سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ

فضائل و خصائل

علم ‘ حلم اور حکمت: سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے ایک سو تریسٹھ حدیثیں مروی ہیں‘ جن کو بعد میں ابن عباس‘ ابن عمر رضی اللہ عنہ ‘ ابن زبیر رضی اللہ عنہ ‘ ابو الدرداء رضی اللہ عنہ وغیرہ صحابہ رضی اللہ عنہ اور ابن المسیب و حمید بن عبدالرحمن وغیرہ تابعین نے روایت کیا ہے‘ آپ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں بھی بہت سی حدیثیں مشہور ہیں‘ ترمذی نے احادیث حسن کے ذیل میں لکھا ہے‘ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا کہ ’’الٰہی معاویہ رضی اللہ عنہ کو ہدایت کرنے والا اور ہدایت پانے والا کر دے۔۱؎ مسند امام احمد حنبل میں لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ’’الٰہی معاویہ رضی اللہ عنہ کو حساب کتاب سکھا اور عذاب سے بچا‘‘۲؎ خود امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ کو خلافت کی اس وقت سے امید تھی‘ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ سے فرمایا کہ جب تو بادشاہ ہو جائے تو لوگوں سے بحسن سلوک پیش آنا۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا حلم اور ان کی دانائی ضرب المثل کے طور پر مشہور تھی‘ ایک مرتبہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے عہد خلافت میں حج سے فارغ ہو کر مدینہ میں آئے‘ اور یہاں چند روز ٹھہرے‘ ایک روز عبداللہ بن محمد بن عقیل بن ابی طالب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے‘ کہ ابو قتادہ انصاری بھی اس طرف آنکلے‘ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھ کر فرمایا کہ مجھ سے ملنے کے لیے تمام لوگ آئے مگر انصار نہیں آئے۔ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہمارے پاس سواری نہیں ہے‘ اس لیے نہیں آسکے۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تمہارے اونٹ کیا ہوئے؟ ابو قتادہ نے جواب دیا کہ تمہارے اور تمہارے باپ کے تعاقب میں ہمارے سارے اونٹ تھک گئے ہیں‘ پھر کہنے لگے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا ہے کہ میرے بعد ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ لوگ حق دار کے مقابلہ میں غیر حق دار کو ترجیح دیں گے۔ امیر معاویہ نے فرمایا کہ ایسی حالت کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کچھ فرمایا ہے کہ کیا کرنا چاہیئے؟ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس حالت کی نسبت ارشاد فرمایا ہے‘ کہ صبر کرنا چاہیئے۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بس پھر تم صبر کرو۔ قریش میں سے ایک جوان آدمی امیر معاویہ کے پاس گیا‘ اور ان کو برا بھلا کہنے لگا‘ امیر معاویہ نے اس کی بدزبانی سن کر فرمایا کہ اے میرے بھتیجے اس حرکت سے باز آجا‘ کیوں کہ بادشاہ کا غصہ بچے کا سا ہوتا ہے اور اس کا مواخذہ شیر کا سا۔ شعبی رحمہ اللہ تعالی کا قول ہے کہ عاقلان عرب چار ہیں۔ معاویہ‘ عمرو بن العاص‘ مغیرہ بن شعبہ اور زیادہ۔ معاویہ حلم و خردمندی کی وجہ سے‘ عمرو بن العاص پیش آمدہ کے سلجھانے کی قابلیت کے سبب سے‘ مغیرہ اوسان خطا نہ ہونے کی وجہ سے‘ اور زیاد ہر چھوٹی بڑی بات میں رضی اللہ عنھم نیز قاضی بھی چار ہیں ‘ عمر رضی اللہ عنہ ‘ علی رضی اللہ عنہ ‘ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ‘ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ جابر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر قرآن و فقہ کا عالم‘ اور طلحہ بن عبیداللہ سے بڑھ کر بغیر سوال کے عطا کرنے والا‘ اور معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر حلیم و عاقل اور عمرو بن العاص سے بڑھ کر خالص دوست میں نے نہیں دیکھا۔ سیدنا عقیل بن ابی طالب ایک روز امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے‘ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھ کر ازراہ خوش طبعی کہا کہ دیکھو یہ عقیل ہیں‘ ان کے چچا ابو لہب تھے‘ سیدنا عقیل نے فوراً جواب میں کہا کہ دیکھو یہ معاویہ ہیں‘ ان کی پھوپھی حمالۃ الحطب تھی۔ سیدنا عبداللہ بن عباس سے کسی نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی نسبت دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ان کا حلم غصہ کے لیے تریاق تھا اور ان کی سخاوت زبانوں پر قفل لگا دیتی تھی‘ ان کو دلوں کو جوڑنا خوب آتا تھا اور یہی سبب ان کے استحکام حکومت کا ہوا۔ ایک روز امیر معاویہ نے خود فرمایا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں مجھ کو جو کامیابی حاصل ہوئی اس کے چار سبب ہیں: 1 یہ کہ میں اپنے راز کو مخفی رکھتا تھا‘ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ تمام باتیں لوگوں پر ظاہر کر دیتے تھے۔ 2 یہ کہ میرے پاس فرماں بردار فوج تھی‘ اور علی رضی اللہ عنہ کے پاس نافرمان لوگ تھے۔ 3 یہ کہ میں نے جنگ جمل میں مطلق حصہ نہیں لیا۔ 4 یہ کہ میں قریش میں مقبول تھا اور علی رضی اللہ عنہ سے لوگ ناراض تھے۔