خلافت بنو امیہ

تمہید

تمہید اسلام اور خاندانی عصبیت خلافت راشدہ کے بعد اب ہم کو سلطنت بنو امیہ کے حالات شروع کرنے ہیں‘ خلافت راشدہ میں پہلے دو خلیفہ (ابوبکر و عمر) نہ بنی امیہ سے تھے نہ بنی ہاشم سے‘ ان دونوں کا عہد خلافت خلافت راشدہ کا بہترین زمانہ تھا۔ تیسرے بنو امیہ کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے‘ اور چوتھے بنو ہاشم سے‘ خلافت راشدہ کے آخری نصف زمانہ میں بنو امیہ اور بنو ہاشم دونوں قبیلوں کے خلیفہ تخت پر متمکن رہے‘ یہ آخری نصف زمانہ پہلے نصف زمانہ کے مقابلہ میں ناکام زمانہ کہا جا سکتا ہے‘ اگرچہ بعد کی خلافتوں سے یقینا اچھا تھا‘ کیوں کہ صحابہ کرام ہی بر سر حکومت تھے اور اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم دنیا میں زندہ موجود تھے۔ اسلام دنیا میں شرک کو مٹانے اور توحید قائم کرنے کے لیے آیا‘ رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے کامل توحید اور حقیقی کامرانی کا راستہ نسل انسانی کو دکھایا‘ شرک سے بڑھ کر کوئی نقصان وزیاں‘ اور توحید سے بڑھ کر کوئی سعادت و کامیابی انسان کے لیے نہیں ہو سکتی‘ شرک درحقیقت ایک ناانصافی اور ظلم کا نام ہے اسی لیے قرآن کریم میں اس کو ظلم عظیم کہا گیا ہے‘ اس سے بڑھ کر اور کیا ظلم ہو سکتا ہے کہ انسان اپنے حقیقی معبود کو چھوڑ کر ان مجبور ہستیوں کو معبود ٹھہرائے‘ جو معبود حقیقی کی مخلوق اور غلام ہیں؟ پس شرک میں وہی شخص مبتلا ہو سکتا ہے‘ جو عدل کے خلاف ناانصافی اور ظلم کو اپنا شعار بنائے‘ اس ظلم و ناانصافی میں مبتلا کرنے والی سب سے بڑی چیز جہالت اور بے جا محبت ہے‘ جس کو اصطلاح قرآنی میں ضلال اور گم راہی کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ اب غور کرو اور سوچو‘ کہ اپنے خاندان اور قبیلے کے بزرگوں کی بے جا محبت میں ان کے ناموں‘ ان کی تصویروں‘ ان کے مجسموں‘ ان کی قبروں کی بے جا تعظیم کے ذریعہ دنیامیں سب سے زیادہ شرک نے رواج پایا‘ اور اسی گمراہی کے ذریعہ نوع انسانی نے اپنے خالق و مالک و معبود کو فراموش کر کے اپنے آپ کو ہلاکت کے گڑھے میں گرایا‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مبعوث ہو کر جہاں شرک کے دیگر امکانات کو مٹا دیا‘ وہاں اس بے جا خاندانی عصبیت اور عدل و انصاف سے دور کرنے والی گمراہ کن اور بے جا محبت سے انسانوں کو بچایا۔ دوسری چیز جو انسان کو ظلم عظیم میں مبتلا کر سکتی ہے اور کرتی رہی ہے‘ تکبر اور بیجا تفاخر ہے‘ اسی نے ابلیس کو ابلیس بنا کر شیطان رجیم بنایا‘ اور اسی کے ذریعہ شیطان نے اکثر انسانوں کو صراط مستقیم سے ہٹا کر ہلاکت آفریں راہوں پر چلایا‘ یہ بیجا تفاخر جب بیجا محبت کے ساتھ مل جاتا ہے‘ تو گمراہی اور ہلاکت کا نہایت زود اثر معجون نوع انسان کے لیے تیار ہو جاتا ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس ہلاکت آفریں سامان شرک تعصب و تکبر کو مٹانے اور دور کرنے کے لیے فتح مکہ کے روز خانہ کعبہ کے دروازہ میں کھڑے ہو کر تمام باشندگان مکہ اور شرفاء عرب کے اجتماع عظیم کو مخاطب کر کے فرمایا کہ: ’’اے گروہ قریش! اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کے تکبر اور باپ دادا کے فخر کو دور کر دیا‘ تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا ہوئے تھے‘ خدائے تعالیٰ فرماتا ہے: اے لوگو! ہم نے تم کو نر و مادہ سے پیدا کیا اور تمہاری شاخیں اور قبائل بنائے تاکہ تمہاری الگ الگ پہچان ہو‘ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہی ہے جو زیادہ نیک ہے‘‘۔