سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ
خالدبن ولید کی معزولی
عام طور پر لوگ کہتے ہیں کہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے تخت خلافت پر بیٹھتے ہی خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو معزول کر دیا تھا‘ لیکن اس بات کے سمجھنے میں لوگوں سے بہت غلطی ہوئی ہے‘ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے شروع عہد خلافت میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو حقیقی طور پر معزول نہیں کیا تھا بلکہ ان کا درجہ کسی قدر کم کیا تھا‘ پہلے خالد بن ولید سپہ سالار اعظم تھے‘ سیدنا فاروق اعظم نے انہیں نائب سپہ سالاراعظم بنا دیا تھا‘ اس ایک درجہ کے ٹوٹنے سے ان کی ذمہ داریوں میں کوئی نمایاں فرق نہ آیا تھا‘ صرف اس بات کی روک تھام ہو گئی تھی کہ وہ آزادنہ طور پر مسلمانوں کی جمعیت کو کسی خطرے کے مقام میں نہیں لے جا سکتے تھے اور سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی رضامندی اور اجازت ان کو حاصل کرنی پڑتی تھی۔
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی معزولی کا اصل واقعہ ۱۷ ھ کے آخری میہنوں میں ہوا‘ اور اس کی تفصیل اس طرح ہے کہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ہر سردار فوج‘ ہر عامل‘ ہر حصہ فوج اور ہر شہر کے حال سے باخبر رہتے تھے‘ آپ کے پرچہ نویس ہر فوج اور ہر شہر میں موجود ہوتے تھے اور بلاکم وکاست ضروری حالات سے خلیفہ وقت کو آگاہ رکھتے تھے‘ حالانکہ ہر ایک عامل اور ہر ایک سردار فوج خود بھی اپنے حالات کی اطلاع دربار خلافت میں بھیجتا رہتا تھا۔
فاروق اعظم کو ان کے پرچہ نویس نے اطلاع دی کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جو صوبہ جزیرہ کی فتح سے ابھی واپس ملک شام میں آئے ہیں اپنے ساتھ بے حد مال و دولت لائے ہیں اور انہوں نے اپنی مدح کے صلہ میں اشعث بن قیس شاعر کو دس ہزار درہم دئیے ہیں‘ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ خالد رضی اللہ عنہ سے سر مجلس دریافت کیا جائے کہ تم نے اشعث کو انعام اپنی گرہ سے دیا ہے یا بیت المال سے‘ اگر اپنی گرہ سے دیا ہے تو اسراف ہے اور بیت المال سے دیا ہے تو خیانت‘ دونوں صورتوں میں معزولی کے قابل ہو‘ خالد رضی اللہ عنہ کا عمامہ اتار کر اسی عمامہ سے ان کی گردن باندھی جائے‘ قاصد سے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہہ دیاتھا کہ اگر خالد بن ولید اپنی غلطی کا اقرار کریں تو ان سے درگذر کی جائے‘ چنانچہ وہ مجمع عام میں بلائے گئے‘ قاصد نے ان سے پوچھا کہ یہ انعام تم نے کہاں سے دیا؟ خالد رضی اللہ عنہ یہ سن کر خاموش رہے اور اپنی خطا کا اقرار کرنے پر رضا مند نہ ہوئے‘ مجبوراً قاصد نے ان کا عمامہ اتارا اور اسی سے ان کی گردن باندھی اور پھر دوبارہ دریافت کیا تو خالد نے کہا کہ اشعث کو میں نے اپنے مال سے انعام دیا‘ بیت المال سے نہیں دیا‘ قاصد نے یہ سنتے ہی گردن کھول دی اور فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو اس کیفیت کی اطلاع دی۔
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے خالد بن ولید کو جواب دہی کے لیے مدینہ منورہ میں طلب فرمایا‘ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے حاضر ہو کر کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ ! واللہ تم میرے معاملہ میں انصاف نہیں کرتے ہو‘ فاروق اعظم نے کہا‘ تمہارے پاس اتنی دولت کہاں سے آئی اور اس قدر انعام و صلہ شاعر کو تم نے کہاں سے دیا؟ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مال غنیمت سے جو میرے حصہ میں آیا تھا انعام دیا تھا‘ پھر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اچھا ساٹھ ہزار سے جو کچھ زیادہ ہو وہ بیت المال میں داخل کرتا ہوں‘ چنانچہ حساب کرنے پر بیس ہزار زائد نکلے اور بیت المال میں داخل کر دئیے گئے۔
اس کے بعد دونوں حضرات میں صفائی ہو گئی اور کوئی وجہ کدورت باقی نہ رہی‘ سیدنا خالدبن ولید رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ شکایت شروع سے تھی کہ وہ فوجی حساب کتاب کو صاف نہ کرتے تھے اور مکمل حساب نہ سمجھاتے تھے‘ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ آزادانہ صرف کر دیا کرتے تھے اور ان کی شاہ خرچیاں اکثر اوقات کسی قاعدے کے تحت نہ آ سکتی تھیں‘ اسی لیے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ان کا ایک درجہ توڑ دیا تھا اور اب چشم نمائی کے طور پر دارالخلافہ میں طلب فرما کر ایک نوع کی تنبیہ کر دی تھی۔