سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ملک شام میں
ایرانیوں کی جانب سے کسی قدر اطمینان ہو چکا تھا‘ اور امید نہ تھی کہ اب جلد وہ مدینہ منورہ میں فوج کشی کے خواب دیکھیں گے‘ جس وقت عرب کے ہر ایک حصہ میں فتنہ ارتداد فرو ہو گیا اور ایرانی خطرہ کی اہمیت بھی کسی عجلت کی متقاضی نہ رہی‘ تو اب سب سے مقدم اور سب سے زیادہ اہم ملک شام کا انتظام اور اس طرف سے رومی و غسانی خطرہ کی روک تھام تھی‘ شرجیل بن عمروغسانی بادشاہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ایلچی کو شہید کر دیا تھا جس کے بعد جنگ موتہ ہوئی‘ پھر رومیوں اور غسانیوں نے ملکر مدینہ منورہ پر فوج کشی کی تیاریاں کیں‘ جس کا حال سن کر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فوج لے کر تبوک تک تشریف لے گئے‘مگر اس وقت تک عیسائی پورے طورپر اتنے بڑے عربی و اسلامی لشکر کے مقابلہ کی جرات نہ کر سکے‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سرحد شام پر رعب ڈال کر واپس تشریف لے آئے‘ اس کے بعد پھر خبر پہنچی کہ سرحد شام پر فوجی تیاریاں ہو رہی ہیں‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا‘ جو بعد وفات نبوی صلی اللہ علیہ و سلم سرحد شام کی طرف گئے‘ اور جو مقابل ہوا اس کو شکست دے کر جلدی سے واپس چلے آئے‘ کیوں کہ فتنہ ارتداد کا اندرون ملک میں خوب زور و شور تھا۔
فتنہ ارتداد کی روک تھام کے لیے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب گیارہ لشکر تیار کر کے روانہ کئے تو ان میں سے ایک لشکر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو دے کر حکم دیا کہ تم سرحد شام کی طرف جائو‘ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ بھی شامی خطرہ کو محسوس کئے ہوئے تھے اور انہوں نے فتنہ ارتداد کے فرو کرنے میں شامی خطرہ کو بخوبی پیش نظر رکھا تھا‘ جب ارتداد سے اطمینان ہو گیا تو انہوں نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو عراق کی طرف متوجہ کر دیا کہ ایرانی خطرہ کی طرف سے اطیمنان حاصل ہو‘ اور ملک عرب کے ہر حصے میں ایلچی بھیج کر لڑائی کے لیے جنگی سپاہیوںکو طلب کیا‘ مدعا یہ تھا کہ عرب کی متحدہ طاقت سے رومی اور ایرانی شہنشاہیوں کا مقابلہ کیا جائے‘ تاکہ ہمیشہ کے لیے عیسائیوں‘ مجوسیوں کے خطرہ سے عرب کو نجات ملے‘ دوسرے عرب کے جنگجو قبائل جو خاموش بیٹھنے کے عادی نہ تھے‘ ان کو ہر حصہ ملک سے طلب کر کے غیر مسلم دشمنوں کے مقابلہ میں شام و عراق کی طرف بھیج دیا جائے‘ تاکہ عرب کے اتحاد و قوت اور اسلام کی مرکزی قوت کے لیے کسی اندرونی فتنہ کا اندیشہ باقی نہ رہے‘ اندریں صورت کہا جا سکتا ہے کہ فتنہ ارتداد بھی اسلامی فتوحات کا ایک بہت بڑا سبب تھا اور سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی تدبیرو رائے نے اسلامی عظمت و شوکت کی نشونما کے لیے وہ کام کیا جو ایک تجربہ کار اور ہوشیار مالی اپنے باغیچہ کی سرسبزی کے لیے کر سکتا ہے۔