۱؎ نسلی و قبائلی تفاخر کو مٹانا درحقیقت شرک کے امکانات کو مٹا کر توحید کی استعداد کا پیدا کرنا تھا‘ ساتھ ہی قبیلوں اور برادریوں کے وجود اور ان کے امتیازات سے بھی انکار نہیں ہے‘ لیکن بزرگی اور فضیلت کو نسل و برادری سے متعلق نہیں رکھا گیا‘ بزرگی و برتری صرف خداشناسی و اللہ تعالیٰ ترسی سے تعلق رکھتی ہے‘ ہر ایک شخص متقی و بااللہ تعالیٰ بن کر مستحق کرامت بن سکتا ہے اور ہر ایک قبیلہ کا ہر ایک شخص اپنی بد اعمالیوں کے ذریعہ رذالت و ذلت کما سکتا ہے‘ اس صحیح روش اور جادہ مستقیم پر گامزن کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے لوگوں کو فلاح دارین اور سعادت انسانی تک پہنچایا۔ خلافت راشدہ کے ابتدائی نصف زمانہ میں مسلمانوں کو ترک کردہ سامان گمراہی ار فراموش شدہ عصبیت خاندانی سے کوئی تعلق نہ تھا‘ بلال حبشی کو اکابر قریش سیدی (میرے آقا) کہہ کر پکارتے‘ اور نیک اعمال کی بنا پر ان کو اپنے آپ سے زیادہ مکرم و معظم جانتے تھے‘ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری میں بڑے بڑے خاندانی مہاجرین و انصار کو محکوم بنا کر بھیجنے میں یہی حکمت تھی کہ کسی کے گوشہ قلب میں یہ خیال باقی نہ رہ سکے کہ محض قوم یا نسل یا خاندان کی وجہ سے کوئی معظم و مکرم بن سکتا ہے۔ حکومت و خلافت اگر کسی خاص قبیلہ اور خاص خاندان کا حق ہوتا‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم صوبوں اور ولایتوں کی حکومت میں بنی ہاشم کے سوا کسی دوسرے کو عامل بنا کر نہ بھیجتے اور فوجوں کی سپہ سالاری سوائے بنی ہاشم کے کسی دوسرے کو عطا نہ فرماتے‘ لیکن آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے بہت ہی کم کسی ہاشمی کو فوج کی سپہ سالاری یا کسی ولایت کی حکومت پر مامور فرمایا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیشہ ذاتی قابلیت کے موافق لوگوں کو سرداریاں اور حکومتیں عطا فرمائیں‘ اور کسی خاندان یا قبیلہ سے تعلق رکھنے کو حکومت و سرداری کے لیے جائز استحقاق نہیں سمجھا‘ یہی سبب تھا کہ دربار نبوی صلی اللہ علیہ و سلم سے غلاموں تک کو قابلیت کے سبب اکابر قریش کی سرداری اور عظیم الشان فوجوں کی سپہ سالاری حاصل ہو سکتی تھی‘ توحید کامل سکھانے والے استاد کامل سے اس کے سوا کسی دوسرے طرز عمل کی توقع بھی نہیں ہو سکتی تھی۔ بنی ہاشم اور بنی امیہ کی رقابت قبیلہ بنی امیہ اور بنی ہاشم میں پہلے سے ایک رقابت اور مسابقت چلی آتی تھی‘ یعنی ان دونوں میں ہر ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کرتا تھا‘ غالباً یہی وجہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی (جو بنی ہاشم میں سے تھے) بنو امیہ نے ابتداء میں زیادہ مخالفت کی اور بنو ہاشم سے نسبتاً آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو امداد پہنچی‘ جب ملک عرب سے مشرکوں کا استیصال ہو گیا‘ اور ان دونوں قبائل کے عنادی مشرک بھی قتل ہو کر بقیہ خوش نصیب اسلام میں داخل ہو گئے تو ان مسلمان ہو جانے والے بنی امیہ میں ایک کافی تعداد ذی حوصلہ اور قابل آدمیوں کی موجود تھی جن کی قدر دانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے علیٰ قدر قابلیت ضروری سمجھی۔ چنانچہ فتح مکہ کے روز ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے گھر کو امان کے معاملہ میں کعبہ کا ہمسر ٹھہرا کر انہیں خوش کر دیا۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ جو بنی امیہ میں سے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے داماد تھے‘ ان کے لیے بیعت رضوان ہوئی۔ ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنھا بھی بنو امیہ کے قبیلہ سے یعنی ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی بیٹی اور معاویہ رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں۔ ابو سفیان رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے نجران کا عامل مقرر فرمایا تھا۔ عثمان بن ابو العاص رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے چچا تھے‘ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے طائف اور اس کے متعلقات کا گورنر مقرر فرمایا تھا۔ فاروق اعظم نے ان کو عمان و بحرین کا حاکم مقرر فرمایا‘ عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ ابو سفیان کے چچا ابو العیص کے پوتے تھے‘ مکہ کی فتح کے دن مسلمان ہوئے اور مکہ کے حاکم مقرر کئے گئے۔ خالد بن سعید ابو سفیان کے چچا عاص کے پوتے تھے‘ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے یمن کا عامل مقرر فرمایا تھا۔ یہ جنگ یرموک میں شہید ہوئے۔ عثمان بن سعید کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے خیبر کا اور ان کے بھائی ابان کو بحرین کا عامل مقرر فرمایا تھا۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دل میں بنو امیہ اور بنو ہاشم کی قدیمی رقابت کا کوئی ذرا بھی شائبہ ہوتا اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم ذاتی قابلیتوں پر نسلی و خاندانی تعلقات کو ترجیح دیتے‘ تو بنی امیہ کے افراد کو اس طرح صوبوں کے عامل ہر گز مقرر نہ فرماتے‘ مگر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نسلی امتیازات کو ذاتی قابلیت پر ہرگز ترجیح نہیں دیتے تھے‘ ہاں نسلی امتیازات کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم تسلیم کرتے تھے‘ مگر اسی حد تک کہ جن خاندانوں میں انتظامی قابلیت اور سرداری کی لیاقت ہمیشہ زیادہ پائی گئی‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی انتظامی کاموں اور سپہ سالاریوں کے لیے ان ہی خاندانوں کے افراد میں سے قابل آدمیوں کو زیادہ تلاش کیا۔ بنو امیہ اور بنو ہاشم دونوں قبیلوں کی پرانی رقابت اسلام نے ابھی نئی نئی مٹائی تھی‘ لہٰذا احتیاط اس کی متقاضی تھی‘ کہ ان کو خلافت کے معاملہ میں اور کچھ دنوں ایسا موقع نہ دیا جاتا کہ وہ اپنی فراموش شدہ رقابت کو پھر تازہ کر سکیں‘ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس خطرہ کا بخوبی احساس فرمایا‘ اور اپنے بعد محض قابلیت کی بنا پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو نمازوں کا امام بنا کر ان کی خلافت کے لیے اشارہ فرمایا‘ جس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی فہم و فراست والی جماعت نے بخوبی عمل کیا۔ اسی طرح سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے بعد ایسا جانشین مقرر فرمایا جو قابلیت کے اعتبار سے سب پر فائق اور مذکور بالا دونوں قبیلوں میں سے کسی ایک سے بھی تعلق نہ رکھتا تھا۔ اسی طرح سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بعد اگر سیدنا ابوعبیدہ یا سالم مولی ابی حذیفہ میں سے کوئی ایک خلیفہ ہوتا جیسا کہ عمر فاروق کی آرزو تھی‘ تو یہ مردہ رقابت دوبارہ زندہ نہ ہوئی‘ مگر یہ دونوں بزرگ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے پہلے وفات پا چکے تھے۔ پھر اگر ہر شش اصحاب شوریٰ اپنے آپ میں سے کسی کو انتخاب کرنے میں صرف اس اصول پر کاربند ہوتے‘ کہ کوئی بنی امیہ اور کوئی بنی ہاشم خلیفہ نہ بنایا جائے‘ تو آئندہ پیش آنے والے خطرات ممکن ہے کہ پیش نہ آتے اور کم از کم ان دونوں قبیلوں کو اپنی فراموش شدہ رقابت یاد نہ آتی۔ اگر علی رضی اللہ عنہ عمر رضی اللہ عنہ کے بعد خلیفہ ہوتے تب بھی بہت زیادہ ممکن تھا کہ یہ آتش خاموش دوبارہ مشتعل نہ ہوتی کیونکہ علی رضی اللہ عنہ سے یہ توقع نہ ہوتی کیونکہ علی رضی اللہ عنہ سے یہ توقع نہ تھی کہ وہ بنوہاشم کی اس طرح غیر معمولی اور قابل احساس رعایت کرتے جیسی کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں بنو امیہ کی ہوئی۔ بہرحال ہم کویہ ایمان رکھنا چاہیئے‘ کہ جو کچھ ہوا مشیت الٰہی کے ماتحت ہوا اور یہی ہونا چاہیئے‘ کیونکہ ہمارے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہے کہ ہم وقوع یافتہ اعمال و افعال کے نتائج پر اپنی نابودہ وغیر واقع شدہ تجاویز کے نتائج کو یقینی طور پر ترجیح دے سکیں۔ ہاں ہم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں‘ کہ بنی ہاشم اور بنی امیہ کی رقابت کا عہد اسلامی میں دوبارہ پیدا ہو کرتا دیر باقی رہنا اسلام کے لیے بے حد نقصان رساں تھا‘ اور آج تک اس رقابت کو قائم اور باقی رکھنے والے اور کسی خاندان یا قبیلہ کے تعلق کو خلافت کے لیے ضروری سمجھنے والے لوگ تعلیم اسلامی کے سخت مخالف اور اسلام کے لیے بے حد نقصان رساں ثابت ہو رہے ہیں۔ بنو امیہ اپنی ذاتی قابلیتوں کی وجہ سے پہلے ہی خلافت اسلامیہ کے ایک ضروری جزو بنے ہوئے تھے‘ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے خلیفہ مقرر ہو جانے کے بعد ان کی نرم مزاجی اور مروان بن الحکم کے اقتدار سے فائدہ اٹھا کر بنی امیہ نے اپنی طاقت اور اثر کو یک لخت اس قدر بڑھا لیا‘ کہ تمام عالم اسلامی پر چھا گئے‘ اور اپنی سیادت تمام ملک عرب پر قائم کرنے کی تدبیروں میں مصروف ہو گئے جس کو وہ عہد جاہلیت میں بنو ہاشم کے مقابلہ میں قائم نہ کر سکے تھے‘ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت‘ نیز منافقوں اور مسلم نما یہودیوں کی سازشوں نے ان کو اور بھی امداد پہنچائی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنے عہد خلافت میں زیادہ پریشانیوں اور دقتوں کا سامنا اس لیے بھی کرنا پڑا کہ وہ ہاشمی تھے‘ تمام اہل عرب کی نگاہوں میں بنی ہاشم اور بنو امیہ کی رقابتوں کے نقشے گھومنے لگے‘ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ہر اس کوشش کو جو وہ معاویہ رضی اللہ عنہ اور بنو امیہ کے خلاف کرتے تھے‘ اسی رقابت پر محمول کر کے ان کا پورے طور پر ساتھ نہ دیا‘ کیوں کہ وہ ان دونوں قبیلوں کی پرانی رقابتوں کو دوبارہ زندہ کرنے میں کوئی حصہ نہیں لینا چاہتے تھے۔ اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جگہ کوئی دوسرا غیر ہاشمی شخص خلیفہ ہوتا‘ تو یقینا اس کو عرب قبائل کی زیادہ امداد حاصل ہوتی‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اگر خود خلیفہ نہ ہوتے‘ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو شکست دینے اور بنی امیہ کو نیچا دکھانے میں زیادہ کام کر سکتے‘ اور اس غیر ہاشمی خلیفہ کو کامیاب بنانے میں اپنی قوت اور اثر کو بہت زیادہ پاتے۔ اس موقعہ پر بے اختیار سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے وہ آخری الفاظ یاد آجاتے ہیں‘ جو انہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو فوت ہوتے وقت بطور وصیت سنائے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ تک خلافت پہنچی تو تلواریں میانوں سے نکل آئیں‘ اور یہ معاملہ طے نہ ہوا‘ اب میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ نبوت اور خلافت ہمارے خاندان میں جمع نہیں رہ سکتیں۔۱؎ ۱؎نا معلوم حسن رضی اللہ عنہ کے یہ کلمات سنداً ثابت ہیں یا نہیں‘ یہ معاملہ مزید تحقیق کا متقاضی ہے۔ البتہ ہمیں حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ فتنوں کے وقت مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کروائیں گے۔ (صحیح بخاری‘ کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ و سلم حدیث ۳۷۴۶) اس لیے ہمارا حسن ظن یہ ہے کہ وہ ایسے الفاظ زبان سے نہیں نکال سکتے جن سے حالات مزید خراب ہو سکتے ہوں‘ والعلم عنداللہ! سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ان الفاظ کی صداقت پر مستقبل جو آج تک ماضی بن چکا ہے‘ اپنی مہر صداقت ثبت کر چکا ہے‘ خلافت راشدہ کے بعد تقریباً نوے سال تک بنو امیہ نے دمشق کو دارالخلافہ بنا کر تمام عالم اسلام پر حکومت کی‘ ادھر اندلس میں بھی کئی سو سال تک ان کی شاندار خلافت و حکومت قائم رہی اور خاندان بنو عباس کی حکومت بغداد میں پانچ سو برس سے زیادہ عرصہ تک قائم رہی۔ بنو عباس بنی ہاشم تو ضرور ہیں لیکن وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے چچا کی اولاد ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیٹی کی اولاد نہیں ہیں۔ (یعنی صرف سادات کو خاندان نبوت کہا جا سکتا ہے کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا خون سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے ذریعہ شامل ہے‘ لیکن عباسیوں میں خاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے خون کی آمیزش نہیں ہے‘ لہٰذا ان کوخاندان نبوت نہیں کہا جا سکتا)۔ مصر کے ایک حکمران خاندان (بنو عبید) نے اپنے آپ کو فاطمی۱؎ کہا‘ لیکن محققین نے ان کو اپنے اس دعویٰ میں جھوٹا پایا‘ ہندوستان میں بھی ایک حکمران خاندان گذرا ہے‘ جن کو خاندان سادات کے نام سے یاد کیا جاتا ہے‘ مگر یہ حقیت عالم آشکارا ہے کہ خضر خاں حاکم ملتان جو اس خاندان کا مورث اعلیٰ تھا ہر گز سید نہ تھا‘ اس کے سید مشہور ہونے کی وجہ صرف یہ تھی‘ کہ ایک بزرگ صوفی نے اس کو سید (سردار) کہہ کر پکارا تھا‘ جیسے کہ آج کل بھی لوگ مغل اور پٹھان سرداروں کو ’’سیدی‘‘ کہہ کر مخاطب کر لیتے ہیں۔ غرض کہ آج تک کسی ملک میں سادات کی کوئی قابل تذکرہ خود مختار حکومت اور بادشاہت کبھی قائم نہ ہو سکی‘ ایک طرف یہ حقیقت ہمارے سامنے ہے‘ دوسری طرف ہم سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ان آخری الفاظ کو دیکھتے ہیں‘ تو بے اختیار ہمارا دل ان الفاظ کی پر عظمت صداقت کا مقر اور ان الفاظ کی ہیبت و شوکت سے مرعوب ہو جاتا ہے۔ خاندان نبوی (سادات) اور خلافت اسلامیہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت جو کچھ اپنے بھائی حسین رضی اللہ عنہ سے فرمایا‘ یہ صرف ان ہی کا اجتہاد یا الہام نہ تھا‘ بلکہ صحابہ کرام کی تمام اس جماعت کا‘ جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی صحبت میں زیادہ رہنے کا موقع ملا تھا‘ یہی خیال تھا‘ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی ہاشمی کو نہ کسی صوبہ کی مستقل حکومت عطا فرمائی‘ نہ کسی بڑی فوج کا خود مختار اور ذمہ دار سپہ سالار بنایا‘ جنگ موتہ میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو سپہ سالاری پر نامزد فرمایا‘ مگر اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو ان پر مقدم ۱؎وہ فاطمی کہلاتے تھے۔ مذہباً وہ شیعہ تھے۔ اس خاندان کو عبیدی خاندان/ عبیدیین بھی کہا جاتا تھا۔ اور فائق رکھا‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو چند روز کے لیے یمن کے خراج کی وصولی پر مامور فرمایا‘ مگر یمن کی اعلیٰ حکومت و افسری معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور ابو موسیٰ اشعری کو تفویض کی۔ اسی طرح ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بنو ہاشم کو ذمہ دارانہ عہدوں اور صوبوں کی حکومتوں پر مامور نہیں فرمایا حالاں کہ یہ دونوں اولین خلیفہ بنو ہاشم کی بڑی تعظیم و تکریم بجا لاتے‘ اور ان کی راحت و خوشنودی کا ہمیشہ خیال رکھتے تھے‘ اپنے کاموں میں ان ہی سے مشورہ طلب کرتے‘ اور عموماً انہیں کے مشوروں پر عمل بھی کرتے تھے‘ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک موقع پر صاف فرما دیا تھا کہ اگر شرف نبوت کے ساتھ ان لوگوں کو حکومت بھی مل گئی‘ تو وہ لوگوں کو اپنے حد سے زیادہ محکوم و مغلوب پا کر غرور قومی میں مبتلا ہو جائیں گے‘ اور اس طرح اسلام کی حقیقی روح کو ضائع کر کے خود بھی ضائع ہو جائیں گے۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جو شخص عہد جاہلیت کی عقیدت و عصبیت کی طرف ترغیب دلائے وہ واجب القتل ہے۔ پھر ایک مرتبہ فرمایا کہ اگر کسی شخص نے اپنی قرابت داری یا دوستی کی وجہ سے کسی کو امیر یا حاکم بنا دیا‘ حالانکہ مسلمانوں میں اس سے بہتر شخص مل سکتا تھا‘ تو اس نے اللہ تعالیٰ اور رسول اور تمام مسلمانوں کی خیانت کی۔ غرض صرف سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ہی کا یہ عقیدہ نہ تھا کہ خاندان نبوت کے لیے شرف نبوت ہی کافی ہے‘ اور اس کے ساتھ شرف حکومت کی جمع نہیں ہونا چاہیئے‘ بلکہ یہی عقیدہ اکثردوسرے صحابہ کرام کا بھی تھا‘ اور حقیقت یہ ہے کہ دنیا سے شرک کے مٹانے اور شرک کے امکانات کا استیصال کرنے کے لیے سادات عظام کو جو سردار دو جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں‘ دنیا کی حکومت اور مادی دولت کا خواہش مند بھی نہ ہونا چاہیئے‘ تاکہ وہ فرزندی محمد اور اپنے آل رسول ہونے کا پورا پورا ثبوت پیش کر سکیں۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یہ حکم نہ فرماتے کہ سادات عظام کے لیے صدقہ حرام ہے تو ہم کو یہ توقع ہو سکتی تھی کہ سادات یعنی خاندان نبوی ہی مستحق خلافت اورشہنشاہی کا حق دار ہے‘ لیکن آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا خاندان نبوت کے لیے یہ انتظام فرمانا سب سے بڑی دلیل اس امر کی ہے‘ کہ دنیوی حکومت و سلطنت اور مادی دولت سے بے تعلق ہونا اپنے خاندان والوں کے لیے آپ صلی اللہ علیہ و سلم پہلے تجویز فرما چکے‘ یا الہام الٰہی سے معلوم کر چکے تھے‘ سادات عظام کے لیے یہ اتنا بڑا فخر ہے‘ اور ان کے مرتبہ کو اتنا بلند کر دیتا ہے کہ دنیا کی دوسری قومیں جو شریعت اسلام سے تعلق رکھتی ہیں‘ ان پر جس قدر رشک کریں کم ہے۔ دنیوی دولت اور حکومت بھی وہ چیز ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ سے دور مہجور کر دیتی ہے‘ اور اسی لیے قرآن و حدیث میں دولت دنیا کو حقارت کی نظر سے دیکھا گیا ہے‘ تاریخ ہم کو بتاتی ہے کہ دولت و حکومت کی وجہ سے علم صحیح بھی اعمال صالحہ پر لوگوں کو آمادہ نہیں کر سکا‘ پس شریعت حقہ کی حفاظت ان ہی لوگوں نے کی ہے جو دولت و حکومت سے کچھ زیادہ تعلق نہ رکھتے تھے‘ اور اسی قسم کے لوگ قیامت تک اسلام کی حفاظت کا کام کرتے رہیں گے۔ اس حدیث پر بھی غور کرو‘ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے کہ ’’میں تم میں قرآن اور اپنی آل یعنی سادات کو چھوڑتا ہوں‘‘۔۱؎ پس یہ حدیث بھی اس بات کی دلیل ہو جاتی ہے‘ کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے عین منشائے حدیث کے موافق فرمایا تھا کہ ’’میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ نبوت اور خلافت ہمارے خاندان میں جمع نہیں رہ سکتیں۔