یزید بن معاویہ

مکہ ومدینہ کے واقعات

یزید نے جب عمرو بن سعد رضی اللہ عنہ کو مدینہ سے کوفہ کی جانب عبیداللہ بن زیاد کے پاس روانہ ہونے کا حکم دیا تو عمرو بن سعد کی جگہ پھر ولید بن عتبہ کو مدینہ کا عامل بنا کر بھیج دیا تھا‘ یہی ولید بن عتبہ عامل مدینہ تھا جس نے عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کی فرمائش سے ایک تحریر اس امر کی لکھ دی تھی کہ اگر سیدنا حسین مدینہ میں آجائیں تو ان کو امان ہے‘ یہ تحریر اپنے خط کے ساتھ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے پاس اپنے بیٹوں عون و محمد کے ہاتھ بھیجی تھی‘ جب کہ آپ کوفہ کو جارہے تھے‘ مکہ سے یزید کی حکومت اٹھ چکی تھی‘ وہاں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ حکمران تھے‘ جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کی خبر مکہ میں پہنچی‘ تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما نے لوگوں کو جمع کر کے ایک تقریر کی اور کہا کہ: ’’لوگو! دنیا میں عراق کے آدمیوں سے برے کہیں کے آدمی نہیں ہیں اور عراقیوں میں سب سے بدتر کوفی لوگ ہیں کہ انہوں نے بار بار خطوط بھیج کر باصرار سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان کی خلافت کے لیے بیعت کی‘ لیکن جب ابن زیاد کوفہ میں آیا تو اسی کے گرد ہو گئے۔ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو جو نماز گذار‘ روزہ دار‘ قرآن خوان اور ہر طرح مستحق خلافت تھے قتل کر دیا اور ذرا بھی اللہ تعالیٰ کا خوف نہ کیا‘‘۔ یہ کہہ کر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما رو پڑے‘ لوگوں نے کہا کہ اب آپ سے بڑھ کر کوئی مستحق خلافت نہیں ہے‘ آپ ہاتھ بڑھائیے ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتے اور آپ کو خلیفہ وقت مانتے ہیں‘ چنانچہ تمام اہل مکہ نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کے ہاتھ پر بیعت کی‘ بیعت خلافت کی یہ خبر یزید کو پہنچی تو اس نے چاندی کی ایک زنجیر بنوا کر دو آدمیوں کے ہاتھ ولید بن عتبہ کے پاس مدینہ میں بھیجی اور کہا کہ عبداللہ بن زبیر کے گلے میں یہ زنجیر ڈال کر اور مکہ سے گرفتار کر کے میرے پاس بھیجو‘ لیکن بعد میں وہ اپنی اس حرکت پر خود ہی متاسف ہوا‘ کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما آسانی سے اپنے گلے میں زنجیر ڈلوانے والے نہیں ہیں‘ چنانچہ ولید بن عتبہ نے اس حکم کی کوئی تعمیل نہیں کی‘ یزید بھی یہ سوچتا رہا کہ کس طرح عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کو قابو میں لایا جائے‘ اور خانہ کعبہ کی حرمت کو بھی کشت و خون سے نقصان نہ پہنچایا جائے‘ ماہ ذی الحجہ ۶۱ھ میں حج کے لیے مکہ میں اطراف و جوانب سے لوگ آنے شروع ہوئے‘ یزید کی طرف سے ولید بن عتبہ عامل مدینہ امیر حج ہو کر مکہ میں گیا‘ ادھر عبداللہ بن زبیر جدا امیر حج تھے‘ غرض دونوں نے جدا جدا اپنے گروہ کے ساتھ حج کیا اور کسی نے کسی کی مخالفت نہ کی‘ ولید بن عتبہ نے ایسی تدبیریں شروع کر دیں کہ کسی طرح عبداللہ بن زبیر کو گرفتار کر کے زید کی خوشنودی حاصل کر سکے‘ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما ولید کے ارادوں سے واقف ہو گئے‘ اور انہوں نے ایام حج کے بعد مطمئن ہو کر یزید کو ایک خط لکھا کہ: ’’ولید اگرچہ تیرا چچازاد بھائی ہے‘ لیکن بہت ہی بے وقوف ہے اور اپنی بے وقوفی سے کاموں کو تباہ کر رہا ہے‘ مناسب یہ ہے کہ کسی دوسرے کو عامل بنا‘‘۔ اس خط کے پڑھنے سے یزید بہت متاثر ہوا‘ اس نے سمجھا کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کا دل میری طرف سے صاف ہے اور وہ ہرگز میرے مخالف نہیں ہیں‘ اس سے پیشتر چوں کہ مروان بن حکم بھی ولید کی شکایت میں اس قسم کے الفاظ لکھ چکا تھا‘ اس لیے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کے خط کی نسبت یزید کو کسی بدگمانی کا موقع نہیں مل سکتا تھا‘ لہٰذا اس نے فوراً ولید بن عتبہ کو معزول کر کے اس جگہ اپنے دوسرے چچا زاد بھائی عثمان بن محمد بن ابی سفیان کو مدینہ کا حاکم بنا کر بھیج دیا۔ عثمان بن محمد نے مدینہ میں آکر مے خواری شروع کر دی‘ جس سے لوگ بہت ہی ناخوش ہوئے‘ عثمان محرم ۶۲ھ میں مدینہ کا عامل مقرر ہو کر آیا۔ چند روز کے بعد اس نے شرفائے مدینہ میں سے دس شخص انتخاب کر کے یزید کے پاس دمشق کی جانب بھیجے‘ اس وفد میں منذر بن زبیر اور عبداللہ بن حنظلہ‘ عبداللہ بن عمرو بن حفص بن مغیرہ بھی شامل تھے‘ یہ لوگ جب دمشق پہنچے تو یزید نے ان کی خوب خاطر مدارات کی اور اول الذکر دونوں شخصوں کو ایک ایک لاکھ اور باقی آٹھ شخصوں کو دس دس ہزار درہم انعام دے کر رخصت کیا‘ انہوں نے دمشق میں یزید کو بھی گانے بجانے کی محفلیں برپا کرتے اور خلاف شرع کاموں میں مصروف دیکھا تھا۔ واپسی میں سب نے ارادہ کیا کہ یزید کی خلافت کے خلاف کوشش کرنی چاہیئے‘ دمشق سے نو شخص تو مدینہ کی طرف واپس آئے تھے اور ایک شخص منذر بن زبیر کوفہ کی طرف چلے گئے تھے۔ کیوں کہ عبیداللہ بن زیاد اور منذر بن زبیر کے درمیان دوستی تھی۔ انہوں نے عبیداللہ کی ملاقات کے لیے کوفہ کا عزم کیا تھا‘ جب عبداللہ بن حنظلہ معہ ہمرائیوں کے مدینہ میں آئے تو لوگ حالات معلوم کرنے کی غرض سے ان کے گرد جمع ہو گئے۔ مدینہ میں پہنچ کر عبداللہ نے کہا کہ یزید ہر گز مستحق خلافت نہیں کیوں کہ وہ خلاف شرع کاموں میں مصروف دیکھا جاتا ہے‘ اس کے مسلمان ہونے میں بھی کلام ہے‘ اس سے تو مسلمانوں کو جہاد کرنا چاہیئے‘ اہل مدینہ نے کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ یزید نے آپ کو خوب انعام و اکرام دیا ہے‘ عبداللہ نے کہا کہ ہم نے اس لیے قبول کر لیا کہ ہم میں مقابلہ کی طاقت نہ تھی‘ ان باتوں کو سن کر لوگ یزید سے بے حد متنفر ہو گئے۔ عبداللہ بن حنظلہ نے تجویز پیش کی کہ یزید کو معزول کر دیا جائے‘ چنانچہ قریش نے عبداللہ بن مطیع اور انصار نے عبداللہ بن حنظلہ کو اپنا اپنا سردار منتخب کر کے یزید کی خلافت و حکومت کا انکار کر دیا۔ عثمان بن محمد بن مروان بن حکم اور تمام بنی امیہ جن کی تعداد مدینہ میں ایک ہزار کے قریب ہو گی یہ رنگ دیکھ کر کچھ تو مدینہ سے باہر چلے گئے‘ اور کچھ مروان بن حکم کی حویلی میں پناہ گزین ہوئے‘ اہل مدینہ نے تمام بنو امیہ کو جو ان کے ہاتھ آئے گرفتار و قید کر لیا‘ صرف مروان کے بیٹے عبدالملک کو جو سیدنا سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ فقیہ مدینہ کی خدمت میں ہمہ وقت موجود رہتا اور مسجد سے باہر کم نکلتا تھا اور بہت ہی عابد و زاہد اور نیک سمجھا جاتا تھا کچھ نہیں کہا۔ ان حالات کی اطلاع بنی امیہ نے یزید کے پاس دمشق پہنچائی‘ یزید نے فوراً ایک خط عبیداللہ بن زیاد کو لکھا کہ منذر بن زبیر رضی اللہ عنہ تمہارے پاس کوفہ میں گیا ہوا ہے فوراً اس کو گرفتار کر کے قید رکھو اور مدینہ کی طرف ہر گز نہ جانے دو۔ عبیداللہ بن زیاد چوں کہ یزید سے خوش نہ تھا کیوں کہ اس کی کوئی قدر دانی اور عزت افزائی قتل حسین رضی اللہ عنہ کے صلہ میں یزید نے نہیں کی تھی‘ لہٰذا اس نے فوراً منذر کو مدینہ کی طرف رخصت کر دیا اور یزید کو لکھ دیا کہ آپ کا خط آنے سے پہلے منذر مدینہ کی طرف روانہ ہو چکا تھا۔