سیدنا علی رضی اللہ عنہ
سیدنا علی کرم اللہ وجہہ‘ کی شہادت
انہیں ایام میں جب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بصرہ کی حکومت چھوڑ کر مکہ معظمہ میں چلے آئے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بھائی سیدنا عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ناراض ہو کر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس چلے گئے‘ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کا معقول روزینہ مقرر کر دیا‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سیدنا عقیل کے اس طرح جدا ہو جانے اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس چلے جانے کا سخت ملال ہوا اور آپ نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف جنگی تیاریوں کو ضروری سمجھا‘ کوفیوں کو شام پر حملہ کرنے کی ترغیب دی اور اس مرتبہ کوفیوں پر آپ کی ترغیب کا یہ اثر ہوا کہ ساٹھ ہزار کوفیوں نے آپ کے ہاتھ پر اس امر کی بیعت کی کہ ہم تازیست آپ کا ساتھ نہ چھوڑیں گے اور مارنے مرنے پر آمادہ رہیں گے‘ آپ ان ساٹھ ہزار کے علاوہ اور لوگوں کو بھی فراہم کرنے اور سامان حرب درست کرنے میں مصروف تھے‘ خارجیوں کی فوجی طاقت جنگ نہروان میں زائل ہو چکی تھی‘ بظاہر ان کی طرف سے کوئی اندیشہ باقی نہ رہا تھا۔