سیدنا علی رضی اللہ عنہ
محمد بن ابوبکر کوفہ میں
محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ اور محمد بن جعفر رضی اللہ عنہ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ کی طرف روانہ کیا تھا‘ انہوں نے کوفہ میں پہنچ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا خط ابو موسیٰ کو دیا‘ اور لوگوں کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حکم کے موافق لڑائی پر آمادہ کرنے لگے‘ مگر کسی نے آمادگی کا اظہار نہ کیا‘ جب محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے زیادہ اصرار کے ساتھ ترغیب دی تو لوگوں نے کہا کہ لڑائی کے لیے نکلنا دنیا کا راستہ ہے اور بیٹھ رہنا آخرت کی راہ ہے‘ لوگ یہ سن کر بیٹھ رہے‘ محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ اور محمد بن جعفر رضی اللہ عنہ کو یہ دیکھ کر غصہ آیا اور ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے سختی کا برتائو کیا‘ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے کہا کہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی بیعت میری اور علی رضی اللہ عنہ دونوں کی گردن میں ہے‘ اگر لڑائی ضروری ہے‘ تو قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ سے جہاں کہیں ہوں لڑنا چاہیے‘ یہ دونوں صاحب مایوس ہو کر کوفہ سے چل دئیے‘ اور مقام ذی قار میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچ کر کوفہ کا تمام حال گوش گذار کیا۔