سیدنا علی رضی اللہ عنہ

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حمایت حق

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے معبد اسلمی کے ہاتھ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس ایک خط روانہ کیا جس کے جواب میں ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ اہل کوفہ نے میرے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے‘ اکثر نے یہ بیعت برضاو رغبت کی ہے اور بعض نے بہ اکراہ‘ اس خط کے آجانے سے گونہ اطمینان کوفہ کی طرف سے حاصل ہوا‘ جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے نام کوفہ کی جانب خط روانہ کیا گیا تھا‘ اسی وقت دوسرا خط جریر بن عبداللہ اور سبرہ جہنی کے ہاتھ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے نام دمشق کی جانب بھیجا گیا‘ وہاں سے تین مہینے تک کوئی جواب نہیں آیا۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کئی مہینے تک قاصد کو ٹھہرائے رکھا‘ پھر ایک خط سر بمہر اپنے قاصد قبیصہ عبسی کو دے کر جریر بن عبداللہ کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ کیا‘ اس خط کے لفافہ پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا پتہ صاف لکھا ہوا تھا یعنی من معاویہ رضی اللہ عنہ الی علی رضی اللہ عنہ ‘ یہ خط لے کر دونوں قاصد ماہ ربیع الاول ۳۶ ھ کے آخری ایام میں مدینہ پہنچے۔ قاصد نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر خط پیش کیا‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لفافہ کو کھولا تو اس کے اندر سے کوئی خط نہ نکلا‘ آپ نے غصہ سے قاصد کی طرف دیکھا‘ قاصد نے کہا کہ میں قاصد ہوں مجھ کو جان کی امان ہے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں تجھ کو امان ہے‘ اس نے کہا کہ ملک شام میں کوئی آپ کی بیعت نہ کرے گا‘ میں نے دیکھا ہے کہ ساٹھ ہزار شیوخ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خون آلودہ قمیص پر رو رہے تھے‘ وہ قمیص لوگوں کو مشتعل کرنے کی غرض سے جامع دمشق کے منبر پر رکھی ہے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہ لوگ مجھ سے خون عثمان رضی اللہ عنہ کا بدلہ طلب کرتے ہیں حالانکہ خون عثمان رضی اللہ عنہ سے بری ہوں‘ اللہ تعالیٰقاتلین عثمان رضی اللہ عنہ سے سمجھے‘ یہ کہہ کر قاصد کو معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف واپس کر دیا۔