سیدنا علی رضی اللہ عنہ

سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کی علیحدگی

لڑائی کے شروع ہی میں سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ میدان جنگ سے جدا ہو گئے تھے‘ قبائل کے افسر اور چھوٹے چھوٹے سردار اپنی اپنی جمعیتوں کو لیے ہوئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے مقابلہ پر ڈٹے ہوئے تھے‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ خود اس کوشش میں مصروف تھیں کہ کسی طرح لڑائی رکے اور صلح کی صورت پیدا ہو‘ لہذا اس طرف یعنی اہل جمل کی طرف فوج کو لڑانے والا کوئی ایک سردار نہ تھا‘ لڑنے والوں کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ ہم لڑائی میں جو کوشش کر رہے ہیں یہ سیدنا ام المومنین کا منشاء اصلی ہے یا نہیں‘ سیدنا ام المومنین رضی اللہ عنہ اور ان کا تمام لشکر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نسبت یہ خیال رکھتے تھے کہ انہوں نے صلح کی گفتگو کر کے ہم کو دہوکا دینا چاہا اور پھر ظالمانہ طور پر اچانک ہم پر حملہ کر دیا‘ اس حالت میں وہ اپنے لشکر کو لڑنے اور مدافعت کرنے سے روک بھی نہیں سکتی تھیں۔ ادھر اہل بصرہ کو اس بات کا یقین ہو گیا کہ جو خبریں ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نسبت پہلے سنی تھیں کہ وہ اہل بصرہ کو قتل کر کے ان کے بیوی بچوں کو باندی غلام بنا لیں گے‘ وہ صحیح تھیں‘ غرض دس ہزار سے زیادہ مسلمان دونوں طرف مقتول ہوئے‘ اور آخر تک اصل حقیقت کسی کو معلوم نہ ہوئی‘ کہ یہ لڑائی کس طرح ہوئی‘ ہر شخص اپنے فریق مقابل ہی کو ظالم اور خطا کار سمجھتا رہا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ چونکہ خود لشکر کی سپہ سالاری فرما رہے تھے‘ لہذا ان کی طرف سے ایسے ایسے سخت حملے ہوئے کہ اہل جمل کو پسپا ہونا پڑا‘ اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کا جمل سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حملہ آور فوج کی زد میں آ گیا‘ اس اونٹ کی مہار کعب کے ہاتھ میں تھی‘ وہی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کو مشورہ دے کر میدان جنگ کی طرف لائے تھے کہ شاید کوئی صلح کی صورت پیدا ہوجائے۔ جب سیدنا ام المومنین رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ حملہ آور فوج کسی طرح نہیں رکتی اور اونٹ کو بچانے کے لیے بصرہ والوں نے جو اول پسپا ہو گئے تھے از سر نو اپنے قدم جما لیے ہیں اور بڑے جوش و خروش کے ساتھ تلوار چل رہی ہے‘ تو انہوں نے کعب کو حکم دیا کہ تم اونٹ کی مہار چھوڑ کر قرآن مجید کو بلند کر کے آگے بڑھو‘ اور لوگوں کو قرآن مجید کے محاکمہ کی طرف بلائو اور کہو کہ ہم کو قرآن مجید کا فیصلہ منظور ہے تم بھی قرآن مجید کا فیصلہ مان لو‘ کعب نے آگے بڑھ کرجوں ہی اعلان کیا عبداللہ بن سبا کے لوگوں نے یک لخت ان پر تیروں کی بارش کی اور وہ شہید ہو گئے اس کے بعد اہل بصرہ میں اور بھی جوش پیدا ہوا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کے اونٹ کے اردگرد لاشوں کے انبار لگ گئے‘ اہل بصرہ برابر قتل ہو رہے تھے‘ لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے اونٹ تک حریف کو نہیں پہنچنے دیتے تھے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کیفیت کو دیکھ کر فوراً سمجھ لیا‘ کہ جب تک یہ ناقہ میدان جنگ میں نظر آتا رہے گا لڑائی کے شعلے کبھی فرونہ ہوں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کا اونٹ لڑائی اور کشت و خوں کا مرکز بنا ہوا تھا چاروں