سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ
ابن زبیر کی مدلل مخالفت
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم آپ کے سامنے چند باتیں پیش کرتے ہیں آپ ان میں سے جس کو چاہیں اختیار فرما لیں۔
اول یہ کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت پر عمل کریں اور خلافت کے معاملہ کو ویسے ہی بلانامزدگی مسلمانوں کے انتخاب پر چھوڑ جائیں‘ کہ وہ جس کو چاہیں خلیفہ بنا لیں‘ اور اگر آپ کو یہ بات پسند نہیں ہے‘ تو سنت صدیقی پر عمل کریں کہ ایسے شخص کو اپنا قائم مقام مقرر فرما جائیں جو نہ آپ کی قوم کا ہو نہ خاندان کا۔ یہ بھی پسند نہ ہو تو پھر آپ سنت فاروقی پر عامل ہوں کہ ایسے چھ اشخاص کو نامزد کر جائیں جو نہ آپ کے خاندان و قبیلے کے ہوں‘ نہ ان میں آپ کا بیٹا شامل ہو‘ وہ چھ شخص اپنے آپ میں سے جس کو چاہیں خلیفہ منتخب کر لیں۔
ان تینوں صورتوں کے سوا اور کوئی چوتھی صورت نہیں جس پر ہم رضا مند ہو سکیں۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی تائید باقی صاحبوں نے بھی کی‘ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حج سے فارغ ہو کر مذکورہ حضرات کے سوا باقی تمام اہل مکہ سے یزید کی ولی عہدی کے متعلق بیعت لی اور لوگوں کو اپنی جود و عطا سے مالا مال کیا‘ اس میں شک نہیں کہ لوگوں کو یزید کے معاملہ میں اپنا ہم خیال و ہم نوا بنانے کے لیے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مال و دولت سے زیادہ کام لیا‘ اور ممکن ہے کہ وہ یزید کی نامزدگی و ولی عہدی کو حقیقتاً عالم اسلام کے لیے زیادہ مفید اور مسلمانوں کی فلاح و صلاح کا موجب یقین کرتے ہوں اور اس کے مضر پہلو قطعاً ان کی نگاہ کے سامنے نہ آئے ہوں۔