سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ
خوارج سے مقابلہ
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ ہوتے ہی سب سے پہلے خوارج کا مقابلہ کرنا پڑا‘ جب ربیع الاول ۴۱ ھجری کے آخری عشرہ میں صلح نامہ تحریر ہوا‘ اور کوفہ میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت عام ہوئی‘ تو فروہ بن نوفل اشجعی خارجی پانچ سو خارجیوں کی جمعیت لے کر علانیہ مخالفت پر آمادہ اور کوفہ سے نکل کر مقام نخیلہ میں جا کر خیمہ زن ہوا۔
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کے ساتھ زیادہ سختی و تشدد نامناسب سمجھ کر تدبیر سے کام لیا‘ اہل کوفہ کو جمع کر کے نصیحت کی ‘ اور کہا کہ یہ لوگ تمہارے ہی بھائی بند ہیں تم ہی ان کو سمجھائو‘ اور جنگ و مخالفت کے بدنتائج سے آگاہ کرو‘ قبیلہ اشجع کے لوگوں پر یہ اثر ہوا کہ وہ گئے اور فروہ بن نوفل اشجعی کو پکڑ کر باندھ لائے۔
فروہ کے بعد خارجیوں نے عبداللہ بن ابی الحوساء کو اپنا سردار بنا لیا‘ اور صلح کی طرف قطعاً اپنا میلان ظاہر نہ کیا‘ آخر کوفیوں نے ان کا مقابلہ کیا اور عبداللہ لڑائی میں مارا گیا۔
اس کے بعد ان کی تعداد صرف ڈیڑھ سو رہ گئی ‘ اور حوثرہ اسدی کو انہوں نے اپنا سردار بنا لیا‘ ان بقیہ لوگوں کو بھی مصالحت کی دعوت دی گئی‘ لیکن انہوں نے لڑ کر مر جانا پسند کیا اور مصالحت کی طرف متوجہ نہ ہوئے‘ آخر ابو حوثرہ اور اس کے ہمراہی لڑ کر مارے گئے‘ اور کچھ لوگ عراق و ایران کے مختلف شہروں میں چلے گئے۔
یہ پہلا مقابلہ تھا جو امیر معاویہ کو خلیفہ مقرر ہوتے ہی کوفہ میں پیش آیا اور ساتھ ہی خارجیوں کی اسی قسم کی جمعیت کا حال معلوم ہوا کہ ہر شہر میں موجود اور تمام عراق میں پائی جاتی ہیں۔