سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

۳۱ ھ کے واقعات

دربار خلافت سے جو احکام جاری ہوئے ان کے موافق ہرم بن حسان یشکری‘ ھرم بن حیان العندی ‘ حرث بن راشد بلاد فارس کے اضلاع میں‘ احنف بن قیس خراسان میں اور حبیب بن قرہ مرو میں خالد بن عبداللہ بلخ میں ‘ قیس بن ہبیرہ طوس میں عامل مقرر ہوئے‘ خراسان کے کئی شہروں میں بغاوت نمودار ہوئی‘ عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے فوج کشی کر کے تمام بغاوتوں کو فرو کیا پھر نیشاپور پر چڑھائی کر کے وہاں کے سرکشوں کو درست کیا‘ نیشا پور سے فارغ ہو کر سیدنا عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر سرخس کی طرف روانہ کیا اور ایک جمعیت لے کر خود ہرات کی جانب گئے‘ ہرات کو فتح کر کے بلخ و طبرستان کی بغاوتوں کو فرو کیا‘ اس کے بعد کرمان سبحستان اور فارس کے صوبوں میں جا کر وہاں کے تمام سرکشوں کو مطیع و منقاد کیا‘ اس طرح تمام بلاد ایران و عراق میں عبداللہ بن عامر کی دھاک بیٹھ گئی اور لوگ ان کے نام سے خوف کھانے لگے۔