سیدنا علی رضی اللہ عنہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تاریخی تقریر
اس کے بعد سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حبیب بن مسلمہ‘ شرجیل بن السمط‘ معن بن یزید کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بطور سفیر روانہ کیا۔
حبیب بن مسلمہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ عثمان خلیفہ برحق تھے اور کتاب و سنت کے موافق حکم دیتے تھے‘ ان کی زندگی تم کو ناگوار گذری‘ اور تم نے اس کو قتل کر ڈالا‘ اگر تم نے ان کو قتل نہیں کیا تو ان کے قاتلین کو ہمارے سپرد کر دو‘ پھر خلافت سے دست بردار ہو جائو‘ اس کے بعد مسلمان جس کو چاہیں گے اپنا خلیفہ اور امیر مقرر کر لیں گے۔
یہ کلام سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو غصہ آیا اور انہوں نے فرمایا‘ کہ تو خاموش ہو جا‘ امارت و خلافت کے متعلق ایسی تقریر کرنے کا تجھ کو کوئی حق نہیں ہے‘ حبیب بن مسلمہ نے کہا کہ تم مجھ کو ایسی حالت میں دیکھ لو گے جو تم کو ناگوار ہو گی‘ مدعایہ تھا کہ تلوار کے ذریعہ ہم فیصلہ کر لیں گے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جا جو تیرا جی چاہے کرو۔
یہ کہہ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے‘ اور حمدو ثناء کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے مبعوث ہونے کا ذکر کیا‘ پھر خلافت شیخین اور ان کے خصائل پسندیدہ کا ذکر کر کے فرمایا کہ ہم نے ان دونوں کو اپنے فرائض عمدگی سے ادا کرتے ہوئے پایا‘ لہذا ہم نے باوجود اس کے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے رشتہ میں قریب تر تھے‘ ان کی خلافت میں کوئی دست اندازی نہیں کی‘ پھر لوگوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا ان کا طرز عمل ایسا تھا کہ لوگ ان سے ناراض ہو گئے‘ اور انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کر ڈالا‘ اس کے بعد لوگوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کرنے کی درخواست کی‘ میں نے اس درخواست کو قبول کر لیا‘ بیعت کے بعد طلحہ رضی اللہ عنہ و زبیر رضی اللہ عنہ نے عہد شکنی کی اور معاویہ رضی اللہ عنہ نے میری مخالفت کی‘ حالانکہ وہ میری طرح سابق بالاسلام نہیں‘ مجھ کو تعجب ہے کہ تم لوگ کس طرح اس کے مطیع ہو گئے حالانکہ میں کتاب و سنت اور ارکان دین کی طرف بلاتا‘ احیاء حق اور ابطال کی باطل کی کوشش کرتا ہوں‘ شرجیل بن السمط نے تقریر سننے کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا آپ اس امر کی شہادت نہیں دیتے کہ عثمان مظلوم شہید ہوئے۔ سیدنا علی نے جواب دیا کہ میں نہ عثمان کو مظلوم کہتا ہوں نہ ظالم۔ یہ سن کر تینوں سفیر یہ کہہ کر اٹھ کھڑے ہوئے کہ جو شخص عثمان کو مظلوم نہیں کہتا ہم اس سے بیزار ہیں اور ان لوگوں کو نصیحت کرنا نہ کرنا مساوی ہے ان پر کوئی اثر نہ ہو گا۔
اس کے بعد مصالحت کی کوئی کوشش جو قابل تذکرہ ہو عمل میں نہیں آئی سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں نہ عثمان کو مظلوم کہتا ہوں نہ ظالم‘ یہ سن کر تینوں شخص یہ کہہ کر اٹھ کھڑے ہوئے‘ کہ جو شخص عثمان رضی اللہ عنہ کو مظلوم نہیں کہتا ہم اس سے بیزار ہیں‘ ان لوگوں کو نصیحت کرنا نہ کرنا مساوی ہے ان پر کوئی اثر نہ ہو گا اس کے بعد پھر مصالحت کی کوئی کوشش جو قابل تذکرہ ہو عمل میں نہیں آئی۔