سیدنا علی رضی اللہ عنہ

فیصلہ!

عمروبن العاص رضی اللہ عنہ نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ اعلان کر دیجئے اور فیصلہ جو ہو چکا ہے لوگوں کو سنا دیجئے‘ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے منبر پر چڑھ کر فرما دیا کہ لوگو! ہم دونوں نے بہت غور کیا‘ لیکن سوائے ایک بات کے ہم اور کسی تجویز پر متفق نہ ہو سکے‘ اب میں تم کو اپنا وہی متفقہ فیصلہ سناتا ہوں اور امید ہے کہ اسی تجویز پر عمل کرنے سے مسلمانوں کی نا اتفاقی دور ہو کر ان میں صلح قائم ہو جائے گی‘ وہ فیصلہ جس پر میں اور عمروبن العاص رضی اللہ عنہ دونوں متفق ہیں یہ ہے کہ اس وقت علی رضی اللہ عنہ اور معاویہ رضی اللہ عنہ دونوں کو معزول کرتے ہیں اور تم لوگوں کو اختیار دیتے ہیں کہ تم اپنے اتفاق رائے سے جس کو چاہو خلیفہ منتخب کر لو۔ مجمع نے اس تقریر کو سنا اور ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ منبر سے اتر آئے‘ اس کے بعد عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے اور انہوں نے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ آپ حضرات گواہ رہیں‘ کہ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنے دوست سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو معزول کر دیا‘ میں بھی ان کی اس بات سے متفق ہوں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو معزول کرتا ہوں لیکن معاویہ رضی اللہ عنہ کو میں معزول نہیں کرتا بلکہ بحال رکھتا ہوں‘ کیوں کہ وہ مظلوم شہید ہونے والے خلیفہ کے ولی اور ان کی قائم مقامی کے مستحق ہیں۔ اگر سیدنا عمروبن العاص رضی اللہ عنہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی رائے کی تمام و کمال تائید کرتے اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حمایت میں کچھ نہ فرماتے تو حکمین کے فیصلے کی وہ بے حرمتی جو بعد میں ہوئی ہرگز نہ ہوتی‘ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے جو کچھ فرمایا اس میں بھی گو کم زوری اور غلطی موجود ہو گی‘ لیکن کم از کم بد دیانتی اور خیانت کا شائبہ اس میں نہ تھا‘ اس سے آٹھ سو مسلمانوں کے مجمع کو بھی غالباً کوئی اختلاف نہ ہوتا‘ کیونکہ کسی ایک خلیفہ کے انتخاب کا اختیار حکمین کی طرف سے ان ہی آٹھ سو آدمیوں کو دیا گیا تھا۔ مگر جو کچھ بعد میں ہوا یہ سب کچھ پھر بھی ہونے والا تھا اور ممکن تھا‘ کہ اس فیصلے سے اس سے بھی زیادہ خرابیاں مسلمانوں کے لیے پیدا ہوتیں‘ کیونکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنی معزولی کو تسلیم کرنے سے یقینا انکار فرماتے‘اسی طرح سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی ملک شام کی حکومت اور اپنے مطالبات سے دست بردار نہ ہوتے‘ اور ایک تیسرا خلیفہ یا امیر جس کو یہ مجمع منتخب کرتا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ طاقتور نہیں ہو سکتا تھا‘ اس طرح بجائے دو رقیبوں کے تین شخص پیدا ہو جاتے اور مسلمانوںکی تباہی و ہوا خیزی اور بھی ترقی کر جاتی۔ بات دراصل یہ ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مصالحت پر آمادہ نہ تھے اگر وہ مصالحت کے خواہاں ہوتے تو جنگ صفین میں بڑی لڑائی شروع ہونے سے پیشتر جب کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے مصالحت کی کوشش کی گئی تھی‘ وہ صلح کی یہی صورت یعنی طرفین سے ایک ایک حکم مقرر کرنے کی درخواست پیش کر سکتے تھے‘ لیکن انہوں نے یہ خواہش اس وقت پیش کی جب کہ ان کو اپنی شکست کا یقین ہونے لگا تھا لہذا ان کی طرف سے پنچوں کے تقرر کی خواہش کا پیش ہونا اور ہذا کتاب اللہ بیننا و بینکم کا اعلان کرنا مصیبت کو دور کرنے اور شکست سے بچنے کے لیے ایک جنگی تدبیر اور خدعہ حرب کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی اس پنچایت کی تجویز کو بطیب خاطر نہیں مانا تھا‘ وہ تو اس کے خلاف تھے‘ مگر لوگوں نے ان کو مجبور کر کے اور دھمکیاں دے کر اشتر کو واپس بلوایا اور لڑائی کو ختم کرایا تھا‘ لہذا یہ یقین کر لینا کہ اگر عمروبن العاص رضی اللہ عنہ مجمع عام میں ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے بیان کی حرف بحرف تائید کرتے اور دونوں حضرات کو معزول کر دیتے تو دونوں اس فیصلے کو تسلیم کرتے یا نہ کرتے‘ آسان نہیں ہے۔ بہرحال دونوں صاحبوں نے مجمع کے سامنے وہ تقریریں جو اوپر ہو چکی ہیں کیں‘ عمروبن العاص رضی اللہ عنہ کی تقریر سن کر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور دوسرے حضرات نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو ملامت کرنا شروع کی کہ تم فریب کھا گئے‘ اور ابوموسیٰ نے عمروبن العاص رضی اللہ عنہ کو سخت سست کہا کہ تم نے قرار داد باہمی کے خلاف اظہار رائے کیا اور مجھ کو دھوکہ دیا غرض فوراً مجلس کا سکون درہم برہم ہو کر بدنظمی کی کیفیت پیدا ہو گئی‘ شریح بن ہانی نے عمروبن العاص رضی اللہ عنہ پر تلوار کا وار کیا‘ عمرو بن العاص نے بھی اپنے آپ کو بچا کر شریح پر جوابی وار کیا‘ لوگ درمیان میں آ گئے اور لڑائی کو بڑھنے نہ دیا۔ اس مجلس میں بدنظمی اور افراتفری پیدا ہو جانے کا نتیجہ بھی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے بہتر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے مضر ثابت ہوا‘ کیونکہ اب شامی و عراقی دونوں گروہوں کا ایک جگہ رہنا دونوں طرف کے سرداروں کی نگاہ میں مضر تھا‘ لہذا نہ ان آٹھ سو مسلمانوں کی جمعیت اب کوئی تجویز اتفاق رائے سے پاس کر سکتی تھی نہ اکابر صحابہ رضی اللہ عنھم ۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ دل برداشتہ ہو کر اذرح سے مکہ کی طرف روانہ ہو گئے اور عمرو بن العاص بھی وہاں سے اپنی جمعیت کو ہمراہ لے کر فوراً دمشق کی جانب روانہ ہو گئے‘ شریح اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے ہمرائیوں کے ساتھ کوفہ کی جانب کوچ کیا‘ مکہ اور مدینہ سے جو چند حضرات یہاں آئے تھے وہ بھی متاسف حالت میں اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوئے‘ غرض تھوڑی ہی دیر میں اذرح کی انجمن درہم برہم ہو کر چڑیاں سی اڑ گئیں ~۱~ شامی لوگ عمروبن العاص رضی اللہ عنہ کے ہمراہ خوشی خوشی دمشق کو جا رہے تھے اور انہوں نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو امیر المومنین اور خلیفۃ المسلمین کہنا شروع کر دیا تھا‘ دمشق میں پہنچ کر شامیوں نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو کامیابی کی خوش خبری سنائی‘ اور ان کے ہاتھ پر سب نے بیعت کی۔ عراقی جمعیت جو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور شریح بن ہانی کے ہمراہ کوفہ کو جا رہی تھی اس کی حالت شامیوں کے خلاف تھی‘ یہ آپس میں ایک دوسرے کو برا کہتے اور جھگڑتے تھے کوئی ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو ملزم ٹھہراتا اور برا کہتا کوئی ابو موسیٰ کی تائید کرتا اور بے خطا ثابت کرنے کی کوشش کرتا تھا‘ کوئی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا کہتا اور حکمین کے تقرر پر رضا مندی ظاہر کرنے کے فعل کو غلطی بتاتا اور کوئی اس رائے کی مخالفت کر کے عمروبن العاص رضی اللہ عنہ کو گالیاں دیتا۔ غرض ان چار سو آدمیوں کی حالت بالکل وہی تھی جو صفین سے کوفہ کی طرف جاتے ہوئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کی تھی‘ کوفہ میں پہنچ کر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے تمام رئوداد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سنائی‘ اور انہوں نے ابوموسیٰ اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ دونوں کے فیصلے کو قرآن مجید کے خلاف بتا کر اس کے ماننے سے قطعاً انکار کیا‘ اور معاویہ رضی اللہ عنہ ‘ عمروبن العاص رضی اللہ عنہ ‘ حبیب بن مسلمہ عبدالرحمن بن مخلد‘ ضحابک بن قیس‘ ولید اور ابو الاعور کے لیے بد دعا کی اور ان پر لعنت بھیجی‘ اور اسی وقت سے ایک دوسرے پر لعنت کرنے کا سلسلہ جاری ہوا‘ انا للہ و انا الیہ راجعون‘ مقام اذرح کی کارروائی سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو صرف اس قدر فائدہ پہنچا کہ جو لوگ ان کے ساتھ شامل تھے پہلے وہ ان کو امیر المومنین اور مسلمانوں کا خلیفہ نہیں کہتے تھے اور اب وہ علانیہ ان کو امیر المومنین رضی اللہ عنہ کہنے لگے‘ مگر کوئی نئی جماعت محض اذرح کی کارروائی کی بنا پر ان کے ہاتھ پر بیعت نہیں ہوئی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے پہلے ہی سے دوگونہ مشکل تھی‘ اب وہ سہ گونہ ہو گئی‘ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور شامیوں کو زیر کرنا اور خارجیوں کو قابو میں رکھنا یہ کام تو پہلے ہی سے درپیش تھے‘ اب تیسری مصیبت یہ پیش آئی کہ خود اپنے دوستوں اور معتقدوں کو یہ سمجھانا پڑتا تھا کہ حکمین نے چونکہ آپس میں بھی اختلاف کیا ہے لہذا ان کا کوئی فیصلہ نہیں مانا جا سکتا‘ دوسرے حکمین کو قرآن مجید نے یہ اختیار نہیں دیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم کو چھوڑ کر اپنی اپنی خواہشات کی تائید کریں اور حق و راستی سے جدا ہو جائیں‘ چند روز تک سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کو یہی بات سمجھائی کہ حکمین کا فیصلہ ہرگز قابل تسلیم نہیں ہے‘ اور ہم کو اہل شام پر چڑھائی کرنی چاہیے‘ جب یہ حقیقت لوگوں کی سمجھ میں آ گئی‘ اور وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شام پر چڑھائی کرنے پر آمادہ ہونے لگے تو گروہ خوارج نے بھی جو کوفہ میں کافی تعداد کے ساتھ موجود تھا کروٹ لی۔