سیدنا حسن رضی اللہ عنہ
سیدنا سعید رضی اللہ عنہ بن زید
آپ سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے چچیرے بھائی اور بہنوئی تھے‘ آپ کا شجرہ نسب اس طرح ہے سعید بن زید بن عمرو بن نفیل بن عبداللہ بن قرط بن رباح بن عدی‘ تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ رہے‘ صرف بدر میں شریک نہ تھے‘ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو بدر کی غنیمت سے حصہ دیا اور بدریوں میں شمار کیا‘ آپ بڑے باکرامت اور مستجاب الدعوات تھے‘ ۵۱ ھ میں بہتر سال کی عمر میں آپ نے وفات پائی‘ ایک مرتبہ ایک عورت نے زمین کا جھوٹا دعویٰ آپ پر کیا‘ آپ نے بددعا کی کہ الہی اگر یہ اپنے دعویٰ میں جھوٹی ہے تو اس کو اندھا کر دے‘ وہ عورت اندھی ہو گئی‘ اور چند ہی روز کے بعد کہیں جاتی تھی کہ ایک کنویں میں گر پڑی اور مر گئی۔
ایک روز کوفہ کی جامع مسجد میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نسبت ایک شخص سے ناشدنی الفاظ سن کر آپ نے فرمایا کہ ابوبکر و عمر و عثمان و علی و طلحہ و زبیر و ابوعبید و سعد بن ابی وقاص و عبدالرحمن بن عوف یہ نو اشخاص عشرہ مبشرہ میں سے ہیں‘ ایک شخص نے پوچھا کہ سیدنا اس دسویں کا بھی نام بتا دیجئے‘ آپ یہ سن کر خاموش رہے‘ جب اس نے دوبارہ باصرار دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ دسواں میں ہوں‘ الہی مجھ گنہگار کو بھی جنت عطا فرما اور حسنات دارین عطا کر‘ آمین یا رب العالمین‘ رب اغفر و ارحم و انت خیر الراحمین۔