سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ
فتح مصر
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ جب بیت المقدس تشریف لے گئے تھے تو عمرو بن العاص نے ان سے مصر پر فوج کشی کی اجازت حاصل کر لی تھی‘ چنانچہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے سیدنا زبیر بن العوام کو عمروبن العاص کا کمکی مقرر فرمایا تھا ‘ عمروبن العاص چار ہزار اسلامی لشکر لے کر مصر کی جانب بڑھے‘ مصر کے بادشاہ مقوقس کے پاس فاروق اعظم کی ہدایت کے موافق سیدنا عمرو نے تین شرطیں یعنی اسلام‘ جزیہ‘ جنگ لکھ کر بھیج دیں‘ آج کل مصر میں رومی سردار ارطبون بھی معہ اپنی فوج کے مقیم تھا‘ سب سے پہلے ارطبون اپنی فوج لے کر آگے بڑھا اور سخت معرکہ کے بعد شکست کھا کر بھاگا‘ مسلمانوں نے مقام عین شمس کا آگے بڑھ کر محاصرہ کر لیا اور یہیں سے مصر کی فوجی چھائونی حصار اور اسکندریہ کے محاصرے کے لیے دو دستے روانہ کئے‘ تینوں جگہ چند روز تک لڑائی اور محاصرہ کا سلسلہ جاری رہا‘ بالآخر عین شمس والوں نے جزیہ دے کر صلح کر لی‘ صلح کے بعد سیدنا عمروبن العاص نے ان قیدیوں کے واپس دینے سے انکار کیا جن کو بحالت جنگ اس سے پہلے گرفتار کر چکے تھے‘ یہ معاملہ فاروق اعظم کی خدمت میں پیش ہوا تو آپ نے عمروبن العاص رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ مصریوں کے تمام قیدیوں کو واپس کر دو۔
اس کے بعد سیدنا عمروبن العاص نے سیدنا زبیر بن العوام کو سپہ سالار بنا کر مقام فسطاط کی طرف روانہ کیا یہاں ایک زبردست قلعہ تھا جس کو سیدنا زبیر نے جنگ و پیکار بسیار کے بعد فتح کر لیا‘ پھر عمروبن العاص نے اسکندریہ پر حملہ کیا‘ تین مہینے کے محاصرہ کے بعد اسکندریہ مفتوح ہوا اور مقوقس شاہ مصر نے جو اسکندریہ میں مقیم تھا اس شرط پر صلح کی کہ جو شخص اسکندریہ سے جانا چاہے اس کو جانے دیا جائے اور جو اسکندریہ میں رہے اس کو رہنے دیا جائے‘ فتح اسکندریہ کے بعد سیدنا عمروبن العاص رضی اللہ عنہ نے اپنے تمام فوجی سرداروں اور لشکریوں کو اسکندریہ میں ٹھہرا کر بلاد و اطراف مصر کی طرف قبضہ و دخل اور انتظام قائم کرنے کے لیے تعینات کیا اور مصر سے فارغ ہو کر تویہ کی جانب توجہ کی۔