مقدمہ
تاریخ
علم تاریخ اصطلاحاً اس علم کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ بادشاہوں ‘ نبیوں‘ فاتحین اور مشہور شخصیت کے حالات اور گذرے ہوئے مختلف زمانوں کے عظیم الشان واقعات و مراسم وغیرہ معلوم ہو سکیں اورجو زمانہ گذشتہ کی معاشرت‘ اخلاق‘ تمدن وغیرہ سے واقف ہونے کا ذریعہ بن سکے۔
بعض شخصوں نے تاریخ کی تعریف ان الفاظ میں بیان کی ہے کہ انسانوں کے یکجا ہو کر رہنے کو تمدن اور اس انسانی مجمع کو مدینہ اور ان مختلف حالتوں کو جو طبعاً اس کو عارض ہوں‘ واقعات تاریخ‘ اور پچھلوں کے پہلوں سے سن کر ان واقعات کو اکٹھا کرنے اور اپنے سے پیچھے آنے والوں کی عبرت اور نصیحت کے لیے بطور نمونہ چھوڑ جانے کو تاریخ کہتے ہیں۔
بعض کہتے ہیں کہ ’’تاخیر‘‘ کے جزو آخر کو مقلوب کر کے لفظ ’’تاریخ‘‘ بنایا گیا ہے اور تاخیر کے معنیٰ ہیں اولین وقت کو آخرین وقت کے ساتھ نسبت دینا مثلاً یہ بتلانا کہ فلاں مذہب‘ یا فلاں سلطنت یا فلاں معرکہ فلاں وقت میں ظاہر ہوا تھا جو واقعات خاص اس وقت میں ظہور پذیر ہوئے ان سب کے معلوم کرنے کا مبدء یہی وقت ہوتا ہے‘ غرض اسی طرح تاریخ کی تعریف بیان کرنے میں بڑی بڑی موشگافیاں کی گئی ہیں‘ لیکن خلاصہ اور حاصل مطلوب سب کا وہی ہے جو اوپر سب سے پہلے بیان ہو چکا ہے۔
اس مذکورہ خلاصہ کا اور بھی خلاصہ کرنا مقصود ہو تو یوں کہہ سکتے ہیں ‘ جو حالات و اخبار بقید وقت لکھے جاتے ہیں ان کو تاریخ کہتے ہیں۔