سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ
گھمسان کا مقابلہ
انہوں نے چالیس ہزار کے لشکر جرار کو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ بن ولید کے تیرہ ہزار مسلمانوں پر حملہ آور کیا‘ یہ حملہ نہایت سخت اور زلزلہ انداز تھا‘ مسلمانوں نے نہایت صبرو استقلال کے ساتھ اس حملہ کو روکا اور ہر طرف سے سمٹ کر اور اپنے آپ کو قابو میں رکھ کر دشمنوں پر بھوکے شیروں کی طرح حملہ آور ہوئے تو لشکر کذاب کے پائوں اکھڑ گئے اور وہ بدحواسی کے عالم میں آوارہ و فرار ہونے لگے‘ محکم بن طفیل نے اپنے لشکر کی یہ حالت دیکھ کر بلند آواز سے کہا کہ ’’ اے بنو حنیفہ باغ میں داخل ہو جائو اور میں تمہارے پیچھے آنے والے حملہ آوروں کو روک رہا ہوں‘ یہ آواز سن کر بھاگنے والے سب باغ میں داخل ہو گئے‘ محکم بن طفیل تھوڑی دیر لڑتا رہا‘ آخر عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے مقتول ہوا‘ لیکن ابھی تک فتح و شکست کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا‘ مرتدین بھی سنبھل کر پھر مقابلہ پر ڈٹ گئے اور طرفین سے داد شجاعت دی جانے لگی‘ مسلمانوں کے علمبردار سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو سیدنا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ نے علم اپنے ہاتھ میں لے لیا‘ مسلمانوں نے ایسی چپقلش مردانہ دکھائی کہ دشمن پیچھے ہٹتے ہٹتے باغ کی دیواروں کے نیچے پہنچ گیا‘ باغ کے دروازے پر تھوڑی دیر تک سخت لڑائی ہوئی‘ آخر مسلمانوں نے باغ کا دروازہ بھی توڑ دیا اور جا بجا سے دیواریں توڑ کر اندر داخل ہو گئے۔
لوگوں نے مسیلمہ سے دریافت کیا ’’کہ وہ فتح کا وعدہ کب پورا ہو گا جو تیرا اللہ تعالیٰ تجھ سے کر چکا ہے‘‘ اس نے جواب دیا کہ یہ وقت ایسی باتوں کے دریافت کرنے کا نہیں ہے‘ ہر شخص کو چاہیے کہ اپنے اہل و عیال کے لیے لڑے‘ باغ کے اندر بھی جب ہنگامہ زور دار گرم ہوا تو مسیلمہ مجبوراً مسلح ہو کر گھوڑے پر سوار ہوا اور لوگوں کو لڑنے کے لیے آمادہ کرنے لگا‘ جب اس نے ہر طرف مسلمانوں کو چیرہ دست دیکھا تو گھوڑے سے اتر کر باغ کے باہر چپکے سے جانے لگا‘ اتفاقاً دروازہ باغ کے قریب وحشی (قاتل سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ ) کھڑا تھا‘ اس نے اپنا حربہ پھینک مارا جو مسیلمہ کی دوہری زرہ کو کاٹ کر اس کے پیٹ کے پار نکل گیا۔
بالآخر دشمنوں میں سے جس کو جس طرف راستہ ملا بھاگا اور تھوڑی دیر میں مسلمانوں کے سوا مرتدوں میں کوئی نظر نہ آتا تھا‘ اس لڑائی میں دشمنوں کے سترہ ہزار آدمی غازیان اسلام کے ہاتھ سے مقتول ہوئے‘ اور ایک ہزار سے کچھ زیادہ مسلمانوں کو درجہ شہادت حاصل ہوا‘ لیکن مسلمانوں میں زخمیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی‘ شہید ہونے والوں میں حفاظ کلام اللہ بہت سے تھے‘ تین سو ساٹھ انصار اور تین سو ساٹھ تابعین اس لڑائی میں شہید ہوئے‘ لڑائی ختم ہونے کے بعد سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے مجاعہ بن مرارہ کو جو قید میں تھا اپنے ہمراہ لے کر لاشوں کا معائنہ کیا اور سرداران لشکر مسیلمہ اور خود مسیلمہ کی لاش کو مجاعہ نے شناخت کیا۔
بنو حنیفہ یعنی لشکر مسیلمہ کے بقیۃ السیف تو آوارہ و مفرور ہو چکے تھے‘ شہر اور قلعہ یمامہ میں عورتوں اور بچوں کے سوا کوئی مرد باقی نہ تھا‘ اور زخمیوں کی مرہم پٹی ضروری سمجھ کر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ بن ولید نے اسی روز شہر یمامہ پر قبضہ کرنا ضروری نہ سمجھا‘ ان کا ارادہ تھا کہ کل صبح شہر پر قبضہ کرنے کے لیے بڑھیں گے۔
