سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ

فتح دومتہ الجندل

سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ کو حیرہ میں اپنا نائب بنا کر بلا توقف دومۃ الجندل کی جانب روانہ ہوئے‘ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے آنے کی خبر سن کر اکیدربن عبدالملک نے جودی بن ربیعہ اور دوسرے نصرانی سرداروں سے کہا کہ مسلمانوں سے صلح کر لینی چاہیے‘ لیکن انہوں نے اس رائے کو ناپسندکیا‘ اکیدران کا ساتھ چھوڑ کر تنہا نکل کھڑا ہوا‘ اس کے اس طرح جدا ہو کر جانے کی خبر مسلمانوں کو بھی لگ گئی‘ ایک چھوٹے سے دستہ فوج نے اس کو گرفتار کرنا چاہا مگر وہ لڑ کر ہلاک ہوا۔ دومۃ الجندل کے قریب پہنچ کر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اول یہ تحقیق کیا کہ عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ کس طرف حملہ آور ہیں‘ اس کے مقابلہ دوسری طرف سے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے حملہ شروع کیا‘ جودی بن ربیعہ نے جواب عیسائی لشکر کا سپہ سالار اعظم تھا اپنے لشکر کے فوراً دو حصے کر کے ایک عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ کے مقابلہ کو بھیجا اور دوسرا حصہ خود لے کر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے مقابلہ پر آیا۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے صف سے آگے میدان میں نکل کر جودی سالار لشکر کو للکارا اور اپنے مقابلہ پر طلب کیا‘ وہ میدان سے نکل کر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے مقابلہ پر آیا‘ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے فوراً اس کو گرفتار کر لیا‘ اس کے ہمراہیوں نے یہ نظارہ دیکھ کر فوراً بھاگنا شروع کیا‘ اتفاقاً اسی وقت عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ نے اپنے مقابل عیسائیوں کو شکست دے کر بھگا دیا‘ دونوں طرف کے مفرور بھاگ کر قلعہ میں داخل ہوئے اور دروازہ بند کر لیا‘ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے قلعہ کا محاصرہ کر کے اہل قلعہ کے رو برو جودی کو قتل کر ڈالا اور قلعہ پر دھاوا کر کے بزور شمشیر قلعہ پر قبضہ کر لیا‘ جو مقابل ہوا اس کو قتل کر دیا‘ جس نے امان طلب کی اس کو امان دے دی گئی۔