سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ
بعض خصوصی فضائل
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اسلام لانے سے پیشتر باز ارعکاظ میں جہاں اہل فن کا سالانہ اجتماع ہوتا تھا اور بہت بڑا میلہ لگتا تھا اکثر دنگل میں کشتی لڑا کرتے تھے اور ملک عرب کے نامی پہلوانوں میں سمجھے جاتے تھے‘ شہسواری میں یہ کمال حاصل تھا کہ گھوڑے پر اچھل کر سوار ہوتے اور اس طرح جم کر بیٹھتے کہ بدن کو حرکت نہ ہوتی تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت کے وقت فتوح البلدان کی روایت کے موافق قریش میں صرف سترہ آدمی ایسے تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے‘ ان میں ایک سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے‘ مسلمانوں میں سے چالیس مسلمان مردوں اور گیارہ عورتوں کے بعد اسلام لائے‘ بقول بعض انتالیس مردوں اور تئیس عورتوں کے بعد‘ اور بقول دیگر ۴۵ مردوں اور گیارہ عورتوں کے بعد اسلام میں داخل ہوئے‘ آپ سابقین اولین اور عشرہ مبشرہ میں ہیں‘ آپ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے خسر ہیں‘ آپ رضی اللہ عنہ کا شمار علماء اور زہاد صحابہ رضی اللہ عنھم میں ہے‘ ۳۹ ھ حدیثیں آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں جن کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ‘علی رضی اللہ عنہ ‘طلحہ رضی اللہ عنہ ‘ سعد رضی اللہ عنہ ‘ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ‘ ابوذر رضی اللہ عنہ ‘ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ‘ عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ ‘ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ‘ انس رضی اللہ عنہ ‘ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ‘ عمرو بن عاص‘ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ‘ براء بن عازب‘ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ‘ اور دیگر صحابہ کرام رضوان علیہم اجمعین نے روایت کیا ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ جس روز سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایمان لائے اس روز مشرکین نے کہا کہ آج مسلمانوں نے ہم سے سارا بدلہ لے لیا اور اسی روز آیت {یٰٓــاَیُّھَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ اللّٰہُ وَ مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ} (الانفال : ۸/۶۴) نازل ہوئی‘ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ جس روز سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایمان لائے اس روز سے اسلام عزت ہی پاتا گیا۔۱؎ آپ رضی اللہ عنہ کا اسلام گویا فتح اسلام تھی‘ اور آپ رضی اللہ عنہ کی ہجرت گویا نصرت تھی‘ اور آپ رضی اللہ عنہ کی امامت رحمت تھی‘ ہماری مجال نہ تھی کہ کہ ہم کعبہ شریف میں نماز پڑھ سکیں‘ لیکن جب عمرفاروق رضی اللہ عنہ ایمان لائے تو آپ رضی اللہ عنہ نے مشرکین سے اس قدر جدال و معرکہ آرائی کی کہ مجبوراً ان کو ہمیں نماز پڑھنے کی اجازت دینی پڑی۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سے سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ ایمان لائے اسلام بمنزلہ ایک اقبال مند آدمی کے ہو گیا کہ ہر قدم پر ترقی کرتا تھا‘ اور جب سے آپ رضی اللہ عنہ نے شہادت پائی اسلام کے اقبال میں کمی آ گئی کہ ہر قدم پیچھے ہی پڑتا ہے۔
ابن سعد‘ صہیب بن سنان رومی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایمان لائے اسلام ظاہر ہوا‘ ہم کعبہ کے گرد بیٹھنے‘ طواف کرنے‘ مشرکین سے بدلہ لینے اور ان کو جواب دینے لگے‘ ابن عساکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ سے روایت کی ہے کہ ہر شخص نے خفیہ طور پر ہجرت کی ہے‘ لیکن جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہجرت کا قصد کیا تو ایک ہاتھ میں برہنہ تلوار لی‘ دوسرے میں تیر اور پشت پر کمان کو لگا کر خانہ کعبہ میں تشریف لائے‘ سات مرتبہ طواف کیا اور دو رکعتیں مقام ابراہیم کے پاس کھڑے ہو کر پڑھیں‘ پھر سرداران قریش کے حلقہ میں تشریف لائے اورایک ایک سے کہا کہ تمہارے منہ کالے ہوں جو شخص اپنی ماں کو بے فرزند اور اپنی بیوی کو بیوہ کرنا چاہتا ہو وہ آ کر مجھ سے مقابل ہو‘ کسی کو جرات نہ ہوئی کہ آپ رضی اللہ عنہ کو روکتا۔۔۔ امام نووی کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہر ایک جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ رہے اور یوم احد میں ثابت قدم رہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ میں نے بحالت خواب (یا سفر معراج میں) جنت میں دیکھا کہ ایک عورت ایک قصر کے پہلو میں بیٹھی ہوئی وضو کر رہی ہے‘ میں نے پوچھا کہ یہ قصر کس کا ہے‘ معلوم ہوا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا ہے‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ مجھ کو تمہاری غیرت یاد آ گئی اور میں وہیں سے لوٹ آیا‘ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمایا کہ میں اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے غیرت کروں۔۱؎
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا کہ میں نے ایک مرتبہ خواب میں دیکھا کہ میں نے دودھ پیا ہے اور اس کی تازگی میرے ناخنوں تک پہنچ گئی ہے‘ پھر میں نے وہ دودھ عمر رضی اللہ عنہ کو دے دیا‘ لوگوں نے پوچھا‘ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اس کی تعبیر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ دودھ سے مراد علم ہے۔۲؎
ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ لوگوں کو میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور وہ قمیص پہنے ہوئے ہیں‘ بعض کے قمیص سینے تک ہیں‘ بعض کے اس سے زیادہ‘ مگر عمر رضی اللہ عنہ کا قمیص زمین میں گھسٹتا جاتا ہے‘ لوگوں نے پوچھا کہ قمیص سے مراد کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ دین۔۳؎
ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ واللہ جس راستے سے تم جاتے ہو اس راستے کو شیطان چھوڑ کر کوئی دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔
ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میرے بعد اگر کوئی نبی ہونے والا ہوتا تو وہ عمر رضی اللہ عنہ ہی ہوتا۔
ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ چراغ اہل جنت ہیں۔
ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب تک عمر رضی اللہ عنہ تمہارے درمیان رہے گا فضول کا دروازہ بند رہے گا۔
ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ آسمان کا ہر فرشتہ عمر رضی اللہ عنہ کا وقار کرتا ہے اور زمین کا ہر شیطان اس سے ڈرتا ہے۔
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کہ جتنے نبی مبعوث ہوئے ہیں ان کی امت میں ایک محدث ضرور ہوا ہے‘ اگر میری امت میں بھی کوئی محدث ہو سکتا ہے تو وہ عمر رضی اللہ عنہ ہے لوگوں نے پوچھا کہ محدث کسے کہتے ہیں‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جس کی زبان سے ملائکہ باتیں کریں۔۴؎
سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ روئے زمین پر کوئی شخص عمر رضی اللہ عنہ سے زیادہ مجھ کو عزیز نہیں ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ جب صالحین کا ذکر کرو تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نہ بھول جائو۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد ہم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو سب سے زیادہ ذہین پایا۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اگر دنیا بھر کا علم ترازو کے ایک پلڑے میں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا علم دوسرے پلڑے میں رکھ کر تولا جائے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا پلڑا بھاری رہے گا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دنیا بھر کا علم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی گود میں پڑا ہوا ہے‘ نیز یہ کہ کوئی شخص سوائے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ایسا نہیں ہے جس نے جرات کے ساتھ راہ اللہ تعالیٰ میں ملامت سنی ہو ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو کپڑا اوڑھے ہوئے دیکھ کر فرمایا کہ اس کپڑے اوڑھے ہوئے شخص سے زیادہ مجھے کوئی عزیز نہیں ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ارادہ کی پختگی اور ہوش مندی و دلیری سے پر ہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت ان چار باتوں سے معلوم ہوتی ہے‘ اول اسیران جنگ بدر کے قتل کا حکم دیا اور اس کے بعد آیت {لَوْ لَا کِتَابٌ مِّنَ اللّٰہِ} (الانفال : ۸/۶۸) ’’اگر اللہ کا حکم پہلے نہ ہو چکا ہوتا تو…‘‘ نازل ہوئی‘ دوم آپ رضی اللہ عنہ نے امہات المومنین کو پردہ کرنے کے لیے کہا اور پھر آیت پردہ نازل ہوئی۔ اسی پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ وحی تو ہمارے گھر میں اترتی ہے اور تم کو پہلے ہی القا ہو جاتا ہے‘ سوم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا دعا کرنا الٰہی عمر رضی اللہ عنہ کو مسلمان کر کے اسلام کی مدد فرما‘ چہارم آپ رضی اللہ عنہ کا اول ہی سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ سے بیعت کر لینا۔ مجاہد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم اکثر یہ ذکر کیا کرتے تھے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں شیطان قید میں رہے اور آپ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد آزاد ہو گئے۔ ابواسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم جانتے بھی ہو کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ کون تھے۔ وہ اسلام کے لیے بمنزلہ ماں اور باپ کے تھے۔ سیدنا جعفر صادق رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ میں اس شخص سے بیزار ہوں جو سیدنا ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہ کو بھلائی سے یاد نہ کرے۔