مجاعہ بن مرارہ نے اس موقعہ سے فائدہ اٹھانے میں کوتاہی نہ کی‘ اس نے خالد رضی اللہ عنہ بن ولید سے کہا کہ ہمارے جس قدر سردار معہ مسیلمہ مارے گئے ہیں آپ یہ نہ سمجھیں کہ آپ نے مہم کو پورا کر لیا ہے ابھی ان سے بہت زیادہ بہادر جنگ جو لوگ باقی ہیں اور وہ شہر کی مضبوط فصیلوں اور سامان رسد‘ نیز سامان حرب کی کافی فراہمی سے فائدہ اٹھا کر آپ کو ناک چنے چبوا دیں گے‘ مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ تھوڑی دیر کے لیے مجھے چھوڑ دیجئے تاکہ میں شہر میں جا کر ان سب لوگوں کو اس بات پر رضا مند کر لوں کہ وہ آپ کا مقابلہ نہ کریں اور شہر کو بہ رضا مندی صلح کے ساتھ آپ کے سپرد کر دوں‘ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے مجاعہ سے کہا میں تجھ کو قید سے رہا کئے دیتا ہوں تو جا کر اپنی قوم کو صلح پر آمادہ کر‘ لیکن ساتھ ہی یہ بھی بتائے دیتا ہوں کہ صرف میں ان کے نفوس کی بابت صلح کروں گا۔
مجاعہ لشکر اسلام سے روانہ ہو کر شہر میں گیا اور وہاں شہر کی عورتوں کو مسلح ہو کر فصیل شہر پر کھڑے ہونے کی ہدایت کر کے جو کچھ سمجھانا تھا سمجھا دیا اور واپس آ کر کہا کہ میری قوم محض اپنی جانوں کی بابت صلح کرنا نہیں چاہتی سیدنا خالد رضی اللہ عنہ بن ولید نے شہر کی طرف نظر ڈالی تو تمام فصیل تلواروں اور نیزوں سے چمک رہی تھی اور مسلح آدمیوں کی کثرت جو مجاعہ نے بیان کی تھی اس کی تصدیق ہو رہی تھی‘ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے زخمیوں کی کثرت اور مہم کے جلد ختم کرنے کے خیال سے صلح کو مناسب سمجھ کر اس بات پر رضامندی ظاہر کی کہ نصف مال و اسباب اور نصف مزروعہ باغات اور نصف قیدیوں کو بنو حنیفہ کے لیے چھوڑ دیں گے‘ مجاعہ پھر شہر میں گیا اور واپس آ کر کہا کہ وہ لوگ اس پر بھی رضا مند نہیں ہوتے‘ آپ ایک ربع مال و اسباب وغیرہ لے کر صلح کر لیں‘ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے چوتھائی اموال و املاک پر صلح کر لی اور صلح نامہ لکھا گیا۔
اس کے بعد جب دروازہ کھلوا کر اندر گئے تو وہاں سوائے عورتوں اور بچوں کے کسی مرد کا نام و نشان نہ پایا‘ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے مجاعہ سے کہا کہ تو نے ہمارے ساتھ فریب سے کام لیا ہے‘ اس نے کہا کہ میری قوم بالکل تباہ ہو جاتی‘ میرا فرض تھا کہ اپنی قوم کو مصیبت سے بچائوں‘ آپ مجھے معاف فرمائیے‘ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ خاموش ہو رہے ‘ اور عہد نامہ کی خلاف ورزی کا خیال تک بھی ان کے دل میں نہ آیا۔ تھوڑی دیر کے بعد مسیلمہ بن وقش سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کا ایک خط لے کر پہنچے اس میں لکھا تھا کہ اگر تم کو بنو حنیفہ پر فتح حاصل ہو تو ان کے بالغ مردوں کو قتل کیا جائے اور ان کی عورتوں اور بچوں کو قید کر لیا جائے لیکن اس خط کے پہنچنے سے پہلے صلح نامہ لکھا جا چکا تھا‘ لہذا اس کی تعمیل نہ ہو سکی‘ پاس عہد اور ایفائے وعدہ کی مثالوں کا یہ واقعہ بھی خصوصیت سے قابل تذکرہ ہے۔
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بنو حنیفہ کے ایک وفد کو سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں روانہ کیا‘ ایک خط خلیفہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لکھ کر ان کو دیا‘ اس خط میں فتح کا مفصل حال اور بنو حنفیہ کے دوبارہ داخل اسلام ہونے کی خبر درج تھی‘ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اس وفد سے عزت و احترام کے ساتھ ملاقات کی اور محبت کے ساتھ ان کو رخصت کیا‘ جنگ یمامہ ماہ ذی الحجہ ۱۱ ھ میں وقوع پذیر ہوئی۔