سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ

فتوحات فاروقی

اوپر جن جن ملکوں اور صوبوں کی فتوحات کا ذکر ہوا ہے‘ ان میں فارس و عراق و جزیرہ و خراسان و بلوچستان و شام و فلسطین و مصر و آرمینیا وغیرہ کا تذکرہ آ چکا ہے‘ یہ فتوحات جو فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی دس سالہ خلافت کے زمانہ میں ہوئیں معمولی فتوحات نہیں سمجھی جا سکتیں‘ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ۲۲ ھ میں اسلامی سلطنت کے جو صوبے مقرر فرمائے تھے ان کی تفصیل اس طرح ہے‘ مکہ‘ مدینہ‘ شام‘ جزیرہ‘ بصرہ‘ کوفہ‘ مصر‘ فلسطین ‘ خراسان آذربائیجان‘ فارس‘ ان میں سے بعض صوبے ایسے بھی تھے جو دو دو صوبوں کے برابر تسلیم کئے جاتے تھے‘ بعض صوبوں کے صدر مقام بھی دو دو تھے اور دونوں جگہ الگ الگ صوبے دار معہ اپنے کامل عملہ کے رہتے تھے‘ ہر صوبہ میں ایک والی یا عامل‘ ایک کاتب یا میر منشی‘ ایک بخشی فوج‘ ایک صاحب الخراج یا کلکٹر‘ ایک افسر پولیس‘ ایک افسر خزانہ اور ایک قاضی ضرور ہوتا تھا۔ خلافت فاروقی پر ایک عام تبصرہ لکھنے سے پیشتر شہادت فاروقی کا حال بھی بیان کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