سیدنا علی رضی اللہ عنہ

مصالحت کی کوشش

سیدنا قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس لیے بصرہ کی طرف روانہ کیا کہ وہ وہاں جا کر سیدنا ام المومنین رضی اللہ عنہ اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ و زبیر رضی اللہ عنہ کا عندیہ معلوم کریں‘ اور جہاں تک ممکن ہو ان حضرات کو صلح و اشتی کی طرف مائل کر کے بیعت اور تجدید بیعت کے لیے آمادہ کریں۔ سیدنا قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ بڑے زبان آور عقلمندر اور ذی اثر اور رسول اللہ ص کی صحبت سے فیض یافتہ تھے‘ انہوں نے بصرہ میں پہنچ کر مذکورۃ الصدر بزرگوں سے ملاقات کی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ کو اس کام پر کس چیز نے آمادہ کیا ہے‘ اور آپ کی کیا خواہش ہے‘ انہوں نے فرمایا کہ میرا مدعا صرف مسلمانوں کی اصلاح اور ان کو قرآن پر عامل بنانا ہے‘ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ و زبیر رضی اللہ عنہ بھی وہیں موجود تھے‘ ان سے بھی یہی سوال کیا گیا اور انہوں نے بھی وہی جواب دیا‘ جو کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے دیا تھا‘ یہ سن کر سیدنا قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر آپ کا منشاء اصلاح اور عمل بالقرآن ہے‘ تو یہ مقصد تو اس طرح پورا نہ ہو گا جس طرح آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں‘ ان بزرگوں نے جواب دیا کہ قرآن کریم میں قصاص کا حکم ہے ‘ ہم خون عثمان رضی اللہ عنہ کا قصاص لینا چاہتے ہیں۔ سیدنا قعقاع رضی اللہ عنہ نے کہا کہ قصاص اس طرح کہاں لیا جاتا ہے‘ اول امامت و خلافت کا قیام و استحکام ضروری ہے تاکہ امن و امان قائم ہو‘ اس کے بعد قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ سے بہ آسانی قصاص لیا جا سکتا ہے‘ لیکن جب امن و امان اور کوئی نظام ملکی باقی نہ رہے‘ تو ہر شخص کہاں مجاز ہے کہ وہ قصاص لے‘ دیکھو یہیں بصرہ میں آپ نے بہت سے آدمیوں کو قصاص عثمانی میں قتل کر ڈالا‘ لیکن حرقوص بن زہیر آپ کے ہاتھ نہ آیا‘ آپ نے اس کا تعاقب کیا‘ تو ۶ ہزار آدمی اس کی حمایت میں آپ سے لڑنے کے لیے آمادہ ہو گئے‘ اور آپ نے مصلحتاً اس کا تعاقب چھوڑ دیا‘ اسی طرح اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ مصلحتاًفتنہ کے دبانے اور طاقت حاصل کرنے کے انتظار میں مجبورانہ طور پر فوراً قصاص نہ لے سکے تو آپ کو انتظار کرنا چاہیے تھا‘ آپ کے لیے یہ کہاں جائز تھا کہ آپ خود کھڑے ہو جائیں اور اس فتنہ کو اور بڑھائیں‘ اس طرح تو فتنہ ترقی کرے گا‘ مسلمانوں میں خونریزی ہو گی‘ اور قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ قصاص سے بچے رہیں گے۔ یہ باتیں کہہ کر آخر میں سیدنا قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ نے نہایت دل سوزی کے ساتھ کہا کہ اے بزرگو! اس وقت سب سے بڑی اصلاح یہی ہے کہ آپس میں صلح کر لو‘ تاکہ مسلمانوں کو امن و عافیت حاصل ہو‘ آپ حضرات مفاتیح خیر اور انجم ہدایت ہیں‘ آپ برائے خداہم لوگوں کو ابتلاء میں نہ ڈالیں‘ ورنہ یادرہے کہ آپ بھی ابتلاء میں مبتلا ہو جائیں گے اور امت مسلمہ کوبڑا نقصان پہنچے گا۔ سیدنا قعقاع رضی اللہ عنہ کی ان باتوں کا سیدنا ام المومنین رضی اللہ عنہ اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر کے رضی اللہ عنہ دلوں پر بڑا اثر ہوا اور انہوں نے کہا کہ اگر سیدنا علی کے یہی خیالات ہیں جو آپ نے بیان کئے اور وہ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ سے قصاص لینے کا اردہ رکھتے ہیں تو پھر لڑائی اور مخالفت کی کوئی بات ہی باقی نہیں رہتی‘ ہم اب تک یہی سمجھتے رہے کہ ان کو قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ سے ہمدردی ہے اور اسی لیے قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ ان کے لشکر میں شریک اور ان کے زیر حمایت سب اہم کاموں میں دخیل ہیں۔ قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے جو کچھ کہا ہے یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خیالات کی ترجمانی ہے‘ ان حضرات نے فرمایا کہ پھر ہم کو بھی ان سے کوئی مخالفت نہ ہوگی‘ اس گفتگو کے بعد سیدنا قعقاع رضی اللہ عنہ بصرہ سے رخصت ہو کر امیر المومنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کی طرف چلے‘ ان کے ساتھ ہی بصرہ کے بااثر لوگوں کا ایک وفد بھی ہو لیا‘ یہ لوگ اس لیے گئے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور اہل کوفہ کے خیالات معلوم کر کے آئیں کہ وہ حقیقتاً مصالحت پر آمادہ ہیں یا نہیں‘ کیونکہ انہوں نے یہ افواہیں سنی تھیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ ارادہ ہے کہ بصرہ کو فتح کر کے جوانوں کو قتل کر دیں گے‘ اور ان کی عورتوں اور بچوں کو لونڈی اور غلام بنا لیں گے۔ یہ خبریں عبداللہ بن سبا کی جماعت کے لوگوں نے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں شریک تھے بصرہ میں مشہور کرا دی تھیں۔ جب سیدنا قعقاع بن عمر رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے تمام کیفیت گوش گذار کی‘ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ بہت ہی خوش ہوئے‘ پھر اہل بصرہ کے وفد نے کوفہ والوں سے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں شریک تھے‘ مل کر ان کی رائے دریافت کی تو سب نے صلح و آشتی کو مناسب اور بہتر بتایا‘ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان بصرہ والوں کو بھی اپنی خدمت میں طلب کر کے ہر طرح اطمینان دلایا‘ یہ لوگ بھی خوش و خرم واپس آئے اور سب کو صلح و مصالحت کے یقینی ہونے کی خوش خبری سنائی۔