طرف سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کے کجادہ پر تیروں کی بارش ہو رہی تھی۱؎ اور وہ قاتلین عثمان پر بد دعا کررہی تھیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ اس ناقہ کو کسی طرح مارو‘ جس وقت ناقہ گرا فوراً لڑائی ختم ہو جائے گی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے اشتر جو بلوائیوں کا سرگروہ تھا‘ اس وقت میدان جنگ میں بڑی بہادری سے لڑ رہا تھا‘ اسی طرح اور بھی بلوائی سردار اور سبائی لوگ خدمت انجام دے رہے تھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے پیہم کئی زبردست حملے ہوئے‘ مگر اہل جمل نے ہر ایک حملے کو بڑی ہمت و شجاعت کے ساتھ روکا‘ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور مروان بن الحکم ان حملوں کو روکنے میں زخمی ہوئے‘ عبدالرحمن بن عتاب ‘ جندب بن زہیر‘ عبداللہ بن حکیم وغیرہ حضرات جمل کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوئے‘ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے جسم پر ۷۲ زخم آئے تھے۔ ناقہ کی مہار یکے بعد دیگرے لوگ پکڑتے جاتے اور شہید ہوتے جاتے تھے‘ یہاں تک کہ سیکڑوں آدمی ناقہ کی مہار پر شہید ہو گئے‘ بالآخر اہل جمل نے ایسا سخت حملہ کیا کہ ناقہ کے سامنے دور تک میدان صاف کر لیا‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی فوج کو پسپا ہوتے ہوئے دیکھ کر پھر حملہ کیا اور آگے بڑھایا‘ کئی مرتبہ ناقہ کے سامنے لڑنے والوں کی صفیں آگے بڑھیں اور پیچھے ہٹیں‘ بالآخر ایک شخص نے موقع پا کر ناقہ کے پائوں میں تلوار ماری اور ناقہ چلا کر سینے کے بل بیٹھ گیا۔ اس وقت سیدنا قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ ناقہ کے قریپ پہنچ گئے تھے‘ ناقہ کے گرتے ہی اہل جمل منتشر ہو گئے‘ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر نے حملہ کر کے ناقہ کا محاصرہ کر لیا‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو جو ان کے ساتھ تھے حکم دیا کہ جا کر اپنی بہن کی حفاظت کرو اور ان کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ پہنچنے پائے‘ قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ ‘ محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے کجادہ کی رسیاں کاٹ کر کجاوہ کو اٹھا کر لاشوں کے درمیان سے الگ لے جا کر رکھا اور پردہ کے لیے اس پر چادریں تان دیں۔ سیدنا علی خود تشریف لائے اور قریب پہنچ کر سلام علیک کے بعد کہا‘ اماں جان آپ کا مزاج بخیر ہے؟ سیدنا عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا‘ خداتعالیٰ آپ کی ہر ایک غلطی کو معاف کرے‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا’’اللہ تعالیٰ تمہاری بھی ہر ایک غلطی کو معاف کرے‘ اس کے بعد سردار ان لشکر یکے بعد دیگرے سیدنا ام المومنین کے سلام کو حاضر ہوئے‘ سیدنا قعقاع رضی اللہ عنہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا کہ کاش میں آج کے واقعہ سے بیس برس پہلے مر جاتی‘ سیدنا قعقاع رضی اللہ عنہ نے جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس قول کو روایت کیا تو انہوں نے بھی یہی فرمایا‘ کہ ’’کاش میں آج سے بیس برس پہلے مر جاتا۔ اس جنگ کا نام جنگ جمل اس لیے مشہور ہوا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا جس جمل پر سوار تھیں وہی جمل لڑائی کا مرکز بن گیا تھا‘ اس لڑائی میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کی طرف سے لڑنے والوں کی تعداد ۳۰ ہزار تھی‘ جس میں سے نو ہزار آدمی میدان جنگ میں کام آئے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فوج کی تعداد میدان جنگ میں بیس ہزار تھی‘ جس میں سے ایک ہزار ستر آدمی کام آئے۔ ۱؎ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تمام مقتولین کے جنازہ کی نماز پڑھی سب کو دفن کرایا‘ لشکر گاہ اور میدان جنگ میں جو مال و اسباب تھا اس کے متعلق منادی کرا دی کہ جو شخص اپنے مال و اسباب کی شناخت کرے وہ لے جائے‘ جب شام ہو گئی‘ تو سیدنا ام المومنین رضی اللہ عنہ کو محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ ان کے بھائی نے بصرہ میں لے جا کر عبداللہ بن خلف خزاعی رضی اللہ عنہ کے مکان میں صفیہ بن الحارث بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس ٹھہرایا۔ اگلے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ بصرہ میں داخل ہوئے‘ تمام اہل بصرہ نے آپ کی بیعت کی‘ اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا ام المومنین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے‘ چونکہ عبداللہ بن خلف اس معرکہ میں کام آ گئے تھے‘ لہذا عبداللہ بن خلف کی والدہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر بہت کچھ سخت سست کہا مگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کسی بات کا جواب نہیں دیا‘ بعض ہمرائیوں نے کچھ گراں محسوس کیا تو آپ نے فرمایا‘ کہ عورتیں چونکہ ضعیف ہوتی ہیں‘ اس لیے ہم تو مشرکہ عورتوں سے بھی درگذر ہی کیا کرتے ہیں‘ اور یہ تو مسلمان عورتیں ہیں ان کی ہر ایک بات کو برداشت کرنا چاہیے۔ سیدنا ام المومنین رضی اللہ عنہ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بڑی تعظیم و تکریم کا برتائو کیا اور ان سے پوچھا کہ آپ کو کسی قسم کی تکلیف تو نہیں ہے‘ پھر تمام معاملات میں ہر طرح صلح و صفائی ہو گئی‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی معذرت کی اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا نے بھی معذرت کا اظہار فرمایا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بصرہ کا حاکم اور گورنر مقرر فرما کر محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ سامان سفر کی تیاری کریں‘ چنانچہ یکم ماہ رجب ۳۶ ھ کو ہر قسم کا سامان سفر درست کر کے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کو رئوساء بصرہ کی چالیس عورتوں اور محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ بصرہ سے روانہ کیا‘ کئی کوس تک دو بطریق مشایعت ہمراہ آئے‘ اور دوسری منزل تک سیدنا حسن رضی اللہ عنہ بن علی رضی اللہ عنہ پہنچانے آئے‘ سیدنا ام المومنین رضی اللہ عنہ اول مکہ معظمہ گئیں‘ اور ماہ ذی الحجہ تک مکہ میں رہیں‘ وہاں حج ادا کر کے محرم ۳۷ ھ میں مدینہ منورہ تشریف لے گئیں۔ جنگ جمل میں بہت سے بنو امیہ بھی شریک تھے اور اہل جمل کی طرف سے لڑے تھے‘ لڑائی کے بعد مروان بن الحکم‘ عتبہ بن ابی سفیان ‘ عبدالرحمن و یحییٰ برادران مروان وغیرہ تمام بنو امیہ بصرہ سے شام کی طرف چل دئیے اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس دمشق میں پہنچے‘ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ جو معرکہ جمل میں زخمی ہو گئے تھے‘ بصرہ میں ایک شخص ازدی کے یہاں پناہ گزیں ہوئے تھے‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا نے اپنے بھائی محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو بھیج کر انہیں بلوایا اور اپنے ہمراہ مکہ کو لے کر روانہ ہوئیں۔