ملک عرب
عبدالمطلب کی وجہ تسمیہ
ہاشم نے مدینہ کے ایک سردار کی لڑکی سے شادی کی اس کے بطن سے ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام شیبہ رکھا گیا‘ یہ لڑکا ابھی بچہ ہی تھا کہ ہاشم کا انتقال ہو گیا‘ اور ان کا بھائی مطلب مکہ کا حکمران ہوا‘ ہاشم کا بیٹا شیبہ مدینہ میں پرورش پاتا رہا‘ جب مطلب کو معلوم ہوا کہ ہاشم کا بیٹا جوان ہو گیا تو وہ اپنے بھتیجے کو لینے کے لیے خود مدینہ گیا‘ جب مطلب اپنے بھتیجے شیبہ کو لے کر مکہ میں داخل ہوا تو یہاں کے لوگوں نے غلطی سے سمجھا کہ یہ نوجوان مطلب کا غلام ہے‘ مطلب کو جب اس غلط فہمی کا حال معلوم ہوا تو اس نے لوگوں سے کہا یہ میرا بھتیجا اور ہاشم کا بیٹا ہے مگر لوگ اس کو عبدالمطلب ہی کے نام سے پکارتے رہے آخر شیبہ بن ہاشم کا نام عبدالمطلب ہی مشہور ہو گیا۔
عبدالمطلب کے اخلاق عزت و شہرت سب اپنے باپ ہاشم کا نمونہ تھے‘ امیہ کے بیٹے حرب کو عبدالمطلب کا اثر و اقتدار گراں گذرا اور اس نے بھی اپنے باپ کی طرح عبدالمطلب کو مقابلہ کے لیے دعوت دی‘ دستور کے موافق اس مرتبہ بھی منصف مقرر ہوا اور اس نے فیصلہ عبدالمطلب ہی کے حق میں دیا‘ ۱؎اس فیصلہ نے بنی امیہ اور بنی ہاشم کے درمیان عداوت کو اور بھی بڑھا دیا۔
عبدالمطلب کے زمانہ میں حبش کی فوج نے اپنے ایک سردار ابرہہ کے زیر کمان چڑھائی کی‘ یہی فوج اصحاب فیل کے نام سے موسوم ہوئی جو قدرتی اور آسمانی عذاب سے ہلاک و برباد ہوئی ہے۔ قریشی قبائل کے نسبی تعلقات کا حال اس شجرہ سے سمجھ میں آئے گا۔
عبدمناف کا خاندان
عبدمناف تمام ملک عرب میں سب سے زیادہ شریف و کریم تسلیم کئے جاتے تھے ان کے بعد ان کے بیٹے بھی شرفائے عرب میں سب پر فوقیت رکھتے تھے‘ عبدمناف کا اصل نام مغیرہ تھا ان کو قمر اور سید بھی کہتے تھے‘ چونکہ ان کے بھائیوں کا نام عبدالدار اورعبدالعزیٰ تھا اس لیے ان کو عبد مناۃ کے نام سے پکارنے لگے پھر عبد مناۃ سے ان کا نام عبد مناف مشہور ہو گیا