سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ

فتح قنسرین

سلمیہ کی فتح کے بعد سیدنا خالد بن ولید اپنی رکابی فوج لے کر بحکم سیدنا ابوعبیدہ قنسرین کی جانب بڑھے وہاں میناس نامی رومی سردار نے جس کا مرتبہ ہرقل کے بعد سب سے بڑا تھا آگے بڑھ کر خالد بن ولید کا مقابلہ کیا‘ خالد بن ولید نے سخت مقابلہ کے بعد اس کو پسپا ہونے پر مجبور کیا‘ وہ قنسرین میں داخل ہو کر قلعہ بند ہوا اور خالد بن ولید نے آگے بڑھ کر قنسرین کا محاصرہ کر لیا‘ انجام کار قنسرین مفتوح ہوا‘ اس فتح کا حال جب سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو وہ سیدنا خالد بن ولید سے بہت خوش ہوئے اور ان کے اختیارات اور فوجی سرداری میں نمایاں اضافہ فرمایا۔