سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ

وفات صدیقی

شام کے ملک میں یرموک کی لڑائی نے قیصر ہرقل کو بدحواس بنا دیا تھا‘ جب یرموک کے بھاگے ہوئے سپاہی حمص میں ہرقل کے پاس جہاں وہ نتیجہ جنگ کا انتظار کر رہا تھا پہنچے ہیں تو وہ اپنے کئی لاکھ آہن پوش لشکر کا مٹھی بھر مسلمانوں کے ہاتھ سے تہس نہس ہونا سن کر ششدر رہ گیا اور فوراً حمص سے روانہ ہو کر کسی دوسرے مقام کی طرف چل دیا‘ جاتے ہوئے یہ حکم دے گیا کہ دمشق اور حمص کو اچھی طرح قلعہ بند اور مضبوط کر لیا جائے‘ مسلمان یرموک سے بڑھ کر دمشق کا محاصرہ کر چکے تھے‘ شام کے ملک پر گویا مسلمان قابض و متصرف ہو ہی چکے تھے یا ہونے والے تھے‘ ہرقل کی کمر یرموک میں ٹوٹ چکی تھی اور اب بجائے اس کے رومی عرب کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتے ان کی نگاہوں میں خود اپنی موت و ہلاکت پھرنے لگی تھی‘ اسی طرح عراق کا زرخیز و وسیع حصہ مسلمانوں کے قبضہ و تصرف میں آ چکا تھا‘ اسلامی حکومت ملک عرب میں مستقل و پائدار ہو کر ایران و روم کی سرحدوں کو پیچھے ہٹانے اور خود وسیع ہونے میں مصروف ہو چکی تھی۔ شروع ماہ جمادی الثانی ۱۳ ھ میں سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ بعارضہ تپ مبتلا ہوئے‘ پندرہ روز برابر شدت کا بخار رہا‘ جب آپ کو یقین ہوا کہ وقت آخر آ پہنچا ہے‘ تو آپ نے سب سے پہلے سیدنا عبدالرحمن بن عوف کو بلا کر خلافت کے متعلق مشورہ کیا‘ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے آپ نے فرمایا کہ عمر رضی اللہ عنہ کی بابت تمہارا کیا خیال ہے‘ انہوں نے کہا کہ عمر کے مزاج میں سخت گیری زیادہ ہے‘ آپ نے فرمایا کہ عمر کی سختی کا سبب صرف یہ ہے کہ میں نرم طبیعت رکھتا تھا‘ میں نے خود اندازہ کر لیا ہے کہ جس معاملہ میں نرمی اختیار کرتا تھا اس میں عمر رضی اللہ عنہ کی رائے سختی کی جانب مائل نظر آتی تھی‘لیکن جن معاملات میں میں نے سختی سے کام لیا ہے ان میں عمر رضی اللہ عنہ ہمیشہ نرمی کا پہلو اختیار کرتے تھے‘ میرا خیال ہے کہ ان کو ضرور نرم دل اور معتدل بنا دے گی‘ اس کے بعد آپ نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو بلا کریہی سوال کیا‘ انہوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا باطن ان کے ظاہر سے اچھا ہے‘ اور ہم میں سے کوئی ان کے مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتا‘ پھر آپ نے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کو بلا کر یہی سوال کیا‘ انہوں نے بھی یہی جواب دیا جو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ دے چکے تھے‘ اس کے بعد سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے‘ آپ نے ان کے سامنے بھی فرمایا کہ میرا ارادہ ہے کہ اپنے بعد عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کا خلیفہ مقرر کر جائوں‘ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ خدائے تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے کہ آپ نے رعیت کے ساتھ کیسا معاملہ کیا‘ یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ مجھ کو اٹھا کر بٹھا دو‘ چنانچہ آپ کو بٹھایا گیا‘ آپ نے فرمایا میں خدائے تعالیٰ کو جواب دوں گا کہ میں نے تیری مخلوق پر تیری مخلوق کے بہترین شخص کو خلیفہ مقرر کیا ہے‘ یہ سن کر سیدنا طلحہ خاموش ہو رہے‘ پھر آپ نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو بلا کر وصیت نامہ لکھنے کا حکم دیا‘ شدت علالت کی وجہ سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رک رک کر بولتے جاتے اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ لکھتے جاتے تھے‘ اس وصیت نامہ کا مضمون یہ تھا۔ ’’یہ وہ عہد ہے جو ابوبکر خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس وقت کیا ہے جب کہ اس کا آخری وقت دنیا میں اور اول وقت آخرت کا ہے‘ ایسی حالت میں کافر بھی ایمان لاتا اور فاجر بھی یقین لے آتا ہے‘ میں نے تم لوگوں پر عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا ہے اور میں نے تم لوگوں کی بھلائی اور بہتری میں کوتاہی نہیں کی‘ پس اگر عمر رضی اللہ عنہ نے صبر وعدل سے کام لیا تو یہ میری اس کے ساتھ واقفیت تھی اور اگر برائی کی تو مجھ کو غیب کا علم نہیں ہے‘ اور میں نے تو بہتری اور بھلائی کا قصد کیا ہے‘ اور ہر شخص کو اپنے نتائج اعمال سے سابقہ پڑنا ہے {وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا اَیَّ مُنقَلَبٍ یَّنقَلِبُوْنَ} (الشعرآء : ۲۶/۲۲۷) (جنہوں نے ظلم کیا ہے عنقریب دیکھ لیں گے کہ کس پہلو پر پھیرے جاتے ہیں‘‘۔)