سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ

بحری بیڑے کی تیاری

قیصر روم کی طرف سے ملک شام کی شمالی سرحدوں کو ہمیشہ خطرہ رہتا تھا‘ شام کے ساحل پر بحری حملوں کا بھی اندیشہ تھا‘ مصر و افریقہ پر بھی رومیوں کی بحری چڑھائیاں ہوتی رہتی تھیں‘ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مشرقی مسائل کی طرف سے مطمئن ہو کر رومی خطرہ کی طرف اپنی تمام تر ہمت صرف کی‘ بحری فوج تیار کی‘ بحری فوج کے سپاہیوں کی تنخواہیں زیادہ کیں‘ تاکہ بحری فوج میں داخل ہونے کی لوگوں کو ترغیب ہو۔ قریباً دو ہزار جنگی کشتیاں تیار کرائیں اور جنادہ بن امیہ کو بحری فوج کا سپہ سالار یا امیر البحر مقرر فرمایا۔ بری فوجوں کو بھی پہلے سے زیادہ مضبوط کیا‘ انتظامی فوج (پولیس) کے علاوہ جنگجو فوج اور جارحانہ پیش قدمی کرنے والی فوج کا جداگانہ انتظام کیا‘ اس فوج کے دو حصے بنائے‘ ایک کا نام شاتیہ یعنی سرمائی فوج رکھا اور دوسری کا نام صائفہ یعنی گرمائی لشکر تجویز کیا‘ اس طرح گرمی و سردی دونوں موسموں میں بری فوج سرحدوں پر رومی لشکر کو ہٹانے اور دبانے میں مصروف رہنے لگی۔ ادھر بحری لشکر نے قبرص روڈس وغیرہ جزیروں کو اپنا مستقرو مرکز بنا کر قیصر کے جہازوں کو بحر روم سے بے دخل کر کے مصر و شام کے ساحلوں کو بحری حملوں سے محفوظ کر دیا۔ ۴۳ ہجری میں سجستان کے ملحقہ علاقے رحج وغیرہ فتح ہوئے‘ اسی سال برقہ و سوڈان کی طرف اسلامی لشکر نے پیش قدمی کی اور ان علاقوں میں حکومت اسلامیہ کا رقبہ بہت وسیع ہوا۔