان نبوت بھی نمازوں وغیرہ اور عبادات کے منکر نہ تھے اور یہ ارتداد کفرو شرک کے لیے نہ تھا بلکہ بعض ارکان اسلام بالخصوص زکو ۃ سے لوگوں نے انکار کیا‘ اس ارتداد کا سبب قبائل عرب کی قدیمی مطلق العنافی اور آزاد منشی تھی۔ اسلام نے لوگوں پر زکٰوۃ فرض کی تھی‘ یہ ایک ٹیکس تھا جو علیٰ قدر مال و دولت صاحب نصاب لوگوں کو ادا کرنا پڑتا تھا‘ اس ٹیکس یا خراج کو وہ آزادی کے خوگر لوگ اپنے لیے ایک بارگراں محسوس کرتے تھے‘ جو ابھی اچھی طرح ذائقہ اسلام کی چاشنی سے آشنا نہ ہوئے تھے‘ انہوں نے اس اسلامی خراج کی ادائیگی سے انکار کیا‘ باقی مذہب اسلام سے ان کو انکار نہ تھا‘ زکو ۃ کا انکار چونکہ قبائل کے مزاج اور مادی خواہشات و جذبات کے مناسب حال تھا لہذا اسی انکار میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک فوراً تمام ملک شریک ہو گیا‘ یہ چونکہ ایک سر کشی تھی لہذا نو مسلم سرکشوں کو مسیلمہ وطلیحہ وغیرہ کذابین نے اپنی طرف جذب کرنے اور مالی عبادات کے علاوہ جسمانی عبادات میں بھی تحفیف کر کے اپنی اپنی نبوت منوانے کا موقع پایا۔ بہرحال شرک اور بت پرستی کا مسئلہ مطلق زیر بحث نہ تھا‘ مگر دین اسلام نے نوع انسان میں جو شیرازہ بندی اور نظام قائم کرنا چاہا تھا وہ نظام بظاہر درہم برہم ہوا چاہتا تھا‘ اس عظیم الشان خطرہ کا علاج مشرکین و کفار کی معرکہ آرائیوں سے زیادہ سخت اور دشوار تھا‘ کیونکہ منکرین زکو ۃ کے عزائم اور اعلانات سنتے ہی سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو جمع کر کے مجلس مشورت منعقد کی تو بعض صحابہ رضی اللہ عنھم کی یہ رائے ہوئی کہ منکرین زکو ۃ کے ساتھ مشرکین و کفار کی طرح قتال نہیں کرنا چاہیے‘ مگر یہ رائے بھی اسی طرح کمزور تھی جیسی کہ لشکر اسامہ رضی اللہ عنہ کی روانگی کے خلاف بعض لوگوں نے ظاہر کی تھی‘ جس طرح اس رائے کو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے نہیں مانا تھا اسی طرح اس کمزور رائے کو بھی انہوں نے قابل قبول نہیں سمجھا اور فرمایا کہ ’’اللہ تعالیٰ کی قسم اگر زکو ۃ کا ایک جانور یا ایک رسی بھی کوئی قبیلہ ادا نہ کرے گا تو میں اس سے ضرور قتال کروں گا۔۔۔‘‘ مرتدین کے وفود مدینہ منورہ میں آئے اور انہوں نے درخواست کی کہ نمازیں ہم پڑھتے ہیں‘ زکو ۃ ہم کو معاف کر دو‘ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ سے یہ صاف جواب سن کر وہ اپنے قبائل میں واپس گئے‘ یکایک تمام ملک میں سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے اس عزم راسخ کی خبر پھیل گئی اور مرتدین یا منکرین زکو ۃ مقابلہ اور معرکہ آرائی کے لیے تیار ہو گئے‘ صوبوں کے عاملوں نے اپنے اپنے صوبوں کے باغی ہو جانے اور زکو ۃ وصول نہ ہونے کی اطلاعیں بھیجیں‘ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے پوری مستعدی‘ کامل ہمت و استقلال کے ساتھ ایک بیدار مغز اور ملک دار شہنشاہ کی حیثیت سے عاملوں کے نام مناسب ہدایات اور سرداران قبائل کے نام خطوط روانہ کئے‘ جیش اسامہ رضی اللہ عنہ ادھر رومیوںسے برسرپیکار‘ ادھر مرتدین جو مدینہ کے نواح میں جمع ہو گئے تھے مدینہ پر حملہ کی دھمکی دے رہے تھے‘ دور دراز علاقوں کے مرتدین کے پاس پر شوکت و باسطوت تہدیدی خطوط سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ روانہ کر رہے تھے نواحی باغیوں کے حملوں کی مدافعت و مقابلہ کی تیاریوں سے بھی غافل نہ تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ کے موجودہ مسلمانوں کے قابل جنگ لوگوں کو مسجد نبوی رضی اللہ عنہ کے سامنے ہمہ وقت موجود و مستعد رہنے کا حکم دے رکھا تھا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ‘ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ ‘ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ ‘ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ‘ کو مدینہ منورہ کے گرد گشت لگانے اور پہرہ دینے پر مامور کر دیا تھا کہ اگر مدینہ پر کوئی قبیلہ حملہ آور ہو تو فوراً اس کی اطلاع سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو پہنچ سکے‘ مقام ابرق میں قبیلہ عبس اور مقام ذی القصہ میں قبیلہ ذبیان کا جمائو تھا‘ بنو اسد اور بنو کنانہ کے بھی کچھ لوگ اس میں شامل تھے‘ عبس اور ذبیان کو جب یہ معلوم ہوا کہ مدینہ منورہ میں بہت تھوڑے سے آدمی باقی ہیں اور زکو ۃ کے معاف کرنے سے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے صاف انکار کر دیا ہے تو انہوں نے متفق ہو کر مدینہ پر حملہ کر دیا‘ ان حملہ آوروں کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ ‘ و زبیر رضی اللہ عنہ و طلحہ رضی اللہ عنہ و ابن مسعود رضوان اللہ علیہم اجمعین نے مدینہ سے باہر ہی روکا اور مدینہ میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس خبر بھیجی‘ ادھر سے بلا توقف سیدنا ابوبکرصدیق روانہ ہوئے اور ذی خشب تک ان کو پسپا کر دیا اور وہ ہزیمت پا کر بھاگ نکلے‘ کچھ عرصہ بعد سیدنا صدیق اکبر گردوپیش موجود اور تیار مرتدین کی سرکوبی کے لیے پھر نکلے‘ آمنا سامنا پر دف اور قسم قسم کے باجے بجاتے اور ڈھول پیٹتے ہوئے آئے جس سے مسلمانوں کے اونٹ ایسے بد کے اور ڈر کے بھاگے کہ مدینہ ہی آ کر دم لیا‘ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں پھر سے منظم کیا اور دشمنوں پر حملہ آور ہوئے‘ مرتدین کو پانچ چھ گھنٹہ کی خوں ریز جنگ کے بعد شکست فاش حاصل ہوئی اور بہت سے مسلمانوں کے ہاتھوں سے مقتول ہوئے۔۔۔ سیدنا نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ اور ایک چھوٹی سی جماعت کے ہمراہ مال غنیمت تو سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں بھیجا اور خود دشمنوں کے تعاقب میں روانہ ہو کر مقام ذی القصہ تک بڑھتے چلے گئے‘ ادھر دشمنوں نے پیچھے قبائل کے اندر موجود بہت سے مخلص مسلمانوں کو قتل کر دیا‘ جب سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے یہ حال سنا تو بہت رنجیدہ ہوئے اور قسم کھائی کہ جس قدر مسلمان مرتدین کے ہاتھ سے شہید ہوئے ہیں جب تک اتنے ہی مرتدین کو قتل نہ کر لوں گا چین سے نہ بیٹھوں گا۔ غرض آپ رضی اللہ عنہ اسی عزم و تہیہ میں تھے کہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ معہ مال غنیمت مدینے میں داخل ہوئے‘ آپ رضی اللہ عنہ نے اسامہ رضی اللہ عنہ اور ان کے لشکر کو تو مدینہ میں چھوڑا کہ وہ اور ان کا لشکر جو سفر سے تھکا ہوا آیا ہے مدینہ میں آرام کریں اور خود مدینہ کے مسلمانوں کی مختصر سی جمعیت لے کر ذی خشب اور ذی قصہ کی طرف خروج کیا‘ ربذہ کے مقام ابرق میں عبس و ذبیان و بنوبکر و ثعلبہ بن سعد وغیرہ قبائل برسر مقابلہ ہوئے نہایت سخت لڑائی ہوئی‘ انجام کار مرتدین شکست یاب ہو کر فرار ہوئے‘ مقام ابرق میں سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے قیام کیا اور بنو ذبیان کے مقامات مسلمانوں کو دے دئیے‘ ان کی چراگاہیں مجاہدین کے گھوڑوں کے لیے وقف فرما دیں‘ وہاں سے آپ رضی اللہ عنہ مقام ذی القصہ تک تشریف لے گئے اور دشمنوں کی قرار واقعی گوشمالی کی‘ پھر مدینہ منورہ میں واپس تشریف لے آئے‘ اب لشکر اسامہ رضی اللہ عنہ نے بھی سستا لیا تھا۔ ملک عرب میں سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو جن لوگوں سے مقابلہ و مقاتلہ درپیش تھا ان کی دو قسمیں تھیں ‘ اول وہ لوگ جو نجد و یمن و حضر موت وغیرہ کی طرف مسیلمہ و طلیحہ و سجاح وغیرہ جھوٹے مدعیان نبوت کے ساتھ متفق ہو گئے تھے‘ ان لوگوں سے لڑنے یا قتال کرنے میں کسی صحابی کو اختلاف نہ تھا‘ دوسرے وہ قبائل جو زکو ۃ کو ادا کرنے سے انکار کرتے تھے‘ ان سے قتال کرنے کو بعض صحابہ رضی اللہ عنھم نامناسب خیال کرتے تھے‘ لیکن سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے اظہار رائے کے بعد سب صحابی رضی اللہ عنہ ان کی رائے سے متفق ہو گئے تھے‘ ان دونوں قسم کے لوگوں میں کچھ فرق ضرور تھا‘ لیکن مسلمانوں نے جب کہ دونوں کے مقابلہ و مقاتلہ کو یکساں ضروری قرار دیا تو پھر ان دونوں میں کوئی فرق و امتیاز باقی نہ رہا‘ اور حقیقت بھی یہ ہے کہ دونوں گروہ دنیا طلبی اور مادیت کے ایک ہی سیلاب میں بہہ گئے تھے‘ جن کو صدیقی تدبیر و روحانیت نے غرق ہونے سے بچایا اور اس طوفان ہلاکت آفرین سے نجات دلا کر ملک عرب کا بیڑا ساحل فوز و فلاح تک صحیح سلامت پہنچایا۔