سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ
فتح تکریت و جزیرہ
مذکورہ بالا واقعات کے پڑھنے سے رجب ۱۶ ھ تک کی اسلامی تاریخ جو شام و عراق سے تعلق رکھتی ہے ہماری نظر سے گذر گئی‘ اب آگے روم و ایران کے واقعات میں سے کسی ایک کے سلسلہ کو شروع کرنے سے پیشتر تکریت کی فتح اور صوبہ جزیرہ پر لشکر اسلام کے قبضہ کا حال اس لیے بیان کرنا ضروری ہے کہ تکریت میں رومیوں اور ایرانیوں نے مل کر مسلمانوں کا مقابلہ کیا تھا‘ اسی طرح جزیرہ کے قبضہ میں لانے کا باعث مسلمانوں کی عراقی و شامی دونوں فوجیں ہوئی ہیں‘ نیز یہ کہ مذکورہ بالا واقعات کے بعد ہی تکریت والجزیرہ کے واقعات وقوع پذیر ہوئے ہیں۔
تکریت میں ایک ایرانی صوبہ دار رہا کرتا تھا‘ اس نے جب سنا کہ مدائن پر مسلمانوں کا قبضہ ہو چکا ہے تو اس نے رومیوں کو اپنی طرف متوجہ کیا‘ رومی لوگوں پر بھی چوں کہ اسلامی فوجوں کی ضربیں پڑ رہی تھیں وہ بہت آسانی سے اس سرحدی صوبہ دار کی اعانت پر آمادہ ہو گئے ساتھ ہی ایاد‘ تغلب‘ نمر وغیرہ عرب قبائل جو عیسائی تھے رومیوں کی ترغیب سے مرزبان تکریت کے ساتھ شریک ہو گئے۔
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی ہدایت کے مطابق سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بن ابی وقاص نے عبداللہ بن معتم کو پانچ ہزار کی جمعیت کے ساتھ تکریت کی جانب روانہ کیا‘ اسلامی لشکر نے جا کر تکریت کا محاصرہ کر لیا‘ بڑی خوں ریز جنگ کے بعد رومیوں اور ایرانیوں کو شکست فاش حاصل ہوئی‘ عرب قبائل میں اکثر نے دین اسلام قبول کر لیا‘ بہت ہی تھوڑے ایرانی اور رومی جان بچا کر بھاگ سکے ورنہ سب وہیں مقتول ہوئے‘ اس لڑائی میں مال غنیمت اس قدر ہاتھ آیا کہ جب خمس نکال کر لشکر پر تقسیم کیا گیا تو ایک ایک سوار کے حصہ میں تین تین ہزار درہم آئے۔
صوبہ جزیرہ بھی شام و عراق کے درمیان کبھی رومی سلطنت کے زیر اثر ہوتا ‘ کبھی ایرانی سلطنت کی ماتحتی میں آ جاتا تھا‘ اہل جزیرہ نے اسلامی فتوحات کے نقشے دیکھ دیکھ کر ہرقل کو لکھا کہ آپ شام کے مشرقی شہروں کی طرف حفاظتی افواج بھیجیں‘ ہم سب مل کر آپ کی اور آپ کی فوجوں کی مدد کریں گے‘ ہرقل نے اہل جزیرہ کی اس درخواست کو تائید غیبی سمجھ کر شام کے مشرقی شہروں کی طرف فوجیں روانہ کیں‘ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ان حالات سے واقف ہو کر ایک طرف سعد بن ابی وقاص کو لکھا کہ اہل جزیرہ کو ان کی حدود سے باہر نہ نکلنے دو‘ دوسری طرف سیدنا ابوعبیدہ کو لکھا کہ قیصر کی فوجوں کو حمص و قنسرین کی طرف بڑھنے سے روکو‘ چنانچہ عراقی و شامی ہر دو افواج نے اپنا اپنا کام عمدگی سے انجام دیا اور تمام صوبہ جزیرہ سیدنا عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بہت سی چھوٹی چھوٹی لڑائیوں کے بعد ایک سرے سے دوسرے سرے تک مفتوح ہو گیا‘ یہ واقعہ ۱۷ ھ کا ہے۔