سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ

بہرہ شیر کی فتح

بہرہ شیر ایک مقام کا نام تھا‘ جو مدائن کے قریب ایک زبردست قلعہ اور شہر تھا‘ بہرہ شیر میں شاہی باڈی گارڈ کا ایک زبردست رسالہ اور دارالسلطنت کی حفاظت کے لیے نہایت زبردست اور بہادر فوج رہتی تھی مدائن اور بہرہ شیر کے درمیان دریائے دجلہ حائل تھا‘ بہرہ شیر اس طرف تھا اور مدائن دجلہ کے اس طرف تھا‘ شہنشاہ ایران کبھی بہرہ شیر میں آ کر رہتا تھا‘ یہاں بھی شاہی ایوان‘ اور شاہی کارخانے موجود تھے‘ اسلامی لشکر کوثی سے آگے بڑھا تو بہرہ شیر پہنچنے تک کئی مقامات پر ایرانیوں کا مقابلہ کرنا اور ان کو شکست دے کر راستے سے ہٹانا پڑا‘ یہاں تک کہ مسلمانوں نے بہرہ شیر کا محاصرہ کر لیا‘ یہ محاصرہ تین مہینے تک جاری رہا‘ آخر محصورین سختی سے تنگ آ کر مقابلہ پر آمادہ ہوئے‘ اور شہر پناہ سے باہر مقابلے پر آئے‘ بالآخر مقتول و مفرور ہوئے اور اسلامی لشکر فاتحانہ بہرہ شیر میں داخل ہوا‘ بہرہ شیر کے مفتوح ہوتے ہی یزدجرد نے مدائن سے بھاگنے اور اموال و خزائن کے مدائن سے منتقل کرنے کی تدابیر اختیار کیں‘ مدائن سے یزدجرد کا معہ خزائن کے بھاگ جانا مسلمانوں کے لیے خطرات کا بدستور باقی رہنا تھا۔ بحرظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نے سیدنا سعد کو اب اس بات کا خیال تھا کہ جس قدر جلد ہو مدائن پر قبضہ کریں‘ لیکن دریائے دجلہ بیچ میں حائل تھا اور اس کا پایاب عبور کرنا سخت دشوار تھا‘ ایرانیوں نے بہرہ شیر سے بھاگتے ہوئے پل کو بالکل مسمار اور منہدم کر دیا تھا‘ دور دور تک کوئی کشتی بھی نہیں چھوڑی تھی‘ دوسرے کنارے پر ایرانی فوج بھی متعین تھی جو عبور دریا سے مانع تھی۔ دوسرے روز سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے گھوڑے پر سوار ہو کر اور تمام فوج کی کمر بندی کرا کر فرمایا کہ تم میں کون ایسا بہادر سردار ہے جواپنی جمعیت کے ساتھ اس بات کا وعدہ کرے کہ وہ ہم کو دریا کے عبور کرنے کے وقت دشمن کے حملہ سے بچائے گا‘ سیدنا عاصم بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اس خدمت کی ذمہ داری قبول کی اور چھ سو تیر اندازوں کی ایک جماعت لے کر دریائے دجلہ کے اس کنارے ایک اونچے مقام پر جا بیٹھے‘ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے نستعین باللہ و نتوکل علیہ حسبنا اللہ و نعم الوکیل ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ۱؎کہہ کر اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا‘ ان کی تقلید میں دوسروں نے بھی جرات سے کام لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے لشکر اسلام دجلہ کی طوفانی موجوں کا مقابلہ کرتا ہوا دوسرے کنارے کی طرف متوجہ ہوا‘ یہ سیلاب لشکر جب نصف سے زیادہ دریا کو عبور کر چکا تو اس طرف سے ایرانی تیر اندازوں نے تیر بازی شروع کی ادھر سے عاصم اور ان کی جماعت نے ایرانی تیر اندازوں پر اس زور و قوت کے ساتھ تیر پھینکے کہ بہت سے ایرانی مقتول و مجروح ہوئے اور اس بلائے بے درماں سے اپنی جان بچانے کی تدبیروں میں مصروف ہو کر لشکر اسلام کو عبور دریا سے نہ روک سکے مسلمانوں نے اس طرف پہنچ کر ایرانیوں کو قتل کرنا شروع کیا۔