سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ
جنگ ولجہ
قارن وغیرہ کے مارے جانے کی خبر سن کر دربار ایران سے اعدزگر ایک مشہور شہسوار ایک جرار لشکر کے ساتھ روانہ کیا گیا‘ یہ لشکر مدائن سے روانہ ہو کر مقام ولجہ میں پہنچا تھا کہ پیچھے سے بہمن جادو یہ ایک دوسرے زبردست سردار کو لشکر عظیم کے ساتھ مدائن سے روانہ کیا گیا‘ مقام ولجہ میں پہنچ کر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے لشکر ایران پر حملہ کیا‘ ایک خون ریز جنگ کے بعد لشکر ایران کو شکست فاش حاصل ہوئی‘ ان کا سردار بھی شدت تشنگی سے میدان جنگ میں مر گیا‘ بہمن جادو یہ مقام الیس میں پہنچا تھا کہ بھاگے ہوئے ایرانی اس فوج میں جا کر شامل ہوئے‘ اس لڑائی میں بہت سی عیسائی عرب بھی آ کر ایرانی لشکر میں شریک ہو گئے تھے‘ بہمن جادو یہ نے ایرانیوں اور عربوں کے اس لشکر عظیم کو مقام لیس میں چھوڑا اور خود مدائن کی طرف روانہ ہوا کیونکہ وہاں اس کی ضرورت نہ تھی۔