سیدنا علی رضی اللہ عنہ
جنگ نہروان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خوارج کے کوفہ سے خارج ہونے کے بعد اہل کوفہ کو جنگ شام کے لیے ترغیب دی‘ انہوں نے یہی مقدم سمجھا تھا کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ملک شام سے بے دخل کیا جائے‘ خوارج کے فتنہ کو وہ زیادہ اہم اور شام کی مہم پر مقدم نہیں کرنا چاہتے تھے‘ چنانچہ انہوں نے بصرہ کی جانب عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس خط بھیجا کہ جنگ شام کے لیے جس قدر فوج ممکن ہو روانہ کر دو‘ بصرہ سے بھی خوارج چونکہ خارج ہو چکے تھے لہذا ان کے اس اخراج کو غنیمت سمجھا گیا کہ نہ یہ لوگ شہر میں ہوں گے نہ فساد برپا کریں گے‘ بصرہ میں اس وقت ساٹھ ہزار جنگجو موجود تھے‘ لیکن جب عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا خط لوگوں کو سنایا اور شام پر حملہ آور ہونے کے لیے ترغیب دی تو بڑی مشکل سے صرف تین ہزار ایک سو آدمی جانے کے لیے تیار ہوئے‘ باقی سب نے اس کان سنا اور اس کان اڑا دیا۔
کوفہ میں بھی لوگوں پر سرد مہری چھائی ہوئی تھی‘ جب بصرہ کی یہ تین ہزار فوج حارثہ بن قدامہ کی سرداری میں کوفہ پہنچی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کو جمع کر کے خطبہ دیا‘ اور لوگوں کو لڑائی کے لیے آمادہ کیا‘ آخر کوفہ والے آمادہ ہو گئے‘ چالیس ہزار سے زیادہ لشکر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے جھنڈے تلے جمع ہو گیا‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مناسب سمجھا کہ خوارج کو بھی ایک مرتبہ پھر اپنے ساتھ شامل ہونے کی ترغیب دی جائے‘ چنانچہ انہوں نے نہروان میں عبداللہ بن وہب کے پاس خط بھیجا اور لکھا کہ تم شامیوں سے جنگ کرنے کے لیے ہمارے پاس چلے آئو‘ ہم اسی پہلی رائے پر اور اہل شام سے جنگ کرنے پر آمادہ ہیں‘ عبداللہ بن وہب نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ خط اپنے ساتھیوں کو سنایا اور سب کے مشورے سے یہ جواب لکھا۔
تم نے حکمین کا تقرر خدا اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم کے خلاف کیا تھا اور اب جو اہل شام سے لڑائی کا ارادہ کر رہے ہو‘ یہ بھی اپنے نفس کی خواہش سے کر رہے ہو اگر تم اپنے کافر ہونے کا اقرار کرنے کے بعد توبہ کرو تو ہم تمہاری مدد کرنے کو تیار ہیں‘ نہیں تو ہم تم سے لڑنے کو آمادہ ہیں۔
اس خط کے آنے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خوارج کی طرف سے مایوسی ہو گئی‘ مگر انہوں نے ملک شام پر چڑھائی کرنے کے ارادے کو فسخ نہیں کیا‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تمام تر کوشش خوارج کو راہ راست پر لانے میں صرف ہوئی‘ لیکن وہ کسی طرح مصالحت کی جانب نہ آئے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب ان سے یہ کہتے تھے کہ تم ہی لوگوں نے تو مجھ کو لڑائی بند کرنے کے لیے مجبور کیا تھا‘ اب تم کس منہ سے مجھ کو ملزم قرار دیتے ہو‘ تو وہ کہتے تھے کہ ’’ہم اپنی خطا اور غلطی کو تسلیم کرتے ہیں‘ تم بھی اپنی خطائوں کو تسلیم کرو‘ہم مانتے ہیں کہ ہم غلطی کر کے کافر ہو گئے تھے‘ لیکن توبہ کر کے مسلمان ہو گئے‘ اسی طرح تم بھی توبہ کر کے مسلمان ہو جائو‘ تاکہ ہم اپنا فتویٰ جو تمہارے کفر کی نسبت صادر کر چکے ہیں واپس لے لیں‘ نہیں تو ہم تم کو کافر یقین کرتے ہوئے تمہارے خلاف جہاد کریں گے۔
