یزید بن معاویہ
کعبہ پر سنگ باری
اگلے روز حصین بن نمیر نے کوہ ابو قبیس پر منجنیق نصب کر کے خانہ کعبہ پر سنگ باری شروع کر دی اور مکہ کا محاصرہ کر لیا‘ یہ محاصرہ و سنگ باری ۳ ماہ ربیع الاول ۶۴ھ تک جاری رہی‘ ۳ ربیع الاول کو شامیوں نے روئی اور گندھک اور رال کے گولے بنا بنا کر اور جلا جلا کر پھینکنے شروع کئے‘ جس سے خانہ کعبہ کا خلاف جل گیا اور دیواریں سیاہ ہو گئیں‘ دو منجنیق رات دن سنگ باری اور گولہ باری میں مصروف تھیں‘ مکہ والوں کے لیے گھر سے باہر نکلنا دشوار تھا‘ پتھروں کے صدمے سے خانہ کعبہ کی دیواریں شکستہ ہو گئیں تھیں اور چھت گر گئی تھی۔
اہل شام کے اس محاصرے نے بہت شدت اور سختی اختیار کی اور بعد کی امدادی فوج کے آجانے سے اہل شام کی کل تعداد پانچ ہزار تک پہنچ گئی تھی۔