سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ

لقیط بن مالک

اوپر ذکر آ چکا ہے کہ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے حذیفہ بن محصن رضی اللہ عنہ کو عمان کی جانب اور عرفجہ بن ہرثمہ رضی اللہ عنہ کو اہل مہرہ کی جانب روانہ کیا تھا‘ اور دونوں کے ساتھ رہنے کا حکم ہوا تھا‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کا حال سن کر ملک عمان میں لقیط بن مالک نے نبوت کا دعویٰ کیا‘ اہل عمان اور اہل مہرہ مرتد ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف سے جو عامل وہاں مقرر تھے ان کو نکال دیا‘ حذیفہ بن محصن حمیری کو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا تھا کہ اول عمان کی طرف جانا‘ وہاں کی مہم سے فارغ ہو کر مہرہ کی جانب متوجہ ہونا‘ ادھر عکرمہ بن ابی جہل کو بھی جو یمامہ کی طرف بھیجے گئے تھے یہی حکم ملا تھا کہ عمان کی طرف جا کر حذیفہ و عرفجہ کے شریک ہوں‘ چنانچہ یہ تینوں سردار صحرائے عمان میں مل کر خیمہ زن ہوئے‘ لقیط نے اسلامی لشکر کی خبر سن کر فوجیں فراہم کیں اور شہر دبا میں آ کر ہر طرح سامان حرب سے مسلح ہو کر لشکر اسلام کے مقابلہ کو نکلا‘ لشکر اسلام میں عکرمہ بن ابی جہل مقدمتہ الجیش پر تھے‘ میمنہ میں حذیفہ رضی اللہ عنہ اور میسرہ میں عرفجہ رضی اللہ عنہ اور قلب لشکر میں وہ رئوساء عمان تھے جو اسلام پر ثابت قدم تھے اور لشکر اسلام کے آنے کی خبر سن کر شریک لشکر ہوئے تھے۔ نماز فجر کے وقت سے لڑائی شروع ہوئی‘ اسلامی لشکر نشیبی زمین میں تھا اور دشمنوں کو بلند زمین پر موقعہ مل گیا تھا‘ ابتداً جنگ کا عنوان مسلمانوں کے خلاف اور شکست کے آثار نمایاں تھے‘ لقیط نے بڑی بہادری سے لشکر اسلام پر حملے کئے‘ بالآخرلڑائی کا رنگ بدلا اور مسلمانوں نے صبر و استقامت سے کام لے کر دشمنوں کو پیچھے ہٹایا‘ دشمن منہ موڑ کر بھاگے اور مسلمانوں کو فتح عظیم حاصل ہوئی‘ اس لڑائی میں دس ہزار دشمن مقتول ہوئے اور چار ہزار گرفتار ہو کر مسلمانوں کی قید میں آئے‘ اسی تناسب سے مال غنیمت لے کر مدینے میں آئے اور سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ مہرہ کی جانب روانہ ہوئے‘ چند روز کے بعد تمام عمان میں اسلام قائم ہو گیا۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذَالِکَ!