سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ
نجران کے عیسائیوں کی جلاوطنی
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ملک یمن کی طرف جا کر نجران کے عیسائیوں سے کہہ دو کہ تم اس ملک کو چھوڑ دو‘ ہم تم کو حدود عرب سے باہر ملک شام میں تمہاری ان زمینوں سے زیادہ زرخیز زمینیں اور ان زمینوں سے زیادہ وسیع زمینیں دیتے ہیں‘ اور تم کو کسی مالی و جسمانی محنت و نقصان میں مبتلا کرنا نہیں چاہتے‘ ملک عرب اب صرف مسلمانوں کے لیے رہے گا‘ غیر مسلم ہونے کی حالت میں تمہارا قیام یہاں ممکن نہیں۔
بعض کوتاہ فہم لوگ نجران کے نصرانیوں کی اس جلاوطنی کو ناجائز فعل قرار دے کر معترض ہوا کرتے ہیں‘ لیکن وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ مدینہ کے یہودیوں نے بھی مسلمانوں کے خلاف سازشوں اور رومیوں کو مسلمانوں پر حملہ آور ہونے کی ترغیب دینے میں خاص طور پر کوشش کی تھی‘ اور اب نجران کے عیسائی بھی مسلمانوں کے بیچ میں رہ کر رومی سلطنت کے لیے جو برسر پرخاش تھی جاسوسی اور ہر قسم کی مخالف اسلام سازشوں کے کامیاب بنانے میں مصروف تھے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ملک عرب کے عیسائیوں اور یہودیوں کی سود خوری اور مخالف اسلام سازشی کارروائیوں سے واقف تھے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم مسلمانوں کو یہودیوں اور عیسائیوں کی ہمسائیگی سے اس لیے بچانا چاہتے تھے کہ ان کی یہ بد عادات کہیں مسلمانوں میں سرایت نہ کر جائیں‘اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے نجران کے عیسائیوں سے جو عہد نامہ کیا تھا اس میں ایک یہ شرط بھی تھی کہ عیسائی سود خوری کی عادت ترک کردیں گے اور اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے وصیت فرمائی تھی کہ ملک عرب میں یہودی اور عیسائی نہ رہنے پائیں۔
نجران کے نصرانیوں نے ہرقل کے ساتھ ہمدردانہ طرز عمل اختیار کر کے اور سود خوری کو ترک نہ کر کے اپنے آپ کو خود ہی اس سلوک کا مستحق بنا لیا تھا کہ ان کو ملک عرب سے جلا وطن کر دیا جائے۔
آج کل بھی ہم یہودیوں کی جلاوطنیوں کا حال اخبارات میں پڑھا کرتے ہیں جو ان کو یورپ کے متمدن ملکوں سے جبریہ اختیار کرنی اور اپنی جائدادیں حسرت کے ساتھ چھوڑنی پڑتی ہیں‘ ان جلاوطنیوں کے مقابلہ میں نجران کے نصرانیوں کی جلاوطنی تو ایک رحمت تھی نہ کہ مصیبت۔