یزید بن معاویہ

سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی مکہ سے روانگی

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے مکہ سے روانگی کی تیاری کی۔ جب سامان سفر درست ہو گیا‘ اور مکہ میں یہ خبر مشہور ہوئی‘ کہ حسین بن علی رضی اللہ عنھما کوفہ کو جانے والے ہیں تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے محبت و ہمدردی رکھنے والوں نے آ آکر ان کو اس ارادے سے باز رکھنا چاہا اور سمجھایا کہ آپ کا کوفہ کی طرف روانہ ہونا خطرہ سے خالی نہیں‘ اول عبدالرحمن بن حارث نے آکر عرض کیا کہ آپ کوفہ کا عزم ترک کر دیں‘ کیوں کہ وہاں عبیداللہ بن زیاد حاکم عراق موجود ہے‘ کوفہ والے لالچی لوگ ہیں‘ بہت ممکن ہے کہ جن لوگوں نے بلایا ہے وہی آپ کے خلاف لڑنے کے لیے میدان میں نکلیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے آکر کہا کہ تم بیعت لینے اور امارت حاصل کرنے کے لیے مکہ سے باہرنہ جائو‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو خدائے تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں سے ایک کے اختیار کرنے کی آزادی دی تھی‘ آپ نے آخرت کو اختیار کیا‘ تم بھی خاندان نبوت سے ہو‘ دنیا کی طلب نہ کرو‘ اپنے دامن کو دنیا کی آلائش سے آلودہ نہ ہونے دو۔ یہ نصیحت کر کے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما رو پڑے حسین رضی اللہ عنہ بھی رو پڑے مگر انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما کی رائے پر عمل کرنے سے انکار کر دیا۔ مجبور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما رخصت ہو کر چلے گئے۔ اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما آئے اور انہوں نے کہا کہ مکہ کو نہ چھوڑو‘ اور خانہ اللہ تعالیٰ سے دوری اختیار نہ کرو‘ تمہارے والد محترم نے مکہ اور مدینہ کو چھوڑ کر کوفہ کو ترجیح دی تھی‘ مگر تم نے دیکھا کہ ان کے ساتھ کوفہ والوں نے کس قسم کا سلوک کیا‘ یہاں تک کہ ان کو شہید ہی کر کے چھوڑا تمہارے بھائی حسن رضی اللہ عنہ کو بھی کوفیوں نے لوٹا‘ قتل کرنا چاہا‘ آخر زہر دے کر مار ہی ڈالا‘ اب تم کو ان پر ہر گز اعتبار نہ کرنا چاہیئے‘ نہ ان کی بیعت اور قسم کا کوئی بھروسہ ہے‘ نہ ان کے خطوط اور پیغامات قابل اعتماد ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ باتیں سن کر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ جو کچھ فرماتے ہیں سب درست ہے‘ لیکن مسلم بن عقیل کا خط آگیا ہے‘ بارہ ہزار آدمی اس کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہیں اور اس سے پہلے شرفاء کوفہ کے ڈیڑھ سو خطوط میرے پاس آچکے ہیں‘ اب کوئی خطرہ کی بات نہیں ہے‘ میرا وہاں جانا ہی مناسب ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے یہ جواب سن کر کہا‘ کہ اچھا کم از کم اس ذی الحجہ کے مہینے کو ختم اور نئے سال کو شروع ہو لینے دو‘ پھر عزم سفر کرنا‘ اب حج کے دن آگئے ہیں سارے جہان کے لوگ دور دور سے مکہ میں آرہے ہیں اور تم مکہ کو چھوڑ کر باہر جا رہے ہو‘ محض اس لیے کہ دنیا اور دنیاداروں پر تم کو حکومت حاصل ہو‘ لوگوں کو حج سے فارغ ہو کر واپس ہو لینے دو‘ پھراگر ضروری سمجھتے ہو تو روانہ ہو جائو۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ معاملہ ایسا ہے کہ اب میں تاخیر نہیں کر سکتا‘ مجھ کو فوراً روانہ ہی ہو جانا چاہیئے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے کہا کہ اچھا اگر تم میرا کہنا نہیں مانتے ہو تو کم از کم عورتوں اور بچوں کو تو ساتھ نہ لے جائو‘ کیوں کہ کوفہ والوں کا کوئی اعتبار نہیں ہے‘ بارہ ہزار شخص جب کہ تمہاری خلافت کے لیے بیعت کر چکے ہیں تو ان کا فرض تھا کہ وہ اول یزید کے عامل کو کوفہ سے نکال دیتے‘ خزانہ پر قبضہ کرتے اور پھر آپ کو بلاتے۔ لیکن موجودہ صورت میں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یزید کے عامل یعنی کوفہ کے عامل کے خلاف وہ کچھ نہیں کر سکتے‘ جبکہ ان کے پاس خزانہ بھی نہیں اور عامل کو نکال دینے کی جرأت بھی نہیں‘ تو یقینا کوفہ کا عامل ان کو خوف دلا کر اور لالچ دے کر اپنے حسب منشاء جب چاہے گا استعمال کر سکے گا‘ اور ہو سکتا ہے کہ یہی لوگ جو آپ کو بلا رہے ہیں آپ سے لڑنے کے لیے یزید کی طرف سے میدان میں آئیں‘ ان حالات پر غور کرنے سے آپ کی جان کا خطرہ نظر آتا ہے‘ اگر عورتیں اوربچے بھی آپکے ساتھ ہوئے‘ توجس طرح عثمان غنی رضی اللہ عنہ اپنے اہل و عیال کے روبرو قتل کئے گئے اسی طرح آپ کے اہل و عیال کو بھی آپ کا قتل ہونا دیکھنا پڑے گا اور دشمنوں کے ہاتھ میں گرفتار ہو کر لونڈی غلام بننے کا اندیشہ رہے گا۔ جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنھما کی اس بات کو بھی نہ مانا‘ تو انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو امارت و خلافت کا ایسا ہی شوق ہے‘ تو آپ اول یمن کے ملک میں جائیے‘ وہاں آپ کے بہت سے ہمدرد بھی موجود ہیں۔ وہاں پہاڑی سلسلہ بھی حفاظت کے لیے خوب کام آسکتا ہے۔ حجاز کی حکومت بھی اگر آپ چاہیں تو بڑی آسانی سے آپ کو مل سکتی ہے۔ آخر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما مجبور ہو گئے اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے ان کے کسی مشورہ کو بھی نہ مانا۔ اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما آئے اور انہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ ہر گز کوفہ کا عزم نہ کریں‘ آپ کی روانگی کے عزم کا حال جب سے مکہ میں مشہور ہوا ہے‘ میں بعض شخصوں سے یہ بھی سن رہا ہوں کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما اب حسین بن علی رضی اللہ عنھما کے چلے جانے سے بہت خوش ہو گا کیوں کہ مکہ میں اس کا کوئی رقیب باقی نہ رہے گا۔ لہٰذا میں ان بدگمان لوگوں کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے آپ سے نہایت خلوص کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ آپ مکہ کی حکومت قبول فرمائیں اور اپنا ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کروں اور آپ کے حکم کی تعمیل میں شمشیرزنی کے لیے میدان میں نکلوں‘ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اب اطلاع دے چکا اور روانگی کا عزم مصمم کر چکا ہوں لہٰذا کسی طرح رک نہیں سکتا۔ آخر ۳ ماہ ذی الحجہ ۶۰ھ بروز دو شنبہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ مکہ سے مع اہل خاندان روانہ ہوئے‘ اسی تاریخ یعنی بروز دو شنبہ بتاریخ ۳ ذی الحجہ کوفہ میں مسلم بن عقیل قتل کئے گئے‘ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ جب مکہ سے روانہ ہونے لگے تو عمرو بن سعد بن العاص رضی اللہ عنہ اور بعض دوسرے اہل مکہ نے آکر ان کو روکنا چاہا اورکہا کہ اگر آپ ویسے نہیں مانتے تو ہم آپ کو زبردستی روکیں گے اور آپ کا مقابلہ کریں گے‘ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جو کچھ تم سے ہو سکے کر گذرو‘ اور لڑائی کا ارمان بھی نکال لو‘ یہ سن کر سب لوگ ان کے سامنے سے ہٹ گئے‘ اور وہ روانہ ہوئے‘ رخصت کرتے وقت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے کہا کہ میں اس وقت تمہارے اونٹ کے آگے لیٹ جاتا‘ کہ وہ مجھ کو بغیر کچلے ہوئے آگے نہ بڑھ سکے‘ لیکن میں جانتا ہوں کہ تم پھر بھی نہ رکو گے‘ اور عزیم کوفہ سے باز نہ رہو گے۔ آخر آپ مکہ سے روانہ ہوئے‘ مقام تیعم میں ایک قافلہ ملا جو یزید کے پاس عامل یمن کی طرف سے تحائف لے جا رہا تھا‘ آپ نے اس قافلہ کو گرفتار کر لیا‘ اور کچھ سامان اس قافلہ سے لے کر آگے روانہ ہوئے‘ مکہ اور کوفہ کے درمیان مقام صفاح میں عربی کے مشہور شاعر فرزق سے ملاقات ہوئی جو کوفہ سے آرہا تھا‘ فرزوق جب کوفہ سے چلا تھا‘ تو اس وقت تک عبیداللہ بن زیاد کوفہ میں داخل نہ ہوا تھا‘ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے فرزوق سے کوفہ اور کوفیوں کا حال پوچھا تو اس نے کہا کہ اہل کوفہ کے دل تو آپ کے ساتھ ہیں‘ لیکن ان کی تلواریں آپ کی حمایت میں بلند نہیں ہو سکتیں۔ کچھ دور آگے بڑھے تھے‘ کہ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کا خط جو انہوں نے مدینہ سے اپنے بیٹوں عون اور محمد کے ہاتھ روانہ کیا تھا آپ کو ملا‘ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے لکھا تھا کہ میں آپ کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر عرض کرتا ہوں کہ کوفہ کے ارادہ سے باز رہیے‘ اور مدینہ میں آجائیے‘ مجھ کو اندیشہ ہے کہ آپ قتل نہ ہو جائیں‘ اللہ کے لیے آپ اس معاملہ میں جلدی نہ کریں‘ ساتھ ہی مدینہ کے والی کا خط بھی ان ہی قاصدوں نے دیا‘ جس میں لکھا تھا کہ آپ مدینہ میں آکر رہنا چاہیں تو آپ کو امان ہے‘ مگر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے واپسی سے قطعاً انکار کیا‘ اور محمد اور عون کو بھی ہمراہ لے لیا۔ آپ نے اپنے دلیل راہ سے جو بصرہ کا ایک شخص تھا کہا کہ جس قدر جلد ممکن ہو ہم کو کوفہ میں پہنچائو‘ تاکہ ہم عبیداللہ بن زیاد کے پہنچنے سے پہلے کوفہ میں داخل ہو جائیں وہاں لوگ ہمارے سخت منتظر ہوں گے۔ اتفاقاً اسی روز عبیداللہ بن زیاد کے پاس یزید کا خط پہنچا تھا‘ کہ اپنی حفاظت کرو اور چوں کہ سیدنا حسین مکہ سے روانہ ہو چکے ہوں گے‘ لہٰذا ہر ایک راستے پر فوجیں متعین کر دو‘ کہ ان کو کوفہ تک نہ پہنچنے دیا جائے‘ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اپنے دل میں یہ خیال کرتے ہوئے جا رہے تھے کہ مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ہر روز لوگ بیعت کرتے ہوں گے‘ اور جماعت اب بہت زیادہ ہو چکی ہو گی‘ لیکن کوفہ میں عبیداللہ بن زیاد ان کی گرفتاری یا قتل کے لیے فوجیں نامزد کر رہا تھا۔ چند منزلیں اور طے کرنے کے بعد عبداللہ بن مطیع سے ملاقات ہوئی‘ انہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ارادے سے واقف ہو کر نہایت اصرار کے ساتھ روکا اور مکہ کی طرف واپس چلنے کے لیے قسمیں دلائیں‘ پھر ان کو سمجھایا کہ آپ عراقیوں کے فریب میں نہ آئیں‘ اگر آپ بنو امیہ سے خلافت چھیننے کی کوشش کریں گے تو وہ آپ کو ضرور قتل کر دیں گے اور ہر ایک ہاشمی‘ ہر ایک عرب اور ہر ایک مسلمان کے لیے قتل پر دلیر ہو جائیں گے‘ آپ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال کر اسلام‘ عرب اور قریش کی حرمت کو نہ مٹائیں‘ مگر امام حسین رضی اللہ عنہ پر ان کی بات کا کوئی اثر نہ ہوااور وہ بدستور کوفہ کی جانب گرم سفر رہے۔ مقام حاجر سے آپ نے قیس بن مسہر کے ہاتھ اہل کوفہ کے پاس ایک خط بھیجا‘ کہ ہم قریب پہنچ گئے ہیں ہمارے منتظر رہو‘ قیس قادسیہ میں پہنچے تھے‘ کہ لشکر ابن زیاد کے ہاتھ میں گرفتار ہو گئے‘ ابن زیاد کے روبرو معہ خط پیش کئے گئے‘ اس نے قصر امارت کی چھت پر چڑھا کر اوپر سے گرا دیا‘ اور قیس گرتے ہی فوت ہو گئے‘ پھر اگلی منزل سے اپنے رضائی بھائی عبداللہ بن یقطر کو اسی طرح خط دے کر بھیجا‘ وہ بھی اسی طرح گرفتار ہو کر قصر امارت سے گرا کر قتل کئے گئے۔ یہ قافلہ جب مقام ثعلبیہ میں پہنچا تو معلوم ہوا کہ مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کوفہ میں قتل کر دیئے گئے اور اب کوئی متنفس کوفہ میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا حمایتی نہیں ہے‘ اس خبر کے سنتے ہی تمام قافلہ پر مایوسی چھا گئی‘ اور واپسی کا ارادہ ہوا‘ کیوں کہ کوفہ کی طرف جانے میں قوی احتمال تھا کہ جو سلوک مسلم کے ساتھ ہوا ہے‘ وہی اس قافلے کے ساتھ ہو گا‘ یہ سن کر مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے بیٹوں نے کہا کہ ہم کو ہر گز واپس نہیں ہونا چاہیئے۔ اب تو ہم مسلم کا قصاص لیں گے ورنہ ان ہی کی طرح جان دیں گے‘ دوسرے یہ کہ حسین بن علی رضی اللہ عنھما مسلم بن عقیل کی طرح نہیں ہیں‘ ان کو جب کوفہ والے دیکھیں گے‘ تو ضرور ان کے شریک حال ہو جائیں گے‘ اور ابن زیاد کو گرفتار کر لیں گے۔ اس قافلہ میں کئی سو آدمی شامل تھے اور راستے میں لوگ شامل ہو ہو کر ان کی تعداد کو دم بدم بڑھاتے جاتے تھے‘ لیکن ثعلبیہ میں اس خبر کو سن کر جب قافلہ آگے بڑھا تو دوسرے قبائل کے لوگ بتدریج جدا ہونے شروع ہوئے‘ یہاں تک کہ خاص اپنے خاندان اور قبیلے کے لوگ باقی رہ گئے‘ جن کی تعداد ستر اسی کے قریب بیان کی جاتی ہے۔ بعض روایتوں میں ڈھائی سو کے قریب بیان کی گئی ہے۔