سیدنا علی رضی اللہ عنہ
مسلمانوں کے خلاف فوج کشی
جب اکثر اہل مدینہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حکم موافق تیار ہو گئے‘ تو آپ نے قاسم بن عباس رضی اللہ عنہ کو اپنی جگہ مدینہ کا حاکم و عامل تجویز کر کے اپنے بیٹے محمد بن حنیفہ رضی اللہ عنہ کو لشکر کا جھنڈا عطا کیا‘ میمنہ کا افسر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا‘ میسرہ پر عمروبن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کو مامور کیا اور ابولیلیٰ ابن الجراح برادر ابوعبیدہ ابن الجراح رضی اللہ عنہ کو مقدمۃ الجیش کی سرداری سپرد فرمائی اور اس احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھا کہ بلوائیوں میں سے جن کی اکثر تعداد ابھی تک مدینہ میں موجود تھی‘ کسی کو فوج کے کسی حصے کا سردار نہیں بنایا‘ ابھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ فوج کے حصوں کی سرداریاں ہی تقسیم فرما رہے تھے‘ لیکن ابھی فوج مرتب ہو کر مدینہ سے روانہ نہیں ہوئی تھی کہ مکہ کی جانب سے خبر پہنچی کہ وہاں آپ کی مخالفت میں تیاریاں ہو رہی ہیں‘ یہ خبر سن کر آپ نے سردست ملک شام کا ارادہ ملتوی کر دیا۔