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ بہت تھوڑے آدمی تھے‘ لیکن وہ راستے سے صدیقی ہدایت کے موافق جس قدر مسلمان ہو سکے اپنے ہمراہ لیتے گئے‘ خالد بن ولید کو حکم دیا گیا تھا‘ کہ جہاں تک ممکن ہو سکے مرتدین کو درست کرنا اور عیسائی لشکر مقابلہ پر آئے‘ تو حتی الامکان جنگ چپا دل سے کام لینا‘ میدان داری اور جم کر مقابلہ کرنے سے پرہیز کرنا‘ ایسا حکم دینے کی وجہ یہی تھی کہ‘ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سب سے اول عرب کو قابو میں لا چاہتے تھے‘ اور جب تک فتنہ ارتداد بکلی فرو نہ ہو جائے‘ اس وقت تک ہرقل و کسریٰ کی فوجوں سے لڑائی چھیڑنا مناسب نہ سمجھتے تھے‘ جس طرح دوسرے سرداران لشکر کے ساتھ دربار خلافت سے سلسلہ خط و کتابت جاری تھا‘ اسی طرح خالد بن ولید کی نقل و حرکت سے بھی صدیق اکبر با خبر تھے اور برابر خالد بن ولید کے پاس مدینہ منورہ سے احکام پہنچتے رہے۔
ہر قل نے اسلامی لشکر کے حدود شام میں ہونے کی خبر سن کر اول سرحدی قبائل اور سرحدی رئوساء کو مقابلہ کے لیے ابھارا‘ لیکن جب یہ چھوٹے چھوٹے رئیس اور عرب مستنصرہ کے قبائل اسلامی لشکر کے مقابلہ میں مغلوب ہوتے گئے تو قیصر روم ہرقل نے ماہان نامی رومی کو ایک لشکر عظیم کے ساتھ آگے بڑھایا‘ جب عیسائی اور اسلامی فوجوں کا مقابلہ ہوا تو ماہان کے لشکر کو شکست ہوئی اور مسلمانوں کے ہاتھ بہت سا مال غنیمت آیا۔
اس شکست کا حال سن کر ہرقل خود قسطنطنیہ سے روانہ ہو کر ملک شام میں آیا اور تمام فوجوں کو جمع کر کے لڑائی کا اہتمام اس نے براہ راست اپنے ہاتھ میں لیا‘ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے خط سے یہ تمام کیفیت صدیق اکبر کو معلوم ہوئی جس کا ان کو پہلے سے اندازہ تھا۔
اتفاقاً جس روز یہ خط مدینہ میں پہنچا ہے اسی روز عکرمہ بن ابی جہل اپنی مہم سے فارغ ہو کر مدینہ میں پہنچے تھے‘ ساتھ ہی ملک کے ہر حصہ سے لڑائی کے لیے آمادہ اور جہاد فی سبیل اللہ کے لیے تیار ہو کر قبائل آنے شروع ہو گئے۔
صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عکرمہ رضی اللہ عنہ بن ابی جہل کو فوراً خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی طرف روانہ کر دیا‘ ان کے بعد سیدنا عمروبن العاص رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر دے کر روانہ کر دیا کہ خالد بن ولید اور ان کے ہمراہیوں کو ساتھ لیتے ہوئے فلسطین کے راستے حملہ آور ہوں۔
ان کے بعد آئے ہوئے قبائل کی ایک فوج مرتب کر کے یزید بن ابی سفیان کو سردار بنا کر روانہ کیا اور حکم دیا کہ تم دمشق کی طرف جا کر حملہ آور ہو۔
پھر ایک فوج ترتیب دے کر اس کا سردار سیدنا ابوعبیدہ ابن الجراح کو بنایا اور حکم دیا کہ تم حمص کی جانب جا کر حملہ کرو۔