ان مجنونانہ باتوں کی طرف سے چشم پوشی اختیار کر کے سیدنا علی رضی اللہ عنہ ملک شام پر حملہ آور ہونے کے لیے روانہ ہونے ہی کو تھے کہ سیدنا عبداللہ بن خباب رضی اللہ عنہ صحابی رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کی خبر پہنچی‘ جس کی تفصیل اس طرح ہے‘ کہ سیدنا عبداللہ بن خباب رضی اللہ عنہ کسی سفر میں تھے کہ نہروان کے قریب ہو کر گذرے اور خوارج کی ایک جماعت کو معلوم ہوا کہ یہ صحابی ہیں‘ انہوں نے آ کر سوال کیا کہ آپ ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ کی نسبت کیا کہتے ہیں‘ سیدنا عبداللہ بن خباب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ وہ دونوں بہت اچھے اور خدا تعالیٰ کے برگزیدہ اور نیک بندے تھے‘ پھر خوارج نے دریافت کیا آپ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے اول اور آخر زمانہ کی نسبت کیا کہتے ہیں‘ سیدنا عبداللہ بن خباب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ وہ اول سے آخر تک حق پر ست اور حق پسند تھے‘ پھر خوارج نے پوچھا کہ علی رضی اللہ عنہ کی نسبت حکمین کے مقرر کرنے سے پہلے اور حکمین کے مقرر کرنے کے بعد آپ کا کیا خیال ہے‘ انہوں نے جواب دیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تم لوگوں سے زیادہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے والے ہیں۔
خوارج نے یہ سنتے ہی طیش میں آ کر سیدنا عبداللہ بن خباب رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی اور ان کے ہمرائیوں کو قتل کر ڈالا‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جب یہ خبر سنی تو تحقیق حال کے لیے حارث بن مرہ کو روانہ کیا‘ خوارج نے ان کو بھی مار ڈالا‘ ساتھ ہی خبر پہنچی کہ خوارج بلا دریغ ہر اس شخص کو جو ان کا ہم خیال و ہم عقیدہ نہ ہو قتل کر ڈالتے ہیں‘ اب ان لوگوں کو جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں تھے یہ فکر ہوئی کہ اگر ہم شام کے ملک کی طرف گئے تو خوارج کوفہ و بصرہ وغیرہ تمام عراق پر قابض و متصرف ہو کر ہمارے اہل و عیال کو قتل کر دیں گے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی یہ خیال کیا کہ اگر خوارج نے کوفہ و بصرہ پر قبضہ کر لیا‘ تو پھر ملک شام پر حملہ آوری بجائے مفید ہونے کے مضر ثابت ہو گی‘ چنانچہ جنگ شام کو ملتوی کر کے خوارج کی طرف کوچ کیا‘ اور لشکر خوارج کے قریب پہنچ کر ان کے پاس پیغام بھیجا
تم میں سے جن لوگوں نے ہمارے بھائیوں کو قتل کیا ہے ان کو ہمارے سپرد کر دو تاکہ ہم ان کو قصاص میں قتل کر دیں اور تم کو تمہارے حال پر چھوڑ کر اہل شام کی طرف روانہ ہوں‘ اس عرصہ میں جب تک کہ ہم جنگ اہل شام سے فارغ ہوں ممکن ہے کہ خدائے تعالیٰ کو راہ راست پر لے آئے۔
اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کئی بزرگ صحابیوں کو یکے بعد دیگرے خوارج کو نصیحت اور وعظ و پند کرنے کے لیے روانہ کیا‘ اور خوارج کے وفود کو بلا کر خود بھی نصیحت کی‘ کہ غلطی حکمین کے مقرر کرنے میں اگر ہوئی‘ تو باعث اصلی تم ہی لوگ تھے‘ اب جو کچھ گذرا اس کو فراموش کر دو‘ اور ہمارے ساتھ شامل ہو کر اہل شام سے لڑنے چلو۔
خوارج نے ہر مرتبہ یہی جواب دیا کہ بے شک ہم لوگوں نے خدا اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم کی خلاف ورزی کی اور کافر ہوئے‘ لیکن توبہ کر کے پھر مسلمان ہو گئے‘ اب تم بھی جب تک گناہ کا اقرار کر کے توبہ نہ کرو گے کافر رہو گے‘ اور ہم تمہاری مخالفت میں کوئی کوتاہی نہ کریں گے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے‘ کہ میں اللہ پر ایمان لایا‘ ہجرت کی‘ خدا کی راہ میں جہاد کیا‘ میں کس طرح اپنے آپ کو کافر کہوں‘ آخر سیدنا علی رضی اللہ عنہ خود لشکر خوارج کی طرف تشریف لے گئے‘ اور ان کو وعظ و پند فرمانے لگے‘ خوارج کے سرداروں نے یہ دیکھ کر ہمارے عوام پر کہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تقریر کا اثر نہ ہو جائے‘ بلند آواز سے اپنے لوگوں کو ہدایت کی کہ
علی رضی اللہ عنہ کی باتوں کو ہرگز ہرگز نہ سنو‘ نہ ان سے باتیں کرو‘ بلکہ اللہ کی ملاقات کے لیے دوڑو‘ یعنی لڑائی شروع کر دو۔
یہ حالت دیکھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ واپس تشریف لے آئے‘ اور اپنے لشکر کو مرتب فرما کر ہر حصہ پر سردار مقرر کئے‘ اور سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو امان کا جھنڈا دے کر فرمایا کہ کہ تم اس جھنڈے کو لے کر ایک بلند مقام پر کھڑے ہو جائو‘ اور بلند آواز سے اعلان کر دو کہ جو شخص بغیر جنگ کئے ہوئے چلا آئے گا اس کو امان دی جائے گی اور جو شخص کوفہ یا مدائن کی طرف چلا جائے گا وہ بھی محفوظ رہے گا‘ اس اعلان کو سن خوارج کے لشکر سے مروہ بن نوفل اشجعی پانچ سو سواروں کے ساتھ جدا ہو گیا‘ کچھ لوگ کوفہ کی طرف چل دئیے‘ کچھ مدائن کی طرف روانہ ہوئے‘ کچھ امیر المومنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں شامل ہو گئے‘ غرض خوارج کے لشکر میں ایک تہائی سے بھی کم آدمی باقی رہ گئے‘ ان پر حملہ کیا گیا اور سب کو گھیر کر تہ تیغ کیا گیا‘ عبداللہ بن وہب زید بن حصین حرقوص بن زہیر‘ عبداللہ بن شجر‘ شریح بن اوفی وغیرہ خوارج کے تمام بڑے بڑے سردار مارے گئے‘ صرف نو آدمی خوارج کے زندہ بچ کر فرار ہوئے‘ باقی سب میدان جنگ میں لڑ کر مارے گئے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خارجیوں کی لاشوں کو بغیر دفن کئے ہوئے اسی طرح میدان میں چھوڑ کر واپس ہوئے اس لڑائی میں بظاہر خارجیوں کا پورے طور پر استیصال ہو چکا تھا اور اب کوئی خطرہ ان کی طرف سے باقی نہ رہا تھا۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جنگ نہروان سے فارغ ہو کر ملک شام کا عزم فرمایا تو اشعث بن قیس نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ فی الحال چند روز کے لیے شام کے قصد کو ملتوی کر کے آرام کرنے کا موقع دیجئے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس بات کو ناپسند فرمایا‘ اور مقام نخیلہ میں آ کر قیام کیا اور حکم دیا کہ کوئی شخص کوفہ میں نہ جائے‘ جب تک اہل شام پر فتح مندانہ ہو کر واپس نہ آئے‘ نخیلہ کے قیام میں لوگوں نے اس حکم کی خلاف ورزی کی اور لشکر گاہ کو خالی چھوڑ کر اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس طرح لشکرگاہ کو خالی دیکھ کر خود بھی کوفہ میں تشریف لے آئے اور سرداروں کو جمع کر کے اس سستی اور تن آسانی کی وجہ دریافت کی‘ بہت ہی کم لوگوں نے شام پر حملہ آوری کے لیے آمادگی ظاہر کی‘ باقی خاموش رہے‘ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تمام لوگوں کو جمع کر کے تقریر کی اور ان کو جنگ شام کے لیے ترغیب دی‘ مگر سب نے خاموشی سے اس تقریر کو سنا‘ اور کسی قسم کی آمادگی و مستعدی کا مطلق اظہار نہ کیا‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ لوگوں کی اس سرد مہری کو دیکھ کر مجبوراً خاموش ہو گئے اور ملک شام پر حملہ آور نہ ہو سکے۔