سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ
بویب کی شکست
مہران کے قتل اور لشکر عظیم کی بربادی کا حال معلوم صرف دربار ایران بلکہ تمام ملک ایران میں کہرام برپا ہو گیا‘ لڑائی کے لکھ کر بھیجا گیا کہ فوراً مدینہ کی طرف آئو‘ چنانچہ سیدنا سعد چند روز کے بعد فاروق اعظم کی خدمت میں پہنچے‘ لشکر مقام ضرار میں مقیم رہا۔
سیدنا فاروق اعظم نے سیدنا سعد بن ابی وقاص کو مناسب ہدایات کیں اور ہر ایک چھوٹے بڑے واقعہ سے اطلاع دیتے رہنے کی تاکید کر کے اور سپہ سالار افواج بنا کر روانہ کیا‘ سعد بن ابی وقاص چار ہزار کا لشکر لے کر روانہ ہوئے اور اٹھارہ منزلیں طے کر کے مقام ثعلبہ میں پہنچ کر مقیم ہوئے‘ سیدنا سعد کی روانگی کے بعد ہی فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے دو ہزار یمانی اور دو ہزار نجدی بہادروں کا لشکر سعد رضی اللہ عنہ کی کمک کے لیے روانہ فرمایا‘ جو سعد بن ابی وقاص سے آملے مثنی بن حارثہ موضع ذی قار میں سیدنا سعد بن ابی وقاص کی آمد کے منتظر آٹھ ہزار آدمیوں کا لشکر لیے ہوئے پڑے تھے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر فرات کی طرف بڑھیں۔
سیدنا مثنی بن حارثہ رضی اللہ عنہ واقعہ جسر میں زخمی ہو گئے تھے‘ ان کے زخموں کی حالت روز بروز خراب ہوتی گئی بالآخر جب کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص مقام ثعلبہ میں جا کر فروکش ہوئے ہیں تو وہاں خبر پہنچی کہ سیدنا مثنی بن حارثہ نے انتقال فرمایا۔