اسی عرصہ میں شرجیل بن حسنہ عراق کی طرف سے مدینہ منورہ تشریف لائے تھے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ایک اور لشکر مرتب فرما کر اس کا سردار شرجیل بن حسنہ کو مقرر فرما دیا اور حکم دیا کہ تم اردن کی جانب سے حملہ کرو‘ اس طرح صدیق اکبر نے چار لشکر مرتب فرما کرچار مختلف راستوں سے ماہ محرم ۱۳ ھ میں روانہ کئے کہ ملک شام پر حملہ آور ہوں۔
جب یہ چاروں لشکر حدود شام میں پہنچے اور ہرقل کو اس کی اطلاع ملی کہ عربوں نے چار حصوں میں منقسم ہو کر چار مقامات پر حملہ آوری کا قصد کیا ہے تو اس نے بھی اپنے چار سپہ سالاروں کو چار عظیم الشان لشکر دے کر الگ الگ روانہ کیا۔
عمرو رضی اللہ عنہ بن العاص کے مقابلہ کے واسطے اس نے اپنے حقیقی بھائی تذارق کو نوے ہزار فوج دے کر فلسطین کی طرف روانہ کیا۔
جرجہ بن نوذیہ کو چالیس ہزار فوج دے کر یزید بن ابی سفیان کے مقابل دمشق کی سمت بھیجا۔
راقص نامی سردار کو پچاس ہزار فوج کے ساتھ شرجیل بن حسنہ کے مقابلہ پر اردن کی جانب
اور رفیقاء بن نسطورس کو ساٹھ ہزار سوار کی جمعیت کے ساتھ ابوعبیدہ بن الجراح کے مقابلہ کو حمص کی طرف روانہ کیا۔
ہرقل نے اپنے چاروں سرداروں کے ماتحت کل دو لاکھ چالیس ہزار فوج مسلمانوں کے مقابلہ کی غرض سے روانہ کی‘ حالاں کہ مسلمانوں کے چاروں لشکروں کا مجموعہ تیس ہزار کے قریب تھا۔ اس سے بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے کہ ہرقل نے کیسی زبردست تیاریاں مسلمانوں کے استیصال کی پہلے سے کر رکھی تھیں‘ لیکن اس میں شک نہیں کہ خود ہرقل اپنی ذات سے اس بات کا خواہشمند نہ تھا کہ ضرور مسلمانوں سے لڑے اور وہ تو لڑائی کو ٹالنا اور جہاں تک ممکن ہو مسلمانوں سے بے تعلق رہنا چاہتا تھا‘ لیکن اس کے تمام درباری‘ تمام امراء‘ تمام سردارن فوج‘ اور تمام صوبیدار ہمہ تن آمادہ و مستعد تھے کہ ملک عرب پر حملہ کیا جائے‘ اس مطلب کو ان الفاظ میں بھی ادا کیا جا سکتا ہے کہ ہر قل تو لڑائی پر آمادہ نہ تھا‘ لیکن رومی گورنمنٹ پورے پر طور پر آمادہ و مستعد تھی‘ لہذا ہرقل کو رومی گورنمنٹ کا شہنشاہ ہونے کی حیثیت سے ہر ایک اہتمام ایک ہوشیار و تجربہ کار مہتمم کی طرح کرنا پڑتا تھا۔
مسلمان سردار اگرچہ ایک دوسرے سے جدا سفر کر رہے تھے لیکن حکم صدیقی کے موافق ایک دوسرے کے حالات سے باخبراور آپس میں سلسلہ پیام رسانی کو قائم رکھے ہوئے تھے‘ جب حدود شام میں داخل ہونے کے بعد ان کو معلوم ہوا کہ ہر ایک لشکر کے مقابلہ پر اس سے آٹھ گنی رومی فوج جو ہر طرح کیل کانٹے سے درست ہے آ رہی ہے تو ایک طرف صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو اطلاع دی‘ دوسری طرف انہوں نے مناسب سمجھا کہ ہم کو ایک جگہ متحد ہو کر مقابلہ کرنا چاہیے۔
اتفاق کی بات کہ ادھر چاروں سردار اپنی اپنی فوجوں کو لیے ہوئے ایک جگہ یرموک میںجمع ہوئے‘ ادھر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے رومی لشکر کی کثرت اور تیاریوں کا حال سن کر ایک طرف تو چاروں سرداروں کے نام ایک جگہ جمع ہو کر مقابلہ کرنے کا حکم بھیجا‘ دوسری طرف سیدنا خالدبن ولید رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ تم صوبہ حیرہ میں اپنی جگہ مثنی بن رضی اللہ عنہ حاثہ کو وہاں کا ذمہ دار افسر بنا کر نصف فوج مثنی رضی اللہ عنہ کے پاس چھوڑ کر اور نصف فوج خود لے کر شام کی طرف چلے جائو اور وہاں کی تمام افواج اسلام کا اہتمام بحیثیت سپہ سالار اعظم اپنے ہاتھ میں لے لو۔
سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ دیکھ چکے تھے کہ خالد رضی اللہ عنہ بن ولید نے ایرانی افواج کو کس طرح پیہم شکستیں دے کر ایک بڑا علاقہ سلطنت ایران سے چھین لیا ہے‘ ان کی نظر میں خالد رضی اللہ عنہ سے بہتر کوئی شخص نہ تھا جو اس خطرناک حالت میں رومیوں کا مقابلہ کامیابی سے کر سکے‘‘ یہ بھی جانتے تھے کہ خالد کا سب سے بڑا اور سب سے پہلا کارنامہ جنگ موتہ تھا کہ انہوں نے اسلامی لشکر کی بگڑی ہوئی تھی حالت کو سدھار لیا تھا‘ جس کے صلہ میں بارگاہ ایزدی سے ان کو سیف اللہ کا خطاب ملا تھا‘ لہذا انہوں نے مناسب سمجھا کہ چاروں نہایت زبردست اور قابل سپہ سالاروں کے پاس سیف اللہ کو بھیجنا اور ان چاروں پر ان کو سردار بنا دینا ضرور مفید ہو گا چنانچہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے دس ہزار فوج مثنی بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے پاس چھوڑ دی‘ اور دس ہزار فوج لے کر شام روانہ ہوئے۔
ادھر ہرقل نے جب یہ دیکھا کہ چاروں اسلامی لشکر ایک جگہ جمع ہو گئے ہیں تو اس نے بھی اپنے چاروں سرداروں کو حکم دیا کہ ایک جگہ جمع ہو کر مقابلہ کرو‘ چاروں رومی لشکر جمع ہو کر چشمہ یرموک کے دوسری جانب ایک ایسے بیضوی میدان میں خیمہ زن ہوئے جو پشت کی جانب پہاڑ اور سامنے کی جانب پانی سے محصور تھا‘ اس دو لاکھ چالیس ہزار رومی لشکر کا سپہ سالار اعظم ہرقل کا بھائی تذارق تھا‘ ہرقل نے اس کو لکھا کہ میں ایک زبردست لشکر اور تمہاری کمک کے لیے روانہ کر رہا ہوں‘ چنانچہ ماہان نامی سردار کو یرموک کی طرف روانہ کیا‘ اسلامی لشکر جو چشمہ یرموک کے اس طرف میدان میں پڑا ہوا تھا خود رومیوں پر اپنی قلت کے سبب حملہ نہ کر سکتا تھا‘ ادھر رومی جو ایک قدرتی حصار کے اندر محفوظ تھے باہر نکل کر مسلمانوں پر حملہ آور ہونے میں پس و پیش کر رہے تھے۔
یرموک میں جب دونوں طرف کے لشکر جمع ہوئے ہیں تو صفر کا مہینہ تھا‘ انہیں ایام میں یا دو چار روز بعد سیدنا خالد رضی اللہ عنہ بن ولید عراق سے اپنا دس ہزار لشکر لے کر یرموک کی جانب روانہ ہوئے‘ راستہ میں سیدنا خالد بن ولید کو کئی جگہ دشمن قبائل اور دشمن رئیسوں کی فوجوں نے روکا ٹوکا‘ ہر جگہ خالد لڑتے دشمنوں کو مارتے بھگاتے اور سامنے سے ہٹاتے ہوئے ماہ ربیع الاول ۱۳ ھ میں یرموک پہنچ گئے‘ یرموک میں ہرقل کی طرف سے کئی سردار اور بطریق فوجی امداد کے ساتھ رومی لشکر میں آ آ کر شریک ہو چکے تھے‘ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے آنے سے پہلے اگرچہ معمولی چھیڑ چھاڑ دونوں لشکروں میں ہو جاتی تھی‘ مگر کوئی اہم قابل تذکرہ معرکہ ابھی تک نہیں ہوا تھا۔